03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غصے کی حالت میں بیوی سے “چلی جاؤ، فارغ ہو،فارغ ہو ،تم دفع ہوجاؤ” کہنا
87659طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میں نے  آپ سے طلاق سے متعلق مسئلہ پوچھنا ہےکہ ایک شخص کی دو بیویاں ہیں، دوسری بیوی شوہر سے فون پر بول رہی تھی کہ اس کی کال یا میسج کا پہلی بیوی کے گھر میں جواب کیوں نہیں دیا ؟جبکہ دوسری بیوی کے گھر تو پہلی کے میسجز  کے جواب دیتے ہیں اور یہ کہ جب شوہر دوسری  بیوی کے گھر ہو توپہلی بیوی  کیوں کال کرتی ہے، جبکہ دوسری وہاں کال کرے تو اس پر غصہ ہوتے ہیں کہ وہاں کیوں کال کرتی ہو۔

شوہر بھی بحث کر رہا تھا اور غصے میں باتوں کے دوران دھمکی دے رہا تھا کہ میں تمہیں فارغ کر دوں گا،پھر دوسری بیوی بولی کہ پچھلے جمعہ جب آپ یہاں گھر پر تھے تو پہلی نے 11:30 بجے کیوں کال کی تھی، جبکہ چھٹی تھی؟جس پر شوہر نے دوسری بیوی کو یہ الفاظ بولے کہ تم فارغ ہو اپنے باپ بھائیوں کے گھر جانےکے لئے ،اس کے بعد دونوں خاموش ہوگئے اور  کام کی بات کی، کیونکہ بیوی کو اس دن کچھ ٹیسٹ کرانے کیلئے جانا تھا۔

بعد میں جب شوہر دوسری بیوی  کے گھر تھا تو اس نے شوہر سے  پوچھا کہ آپ نے وہ جملہ(   فارغ ہو اپنےباپ بھائیوں کے گھر جانے کےلئے)کس نیت سے بولا تھا ؟ شوہر نے جواب دیا کہ  مجھے معلوم ہے میں نے کیا بولا ہے،ان الفاظ سے میری طلاق کی نیت نہیں تھی ،پوچھنا یہ تھا کہ کیا مذکورہ صورت میں کوئی طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ برائے مہربانی وضاحت کر دیں۔

دوسرے دن صبح پھر میاں بیوی کی اس بات پر تکرار ہوئی کہ پہلی بیوی کو دوسری بیوی کی باتیں کیوں بتاتے ہیں؟ تو شوہر نے دوسری بیوی کو بولا کہ اگر تم سے برداشت نہیں ہو رہا تو مت کرو برداشت، چلی جاؤ، فارغ ہو،فارغ ہو، تم دفع ہو جاؤ اور سو گیا۔

جب شوہر اٹھا اور جانے لگا تو بیوی نے اس سےپوچھا کہ فارغ ہو آپ نے کس نیت سے بولا تھا؟ تب بھی شوہر نے یہی کہا کہ طلاق دینےکی نیت نہیں تھی ،طلاق دوں گا تو واضح الفاظ میں دوں گا۔

برائے مہربانی وضاحت فرمادیں کہ کیا ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع ہوئی، جبکہ شوہر کا کہنا ہے کہ اس کی طلاق دینے کی  نیت نہیں تھی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

لفظ "فارغ "کا تعلق کنایہ الفاظ کی اس قسم سےہے جس میں صرف طلاق بننے کی صلاحیت ہے اور قرینے کی موجودگی کی صورت میں ایسے الفاظ سے بغیر نیت کے بھی بائن طلاق  واقع ہوجاتی ہے،جبکہ "چلی جاؤ اور دفع ہوجاؤ" ان کنایہ الفاظ کی قبیل سے ہیں جن سے کسی حالت میں بھی نیت کے بغیر طلاق واقع نہیں ہوتی ۔)احسن الفتاوی(188/5:

نیز صریح طلاق کے بعد دوسری طلاق واقع ہوجاتی ہے،چاہے دوسری طلاق صریح لفظ کے ذریعے دی جائے یا کنایہ لفظ کے ذریعے،جبکہ بائن طلاق کے بعد دوسری طلاق صرف صریح الفاظ کی صورت میں لاحق ہوتی ہے،کنایہ لفظ کی صورت میں نہیں،کیونکہ بائن کے بعد کنایہ لفظ استعمال کرنے کی صورت میں دوسرے لفظ کو اخبار عن الاول(پہلی طلاق کی خبر) قرار دینا ممکن ہوتاہے،اس لیے اسے اخبار پر ہی محمول کیا جاتاہے۔

مذکورہ صورت میں شوہر نےکئی جملے بولے ہیں،ان میں سے پہلے جملے(تم فارغ ہواپنے باپ بھائیوں کے گھر جانے کے لئے) میں تو اس کی عدم طلاق کی نیت معتبر ہوگی،کیونکہ اس میں اس نے باپ بھائیوں کے گھر جانے کے لئے فارغ ہونے کی تصریح کی ہے،جس کی وجہ سے اس کی عدم طلاق کی نیت کو خلاف ظاہر نہیں قرار دیا جاسکتا،البتہ اگلے دن صبح اس نے بیوی سے جو جملے بولے ہیں ان میں سے" فارغ ہو،فارغ ہو "سے ایک بائن طلاق واقع ہوگئی ہے،کیونکہ یہاں ایسا کوئی قرینہ موجود نہیں جس کی وجہ سے شوہر کی نیت کی تصدیق کی جاسکے،بلکہ اس کے برعکس طلاق کی نیت کا قرینہ ( حالت غضب) موجود ہے۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (3/ 301):

"(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو؛ لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية؛ لأنها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة".

قال ابن عابدین رحمہ اللہ ": (قوله توقف الأولان) أي ما يصلح ردا وجوابا وما يصلح سبا وجوابا ولا يتوقف ما يتعين للجواب......

والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية".

"رد المحتار" (3/ 308):

"(قوله :لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية ؛لأنه هو الذي ليس ظاهرا في إنشاء الطلاق كذا في الفتح، وقيد بقوله:" الذي لا يلحق "إشارة إلى أن البائن الموقع أولا أعم من كونه بلفظ الكناية أو بلفظ الصريح المفيد للبينونة كالطلاق على مال، وحينئذ فيكون المراد بالصريح في الجملة الثانية أعني قولهم" فالبائن يلحق الصريح لا البائن "هو الصريح الرجعي فقط دون الصريح البائن".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

27/ذی قعدہ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب