03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق طلاق طلاق کہنےکا حکم
87641طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میرے چچازاد بھائیوں کے درمیان کچھ آپس کے معاملات کی وجہ سے تنازع تھا۔ اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے گھر کے افراد جمع ہوئے۔ ان افراد میں ان کی والدہ محترمہ، چاروں چچازاد بھائی، بڑے بہنوئی اور چچا جان شامل تھے۔ سب لوگ گھر کے ایک کمرے میں بیٹھ کر باہم گفتگو کرنے لگے۔ اس میں ہر بھائی نے اپنا اپنا مدعا پیش کیا۔

اسی گھریلو جرگے کے دوران آپس میں بحث و مباحثہ ہو گیا۔ ایک بھائی نے کہا: "آپ کی شادی میں نے کروائی تھی، اس کا مکمل خرچ میں نے اٹھایا تھا۔" دوسرے بھائی نے خلافِ توقع کہا: "میں طلاق بھی دے دوں گا!" پہلے بھائی نے جواب دیا: "اگر تو طلاق دے گا تو پھر کیا ہو جائے گا؟"دوسرے بھائی نےاگلےہی  چند  سیکنڈ کے بعدلفظ "طلاق" پوری شدت سے اور تسلسل کے ساتھ دہرایا اور یہ کہتے ہوئے باہر چلا گیا۔اب جب اس سے پوچھا جا رہا ہے کہ یہ الفاظ آپ نے کیوں کہے جبکہ ان الفاظ کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی؟ یہ مسئلہ تو ہم وہاں زیرِ بحث ہی نہیں لا رہے تھے۔ آپ نے یہ کیوں کیا؟ اب نہ اس کے پاس اس کا کوئی واضح جواب ہے، نہ ہی اس کے پاس علم ہے، نہ وہ اپنی اس کیفیت کو الفاظ میں ظاہر کر سکتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے وہ مبہم انداز میں اظہار کر رہا ہے کہ ان الفاظ سے اس کا مقصد اہلِ مجلس کو دھمکانا تھا، نہ کہ طلاق دینا۔اس نے جو صریح الفاظ استعمال کیے، ان سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اہلِ مجلس ہی کو ڈرا دھمکا کر احتجاجاً باہر چلا گیا۔ کیونکہ اس دوران نہ تو اس کی بیوی کمرے میں موجود تھی، اور نہ ہی میاں بیوی کے درمیان پہلے کوئی تنازع تھا۔وہ اہلِ مجلس ہی کو نشانہ بناتے ہوئے احتجاجاً اور دھمکی کے طور پر چلاتا ہوا چلا گیا۔ اس صورتِ مسئولہ میں جب اس سے پوچھا گیا کہ آپ کے دل کی کیفیت کیا تھی؟ اگر آپ سچ بیان کر رہے ہیں تو ہم آپ سے حلف لیں گے۔تو اس نے کہا: "میں حلف دینے کے لیے تیار ہوں۔ میں نے جو الفاظ کہے وہ بے اختیاری میں کہے۔ مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ میں کیا کہہ رہا تھا۔"اب اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ اس کے دل کی کیفیت کیا تھی، یا اس کا اصل ارادہ کیا تھا۔ یا اب وہ شرمندگی، ندامت یا ممکنہ تباہی کو دیکھتے ہوئے اپنا بچاؤ چاہتا ہے، اس لیے حلف دینے کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ یا حساب و کتاب، مالی بوجھ یا گھریلو حالات کی وجہ سے گھبرا کر ایسا کر رہا ہے۔ یا پھر وہ الفاظ جذبات میں آ کر کہہ دیے تھے۔ کیونکہ نہ تو میاں بیوی کے بارے میں کوئی بات ہو رہی تھی، اور نہ ہی اس وقت کوئی خاص بات ہوئی تھی۔اب وہ حالت یہ ہے کہ وہ حلف دینے کے لیے تیار ہے کہ "میرا مقصد ہرگز طلاق دینا نہیں تھا۔"اس پوری صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سوال کا شرعی جواب درکار ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ طلاق کے صریح الفاظ میں نیت کا ہونا یا بیوی کی طرف صریح نسبت کا ہونا ضروری نہیں ہے۔

سوال میں مذکور صورت حال کے مطابق،مذکوربھائی کا اپنے بھائی کے ساتھ بحث و مباحثہ ہوا، جس میں اس نے اپنی بیوی کو صریح الفاظ میں طلاق کی دھمکی دی۔ پھر اس کے چند سیکنڈ کے اندر ہی اس نے صریح الفاظ میں "طلاق کالفظ پوری شدت سے اور تسلسل کے ساتھ دہرایا اور یہ کہتے ہوئے باہر چلاگیا۔ لہٰذا اگر اس نے یہ الفاظ تین یا اس سے زیادہ مرتبہ کہے ہیں تو ان الفاظ سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہو گئی ہے، کیونکہ یہ الفاظ بیوی کو طلاق دینے کے لیے بالکل صریح ہیں، اور ان میں نیت کا پایا جانا ضروری نہیں ہوتا۔

نیز، طلاق دینے میں بیوی کی طرف صریح طور پر نسبت کرنا بھی ضروری نہیں، بلکہ اگر معنوی طور پر بھی نسبت پائی جائے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ مذکورہ واقعے کے سیاق و سباق اور قرائن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ طلاق کی نسبت معنوی طور پراس کی بیوی ہی کی طرف ہے، کیونکہ چند لمحے پہلے ہی وہ  طلاق دینے کی دھمکی دے رہے تھے۔ لہٰذا طلاق کے معتبر ہونے میں اتنی نسبت کافی ہے۔

