03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کے باربار نماز کی طرف متوجہ کرنے پر شوہر کا نماز پڑھنے سے انکار کرنا
87658ایمان وعقائدکفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان

سوال

اگر بیوی شوہر کو بار بار نماز کے لیے کہے اور شوہر غصے میں کہے: "اب تو نہیں پڑھوں گا"یا"نماز نہیں پڑھنی"تو کیا یہ جملے کفریہ شمار ہوں گے؟کیا ان کی وجہ  سے ایمان یا نکاح پر کوئی اثر پڑتا ہے؟براہ کرم راہنمائی فرمادیں ،کیونکہ نازک معاملہ ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نماز  پڑھنے سے انکار کرنا سخت گناہ ہے، اس پر سچے دل سے توبہ واستغفار لازم ہے، لیکن مطلقاً نماز پڑھنے سے انکار کرنے والا کافر نہیں ہو جاتا، اور نہ ہی اس کا نکاح ٹوٹتا ہے،البتہ نماز کی فرضیت کا انکار کرنے والا کافر ہوجاتا ہےاور اس کا نکاح ختم ہوجاتا ہے۔

لہذا آپ کے شوہر کا یوں نماز پڑھنے سے انکار کرنا بلاشبہ گناہ کبیرہ ہے،لیکن اس کی وجہ سے وہ دائرہ اسلام سے خارج  نہیں ہوئے،ان پر لازم ہے کہ اپنی اس روش سے باز آئیں اور بحیثیت مسلمان ہونے کےنمازوں کوازخود وقت پر پڑھنے کا  اہتمام کریں۔

تاہم آپ کوبھی  چاہیے کہ حکمت  اور مصلحت کے ساتھ موقع محل دیکھتے ہوئے نصیحت کریں،  نیک کام کی طرف متوجہ کرنے کے بعد اگر خدشہ  ہو کہ سامنے والے کا ردِّ عمل مثبت نہیں ہوگا، تو اس وقت خاموش ہوجانا چاہیے، اللہ تعالیٰ سے ایسے شخص کی ہدایت کی دعا بھی کرنی چاہیے اور بعد میں مناسب موقع دیکھ کر سمجھانا چاہیے۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية "(17/ 186):

 ( ومنها ) ما يتعلق بالصلاة والصوم والزكاة لو قال لمريض صل ، فقال : وﷲ لا أصلي أبدا ، ولم يصل حتى مات يكفر .

"وقول الرجل :"لا أصلي" يحتمل أربعة أوجه : أحدها : لا أصلي؛ لأني صليت ، والثاني : لا أصلي بأمرك ، فقد أمرني بها من هو خير منك ، والثالث : لا أصلي فسقا مجانة ، فهذه الثلاثة ليست بكفر.

والرابع : لا أصلي إذ ليس يجب علي الصلاة ، ولم أؤمر بها ،يكفر ، ولو أطلق وقال : لا أصلي ،لا يكفر لاحتمال هذه الوجوه".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

27/ذی قعدہ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب