| 87695 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | ملازمت کے احکام |
سوال
ایک ادارے کی پالیسی کے مطابق -1: جب بھی کوئی ملازم ادارے سے استعفیٰ دینا چاہے تو اس کے لیے مدت اطلاع / نوٹس پیریڈ ایک ماہ ہے۔یعنی وہ کم از کم ایک ماہ پہلے اطلاع دینے کا پابند ہے۔
2۔ ادارہ استعفیٰ دینے والے ملازم کی آخری سے پہلے والے مہینے کی آدھی تنخو اہ روک لیتا ہے اور اسے آخری مہینے کی تنخواہ کے ساتھ ادا کرتا ہے۔
3- اگر ملازم آخری مہینے ( مدت اطلاع میں ) کام نہ کرے اور فوری رخصت چاہے تو اس کی تنخواہ میں سے دس فیصد کٹوتی کی جائے گی۔اب معلوم یہ کرنا ہے کہ :کیا ادارے کی یہ شرائط شریعت کے مطابق درست ہیں ؟
ملازم اور ادارے کے درمیان معاہدے کی بنیاد پر ایسی شرائط لاگو کرنا جائز ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
-1,2اگر ابتداء میں ملازم اور ادارے کے درمیان معاہدہ ہوجائے کہ ملازم جب ملازمت چھوڑ کر جائے گا تو ایک ماہ قبل ادارے کو اطلاع دے گا، تاکہ ادارہ اپنے لئے متبادل کا بندوبست کرسکے ،ایسی شرط لگانا اور معاہدہ کرناجائزہے۔
-3ملازم نے جتنے دن کام کیا ہوا اتنے دن کی تنخواہ ادارے پرملازم کو دینا شرعاً لازم ہے،لہذا کسی ملازم کا معاوضہ اس وجہ سے روکنا کہ وہ مہینے سے پہلے چھوڑ کر جا نہ سکے، شرعاً جائز نہیں ہے۔اگرچہ ملازم بغیر عذر کے مقررہ شرائط کی خلاف ورزی کی وجہ سے گنہگارہوگا۔
اس کی جائز صورت یہ ہے کہ معاہدہ کے وقت کمپنی یہ شرط لگائے کہ ملازم کے ایک ماہ پیشگی اطلاع نہ دینے کی صورت میں ملازم کو ایک ماہ اضافی کام کرنا ہوگا، خواہ وہ خود کرے یا کسی کے ذریعہ کروائے،اس صورت میں گزشتہ ملازم کو اس مہینے کی پوری تنخواہ دینا لازم ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ اجارہ کاعقد کرتے وقت یہ بات طے کی جائے کہ اگرملازم ادارہ چھوڑنے کی صورت میں معاہدے کے مطابق ایک ماہ پہلے اطلاع دے گا تو اس کی سالانہ اجرت اتنی (تنخواہ کی جو سالانہ مقدار بنتی ہو) ہوگی،اور اگر معاہدے کے مطابق ادارہ چھوڑنے سے پہلے اطلاع نہیں دے گا تو اس کی سالانہ اجرت اتنی (ادارہ اصل اجرت میں جتنی کمی کرنا چاہتا ہے، وہ) ہوگی تو یہ تردید اجرت ہے اور اجارہ میں اجرت کی تردید جائز ہے،بشرطیکہ اس کی کوئی معقول وجہ ہو۔ اس طرح اجرت کی تردید کے بعد معاہدے کے مطابق کام کرنے کی صورت میں بننے والی سالانہ اجرت کو مہینوں پر تقسیم کر کے ملازم کو اس میں سے ہر ماہ اتنی اجرت دی جائے جو معاہدے کے مطابق کام نہ کرنے کے نتیجے میں بنتی ہو، باقی کو روک لیا جائے،مثلا ملازم کی تنخواہ تیس ہزار ماہانہ ہو ،جبکہ پیشگی اطلاع نہ دینے کی وجہ سے ادارہ ایک مہینے کی تنخواہ کاٹنا چاہتا ہو ،تو ادارہ ملازم کو 27500روپے دیا کرے ۔ پھر اگر ملازم سال کے درمیان میں ادارہ چھوڑنے کی صورت میں معاہدے کے مطابق پہلے سے اطلاع دیتا ہے تو اس کی پوری رقم اس کو واپس کی جائے؛ کیونکہ اس صورت میں وہ پہلی تنخواہ کا مستحق ہوگا، لیکن اگر وہ معاہدے کی خلاف ورزی کر کے عذرِ شرعی کے بغیر سال کے درمیان میں جاتا ہے اور جانے سے پہلے بر وقت اطلاع نہیں دیتا تو وہ رقم اس کو دینا ادارہ کے ذمہ لازم نہیں؛ کیونکہ اس صورت میں وہ دوسری تنخواہ کا مستحق ہوگا جو اس کو مکمل دی جاچکی ہوگی۔(مستفادمن تبویب بتغییر: 81330)
حوالہ جات
سنن ابن ماجه (2/ 817 ت عبد الباقي):
عن عبد الله بن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أعطوا الأجير أجره، قبل أن يجف عرقه».
مجلة الأحكام العدلية (ص: 81):
(المادة 425) : الأجير يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشرط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذا امتنع لا يستحق الأجرة.
الأشباه والنظائر - ابن نجيم (ص72):القاعدة الخامسة: الضرر يزال .
المجلة (ص: 95):
المادة 506 : يصح ترديد الأجرة على صورتين أو ثلاث في العمل والعامل والحمل والمسافة والزمان والمكان ويلزم إعطاء الأجرة على موجب الصورة التي تظهر فعلا... ولو استؤجر حانوت بشرط أنه إن أجرى فيه عمل العطارة فأجرته كذا وإن أجرى فيه عمل الحدادة فكذا، فأي العملين أجرى فيه يعطي أجرته التي شرطت.... وكذلك لو ساوم أحد الخياط على أن يخيط له جبة بشرط إن خاطها اليوم فله كذا، وإن خاطها غدا فله كذا، تعتبر الشروط.
درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 492):
يجوز الترديد في العمل اتفاقا؛ لأنه خيره بين عقدين صحيحين مختلفين، والأجر قد يجب بالعمل، وعند العمل يرتفع الجهل ( مجمع الأنهر )۔
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
27/ذی قعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


