| 87751 | تصوف و سلوک سے متعلق مسائل کا بیان | معجزات اور کرامات کا بیان |
سوال
سوال یہ ہے کہ میں اکثر جب کسی گناہ میں مبتلا ہوتا ہوں خاص طور پر شہوت کے گناہ میں خود اپنی خواہش پوری کرتا ہوں، تو کچھ ہی دیر بعدیعنی ایک یا دو گھنٹوں میں یا صبح سے شام کے دوران کوئی بری خبر سننے کو ملتی ہے۔ کبھی گھر کی خواتین بیمار ہو جاتی ہیں، کبھی میرے یا کسی اور کفیل کے رزق میں رکاوٹ آ جاتی ہے، یا کوئی مالی نقصان یا حادثہ پیش آ جاتا ہے۔اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ میں گناہ کے بعد ذہنی طور پر اس انتظار میں ہوتا ہوں کہ اب اس کا نتیجہ کیا نکلے گا، اور پھر واقعی تھوڑی ہی دیر میں اندازہ ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے میں بہت پریشان ہوں۔
الحمدللہ میرے دینی معمولات بھی جاری ہیں، لیکن جب کبھی گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہوں تو یہ سب کچھ پیش آ جاتا ہے۔ کیا یہ اللہ کی طرف سے تنبیہ ہے؟ کوئی اشارہ ہے یا صرف میری اپنی نفسیات کا اثر ہے؟
براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں اور یہ بھی بتائیں کہ اگر میرے دینی معمولات پورے ہیں تو پھر گناہ میں پڑنا میرے ان معمولات پر اثر انداز ہو رہا ہے، کیا میرے اعمال قبول نہیں ہو رہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ دنیا میں پیش آنے والے حالات انسان کے اعمال سے جڑے ہوتے ہیں۔ قرآن و حدیث سے یہ بات واضح ہے کہ انسان کے اعمال کے مطابق حالات آتے ہیں۔ خوشی و غمی، صحت و بیماری اور فائدہ و نقصان انسان کے نیک یا بد اعمال کے نتیجے میں بھی پیش آسکتےہیں۔
ایسے واقعات دراصل اللہ کی طرف سے تنبیہ ہوتے ہیں، تاکہ انسان جاگ جائے اور اپنے اعمال کی اصلاح کرے ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا: (مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِّنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثیٰ وَھوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً) ترجمہ: "جو کوئی نیک کام کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ ایمان والا ہو تو ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے۔"
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ نیکی پُرسکون زندگی کا سبب ہے،چنانچہ دو چیزوں (ایمان اور اعمال صالحہ) کے موجود ہونے پر اللہ تعالیٰ نے ’’حیٰوۃ طیبۃ‘‘ یعنی بالطف، عمدہ اور پُر سکون زندگی عطا فرمانے کا وعدہ کیا ہے۔اسی طرح دوسری جگہ اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتےہیں:(وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَإِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکاً وَّنَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَعْمیٰ)ترجمہ: "اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا تو یقینا اس کی زندگی تنگ ہوگی، اور قیامت کے دن وہ اندھا اٹھایا جائے گا۔"
مطلب یہ ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی پر عمل نہ کیا ، بلکہ نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ اس پر دنیا کی زندگی تنگ کردیں گے۔ لہذا ان واقعات سے سبق حاصل کرتے ہوئے آئندہ گناہوں سے بچنے اور نیک عمل پر ہمیشگی اختیار کرنے کی بھر پور کوشش کریں ۔ گناہوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ تائب ہوجائیں ، غلبہ شہوت پر قابو پانے کے لیے اگر نکاح کی استطاعت ہو تو نکاح کرنا لازم ہے، بصورتِ دیگر کثرت سے روزے رکھیں، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں اور تنہائی سے بچنے کی کوشش کریں۔
نیز اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے اعمال قبول کرتے ہیں ،البتہ بعض حدیثوں میں گناہوں کی وجہ سے جو اعمال کے قبول نہ ہونے کا ذکر ہے (مثلا شراب پینے سے یا کاہن کے پاس آنے سے نماز وغیرہ قبول نہیں ہوتی) تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے گناہوں کی وجہ سے اس کے نیک اعمال کا بدلہ بڑھا کر عطا نہیں کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں 🙁من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثلہا) ترجمہ:" جو شخص اللہ کے پاس ایک نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے اس جیسی دس نیکیوں کا اجر ہوگا۔"
حوالہ جات
«شرح النووي على مسلم» (4/ 128):
«قوله صلى الله عليه وسلم (من صلى علي واحدة صلى الله عليه عشرا) قال القاضي معناه رحمته وتضعيف أجره كقوله تعالى من جاء بالحسنة فله عشرة امثالها»
«مسند أحمد» (37/ 111 ط الرسالة):
«- حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن عيسى، عن عبد الله بن أبي الجعد، عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن العبد ليحرم الرزق بالذنب يصيبه، ولا يرد القدر إلا الدعاء، ولا يزيد في العمر إلا البر .
«مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح» (7/ 2905):
«قال النووي: وأما عدم قبول صلاته فمعناه أنه لا ثواب له فيها… وإن كانت مجزئة في سقوط الفرض عنه، ولا يحتاج معها إلى إعادة، ونظير هذا الصلاة في الأرض المغصوبة مجزئة مسقطة للقضاء، ولكن لا ثواب له فيها، كذا قاله جمهور أصحابنا.
قالوا: فصلاة الفرض وغيرها من الواجبات إذا أتى بها على وجهها الكامل يترتب عليها شيئان: سقوط الفرض عنه، وحصول الثواب، فإذا أداها في أرض مغصوبة حصل الأول دون الثاني، ولا بد من هذا التأويل في هذا الحديث، فإن العلماء متفقون على أنه لا يلزم على من أتى العراف إعادة صلاة أربعين ليلة، فوجب تأويله. قلت: وجوب تأويله مسلم، لكن تأويله المذكور غير متعين، فإن مذهب أهل السنة أن الحسنات لا تبطلها السيئات إلا الردة مع الإجماع على عدم لزوم الإعادة حتى في الردة إذا عاد إلى الإسلام إلى الحج، فإنه فرض العمر، ثم مفهوم التأويل السابق أنه لو صلى النفل يكون له ثواب، وكذا الفرض ; لأنه تعالى لا يضيع أجر من أحسن عملا، نعم، التضاعف من فضله سبحانه وتعالى، فإذا فعل العبد ما يوجب غضبه تعالى، فله إسقاط المضاعفة الزائدة على مقتضى العدل والله أعلم، ثم تخصيص الصلاة من بين الأعمال يحتمل أن يكون لكونها عماد الدين، والأحسن أن يفوض علمه إلى الشارع، وذكر العدد يحتمل التحديد، والتكثير والله أعلم. (رواه مسلم) .
«صحيح البخاري» (5/ 1950):
«قال لنا النبي صلى الله عليه وسلم يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم فإنه له وجاء»
جمیل الرحمن
دارالافتاء، جامعۃ الرشید کراچی
/3ذی الحجۃ/6144
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمن بن عبدالودود | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


