| 87656 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں حضرات مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے دبئی میں ایک مکان خریدا، جس کی کل قیمت 20 لاکھ 80 ہزار درہم ہے،جس میں سے سات لاکھ 80 ہزار درہم میں نے ادا کر دیے، باقی 13 لاکھ درہم کا فرسٹ ابو ظہبی بینک کے اسلامی ڈیپارٹمنٹ سے معاہدہ کرنا چاہ رہا ہوں کہ وہ بینک سوسائٹی مالکان کو باقی ماندہ 13 لاکھ درہم ادا کر دے اور میں اقساط میں کچھ زیادہ رقم بینک کو واپس کروں گا ،بینک اس معاملے کو اجارہ کا نام دیتا ہے اور بینک کے معاہدے کی تفصیلات بھی منسلک کر رہا ہوں، برائے کرم رہنمائی فرمائیں کہ یہ معاملہ شرعی نقطہ نظر سے درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں مذکور تفصیلات سے یہ معلوم ہورہا ہے کہ آپ مکان خرید چکے ہیں،لہٰذا مکمل مکان آپ کی ملکیت میں آچکا ہے،نیزمکان کی قیمت کا بعض حصہ بھی آپ ادا کرچکے ہیں اور بقیہ حصے کی ادائیگی کے لیے آپ کو پیسوں کی ضرورت ہے،اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے آپ ابوظہبی بینک سے ہاؤس فائنانسنگ لینا چاہتے ہیں،تو اگر اس کی صورت یہ ہو کہ جتنی رقم کی آپ کو ضرورت ہے وہ رقم بینک آپ کو اس طور پر دے کہ بینک آپ سے آپ کے مکان کا بعض حصہ مذکورہ رقم کے عوض باقاعدہ خرید لے،پھر وہ حصہ آپ کو کرایے پر دے دے،جب بینک اپنا مطلوبہ نفع اور اصل رقم،کرایے کی مد میں وصول کرچکے تو بینک اپنا حصہ آپ کو آپس میں طے شدہ کسی قیمت پر باقاعدہ بیچےیا ہبہ یعنی گفٹ کرے تو یہ معاملہ شرعاً درست ہوگا۔(یاد رہے آپ کی طرف سے بینک سے دوبارہ خریداری کی صورت میں ایک معتد بہ وقت کا گزرنا ضروری ہے،یعنی اتنے وقت کا گزرنا ضروری ہے جس میں پراپرٹی کی قیمتوں میں معتد بہ فرق آجاتا ہو۔)
آپ نے جو دستاویزات شیئر کی ہیں،ان میں اجارہ منتہیہ بالتملیک کا ذکر ہے،لیکن مکمل پروڈکٹ اورطریقہ کارکا ذکر نہیں ہے۔ بینک کے تناظر میں اجارہ منتہیہ بالتملیک کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ بینک اپنا کوئی اثاثہ گاہک کو اجارے یعنی کرایے پر دیتا ہے،پھر بینک اصل رقم اور نفع، کرایے کی صورت میں گاہک سے وصول کرتا رہتا ہے،جب اصل رقم اور نفع وصول ہوجاتے ہیں تو بینک،ہبہ یعنی گفٹ کی صورت میں یا باقاعدہ عقد خرید وفروخت کے ذریعے گاہک کو اس اثاثے کا مالک بنادیتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جواب میں جو تفصیل ذکر کی گئی ہے،اگر آپ کا معاملہ بینک سے اس کے مطابق ہو رہا ہے تو یہ معاملہ شرعاً درست ہےاور اگر اس کے علاوہ کسی اور طریقہ کار کے مطابق آپ کا معاملہ بینک سےہورہا ہے تو آپ مکمل معاملہ بینک کے نمائندے سے سمجھ کر،اس کی تفصیل لکھ کر اور مذکورہ پراڈکٹ کے شریعہ سرٹیفیکٹ کے ساتھ دوبارہ دارالافتاء بھیج کر حکم معلوم کرلیں۔
حوالہ جات
مجلة مجمع الفقه الإسلامي (12/ 231)
أما هيئة المحاسبة والمراجعة للمؤسسات المالية الإسلامية فقد آثرت تعريف الإجارة المنتهية بالتمليك من خلال تعداد حالاتها العملية، وهي:
(أ)الإجارة المنتهية بالتمليك عن طريق الهبة .
(ب)الإجارة المنتهية بالتمليك عن طريق البيع بثمن رمزي أو غير رمزي يحدد في العقد.
(ج) الإجارة المنتهية بالتمليك عن طريق البيع قبل انتهاء مدة عقد الإجارة بثمن يعادل باقي أقساط الأجرة.
(د) الإجارة المنتهية بالتمليك عن طريق البيع التدريجي.
ويمكن إضافة حالة خامسة هي:
(هـ) الإجارة المبتدئة بالتمليك ، وتنتقل فيها ملكية العين بعقد بيع في أول مدة الإجارة مقابل الدفعة النقدية المقدمة مع استثناء منافع العين من البيع لمدة الإجارة، ثم تباع هذه المنافع لمشتري العين نفسه بعقد إجارة للمدة المعلومة.
وفي جميع هذه الحالات يكون نقل الملكية ملزماً ومطلوباً للطرفين، فهو من مقصود العقد نفسه.
[المعیار الشرعی ،رقم(۹)الإجارة والإجارة المنتهية بالتمليك]
تمليك العين المؤجرة في الإجارة المنتهية بالتمليك:
۸/۱ يجب في الإجارة المنتهية بالتمليك تحديد طريقة تمليك العين للمستأجر ويتم ذلك بوثيقة مستقلة عن عقد الإجارة، ويكون بإحدى الطرق الآتية:
۸/۱/۱ وعد بالبيع بثمن رمزي، أو بثمن حقيقي، أو وعد بالبيع في أثناء مدة الإجارة بأجرة المدة الباقية، أو بسعر السوق.
۸/۱/۲ وعد بالهبة.
۸/۱/۳ عقد هبة معلق على شرط سداد الأقساط.
وفي حالات إصدار وعد بالهبة أو وعد بالبيع أو عقد هبة معلق بمستندات مستقلة لا يجوز أن يذكر أنها جزء لا يتجزأ من عقد الإجارة المنتهية بالتمليك.
۸/۵ إذا كانت العين المؤجرة مشتراة من المستأجر قبل إجارتها إليه إجارة منتهية بالتمليك فلا بد لتجنب عقد العينة من مضي مدة تتغير فيها العين المؤجرة أو قيمتها ما بين عقد الإجارة وموعد بيعها إلى المستأجر. ويسري ذلك على حالة التملك المبكر للعين بإبرام عقد بيع خلال مدة الإجارة وينظر البند (۱۷).
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
27.ذوالقعدہ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