اس بنا پر مذکوربھائی کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور حرمتِ مغلّظہ ثابت ہو گئی ہے۔ اب نہ تو رجوع ممکن ہے اور نہ ہی بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح جائز ہے۔

حوالہ جات

رد المحتار: (248/3، ط: دار الفکر)

وَلَا يَلْزَمُ كَوْنُ الْإِضَافَةِ صَرِيحَةً فِي كَلَامِهِ؛ لِمَا فِي الْبَحْرِ لَوْ قَالَ: طَالِقٌ فَقِيلَ لَهُ مَنْ عَنَيْت؟ فَقَالَ امْرَأَتِي طَلُقَتْ امْرَأَتُهُ. اه. عَلَى أَنَّهُ فِي الْقُنْيَةِ قَالَ عَازِيًا إلَى الْبُرْهَانِ صَاحِبِ الْمُحِيطِ: رَجُلٌ دَعَتْهُ جَمَاعَةٌ إلَى شُرْبِ الْخَمْرِ فَقَالَ: إنِّي حَلَفْت بِالطَّلَاقِ أَنِّي لَا أَشْرَبُ وَكَانَ كَاذِبًا فِيهِ ثُمَّ شَرِبَ طَلُقَتْ. ... الْعَادَةَ أَنَّ مَنْ لَهُ امْرَأَةٌ إنَّمَا يَحْلِفُ بِطَلَاقِهَا لَا بِطَلَاقِ غَيْرِهَا،فَقَوْلُهُ إنِّي حَلَفْت بِالطَّلَاقِ يَنْصَرِفُ إلَيْهَا مَا لَمْ يُرِدْ غَيْرَهَا لِأَنَّهُ يَحْتَمِلُهُ كَلَامُهُ، بِخِلَافِ مَا لَوْ ذَكَرَ اسْمَهَا أَوْ اسْمَ أَبِيهَا أَوْ أُمَّهَا أَوْ وَلَدَهَا فَقَالَ: عَمْرَةُ طَالِقٌ أَوْ بِنْتُ فُلَانٍ أَوْ بِنْتُ فُلَانَةَ أَوْ أُمُّ فُلَانٍ، فَقَدْ صَرَّحُوا بِأَنَّهَا تَطْلُقُ، وَأَنَّهُ لَوْ قَالَ: لَمْ أَعْنِ امْرَأَتِي لَا يُصَدَّقُ قَضَاءً إذَا كَانَتْ امْرَأَتُهُ كَمَا وَصَفَ كَمَا سَيَأْتِي قُبَيْلَ الْكِنَايَاتِ وَسَيَذْكُرُ قَرِيبًا أَنَّ مِنْ الْأَلْفَاظِ الْمُسْتَعْمَلَةِ: الطَّلَاقُ يَلْزَمُنِي، وَالْحَرَامُ يَلْزَمُنِي، وَعَلَيَّ الطَّلَاقُ، وَعَلَيَّ الْحَرَامُ، فَيَقَعُ بِلَا نِيَّةٍ لِلْعُرْفِ إلَخْ. فَأَوْقَعُوا بِهِ الطَّلَاقَ مَعَ أَنَّهُ لَيْسَ فِيهِ إضَافَةُ الطَّلَاقِ إلَيْهَا صَرِيحًا، فَهَذَا مُؤَيِّدٌ لِمَا فِي الْقُنْيَةِ، وَظَاهِرُهُ أَنَّهُ لَا يُصَدَّقُ فِي أَنَّهُ لَمْ يُرِدْ امْرَأَتَهُ لِلْعُرْفِ، وَاَللَّهُ أَعْلَمُ (قَوْلُهُ وَمَا بِمَعْنَاهَا مِنْ الصَّرِيحِ) أَيْ مِثْلُ مَا سَيَذْكُرُهُ مِنْ نَحْوِ: كُونِي طَالِقًا وَاطَّلَّقِي وَيَا مُطَلَّقَةُ بِالتَّشْدِيدِ، وَكَذَا الْمُضَارِعُ إذَا غَلَبَ فِي الْحَالِ مِثْلُ أُطَلِّقُك كَمَا فِي الْبَحْرِ. قُلْت: وَمِنْهُ فِي عُرْفِ زَمَانِنَا: تَكُونِي طَالِقًا، وَمِنْهُ: خُذِي طَلَاقَك فَقَالَتْ أَخَذْت، فَقَدْ صَرَّحَ الْوُقُوعَ بِهِ بِلَا اشْتِرَاطِ نِيَّةٍ كَمَا فِي الْفَتْحِ، وَكَذَالَايُشْتَرَطُ قَوْلُهَا أَخَذْت كَمَا فِي الْبَحْرِ.

حاشية ابن عابدين (3/ 250) :

الصريح لا يحتاج إلى النية ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله كما أفاده في الفتح وحققه في النهر.

بدائع الصنائع (3/ 98):

فصل: وأما بيان ركن الطلاق فركن الطلاق هو اللفظ الذي جعل دلالةً على معنى الطلاق لغةً.

الفتاوى الهندية (1 / 473):

"وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية".

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

27/11/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب