| 87521 | طلاق کے احکام | صریح طلاق کابیان |
سوال
کچھ دن پہلے میں نے غصے میں، گواہوں کی موجودگی میں، اپنی بیوی سے یوں کہا: "اگر آج رات 12 بجے تک تیرے گھر والے نہ لے گئے، تو تجھے طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے۔" میری نیت طلاق دینے کی ہرگز نہ تھی، بلکہ غصے میں شرط رکھی، مجھے یقین تھا کہ اس کے گھر والے آ جائیں گے، اس لیے میں نے یہ بات کہی۔ بعد میں جب رات 12 بجے قریب آنے لگے، تو میں نے اپنی بیوی سے خود کہا: "میرا طلاق دینے کا ارادہ نہیں تھا، میں اپنی شرط واپس لیتا ہوں، تجھے طلاق نہیں ہے، طلاق نہیں ہے، طلاق نہیں ہے۔" تاہم 12 بجے تک اس کے گھر والے نہ آئے تھے، اب میں بہت پریشان ہوں، میرا دل کہتا ہے کہ میں نے دل سے طلاق نہیں دی، لیکن الفاظ واضح تھے۔ کچھ علماء کہتے ہیں کہ شرط ختم کرنے سے طلاق نہیں ہوتی، اور کچھ کہتے ہیں ہو جاتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ مجھے شرعی طور پر بتایا جائے:
1. کیا میری بیوی کو تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں؟
2. اگر ہاں، تو کیا ہمارا نکاح مکمل ختم ہو چکا ہے؟
3. اگر طلاق واقع ہو چکی ہے تو کیا تجدید نکاح ممکن ہے؟
4۔ اگر طلاق یقینی نہیں اور شک کی بنیاد ہو تو کیا فتویٰ تجدید نکاح کی اجازت دیتا ہے؟ براہِ کرم تفصیلی اور تحریری فتویٰ عطا فرما کر رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یہ کہنا کہ اگرفلاں کام کیا توطلاق ہے،یہ قسم کی طرح ہے،اسےواپس نہیں لیاجاسکتا،لہذا صورت مذکورہ میں شرط کے پائے جانے سے بیوی کو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ،اس لئے دوبارہ نکاح یا رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔عورت طلاق کے بعد عدت شوہر کے گھر میں گزارے ، اس دوران شوہر سے پردے میں رہے ۔عدت کے بعد شوہر کے ساتھ رہنا شرعا جائز نہیں ہے، اس لئے خاتون فورا والدین کے گھر منتقل ہو جائے۔
حوالہ جات
«المبسوط» للسرخسي (6/ 2):
«وموجب الطلاق في الشريعة رفع الحل الذي به صارت المرأة محلا للنكاح إذا تم العدد ثلاثا كما قال الله تعالى {فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ويوجب زوال الملك باعتبار سقوط اليد عند انقضاء العدة في المدخول بها وانعدام العدة عند عدم الدخول والاعتياض عند الخلع.»
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 361)
ماخلا الطلاق، والعتاق لأنهما مما يتعلقان بالشرط، والإخطار بمنزلة اليمين ولا رجوع عن اليمين
زاہد خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
16/ذی قعدہ 1446
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زاہد خان بن نظام الدین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


