| 87724 | نکاح کا بیان | محرمات کا بیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام شریعت مطہرہ کی روشنی میں کہ ہم پہاڑوں میں رہنے والے لوگ ہیں ،یہاں پر اگر چہ چند علماء کرام بھی موجود ہیں ،مگر اجتماعی طور پر لوگ دین کے احکامات سے نا آشنا ہیں۔ چنانچہ ایک شخص نے اپنے بھانجے کی بیٹی کو کم عمری میں ہی تقریبا 2 لاکھ روپے کے عوض میں خرید لیا تھا اور اب سےتقریبا پانچ ماہ قبل اس سے شادی کر لی ۔ خاندان میں کسی شخص کو بھی یہ مسئلہ معلوم نہیں تھا کہ یہ نکاح حلال بھی ہے یا نہیں۔نیز ایک حافظ صاحب نے نکاح پڑھایا تھا ،جنہیں اتنا علم تھا کہ دونوں خاندانوں میں کوئی پرانی رشتہ داری ہے، مگر یہ نہیں پتا تھا کہ جس کے عقد میں لڑکی دی جا رہی ہے وہ لڑکی کے والد کا حقیقی ماموں ہے ۔
اب سوال یہ کہ اس طرح کی صورت میں کیا کرنا چاہیےاور ہر فریق کو شریعت کی ہدایات کیا ہیں ؟ اس پر کیااحکامات مرتب ہوتے ہیں ؟نیز نکاح پڑھانے والے کا حکم کیا ہوگا ؟
وضاحت :لڑکی کے والد کے نانا کی دو بیویاں تھیں۔والد کی والدہ ایک بیوی سے ہیں اور نکاح ہونے والا شخص دوسری بیوی سے ہے۔اس اعتبار سے ، وہ لڑکی کے والد کا باپ شریک ماموں ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بھانجے کی بیٹی محرمات ابدیہ میں سے ہے، اس لیےاس سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔چونکہ مذکورہ نکاح عد م علم(حرمت کے علم نہ ہونے) کی وجہ سے کیا ہے ،لہٰذا یہ نکاح فاسد ہے اور نکاح فاسد کے احکام درج ذیل ہیں :
-1نکاح فاسد میں میاں بیوی میں سے ہر ایک پر لازم ہے کہ نکاح کو فسخ کرے یا ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو کہہ دے کہ میں نے تجھے چھوڑ دیا ہے یا میں نے تیرا راستہ خالی کردیا ہے(متارکت کے لئے زبان سے متارکت کے الفاظ کہنا ضروری ہیں ،ورنہ صرف ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنے سے نکاح ختم نہیں ہوتا) اور اگر زوجین خود عقد نکاح کو فسخ نہ کریں، بلکہ مقدمہ قاضی یا پنچائیت کے پاس لے جائیں تو قاضی یا پنچائیت پر لازم ہے کہ ان کے درمیان تفریق کردے۔ اوراب تک ساتھ رہنے پردونوں توبہ واستغفاربھی کریں۔
-2اگرلڑکی سے ہمبستری ہوئی ہو تو تفریق (متارکت یا فسخ) کے بعد لڑکی کےلئے عدت (تین ماہواریاں) گزارنا لازم
ہے۔اس سے قبل دوسری جگہ لڑکی کا نکاح جائز نہ ہوگا۔
-3اگر میاں بیوی کے درمیان زوجین والے تعلقات قائم ہوئے ہوتو مہر مثل اور نکاح کے وقت مقرر کردہ مہر میں سےجو کم ہووہ لڑکی کو دیناضروری ہوگا اور اگر زوجین والے تعلقات قائم نہ ہوئے ہوں تو تو لڑکی کو کسی قسم کا مہر نہ ملے گا۔
-4اگر نکاح فاسد میں ہمبستری کرنے سے بچہ پیدا ہوجائے تو اس کا نسب لڑکے سے ثابت ہوگا۔
چونکہ حافظ صاحب کو علم نہیں تھا کہ میاں بیوی آپس میں محارم ہیں،لہٰذا نکاح پڑھانے سے نکاح خواہ کے ایمان اور نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 330):
إذا وقع النكاح فاسدا فرق القاضي بين الزوج والمرأة ،فإن لم يكن دخل بها فلا مهر لها ولا عدة ،وإن كان قد دخل بها فلها الأقل مما سمى لها ومن مهر مثلها إن كان ثمة مسمى، وإن لم يكن ثمة مسمى فلها مهر المثل بالغا ما بلغ، وتجب العدة ويعتبر الجماع في القبل حتى يصير مستوفيا للمعقود عليه، وتعتبر العدة من حين يفرق بينهما عند علمائنا الثلاثة .كذا في المحيط .
وفي مجموع النوازل: الطلاق في النكاح الفاسد يكون متاركة ولا ينتقص من عدد الطلاق كذا في الخلاصة. والمتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك، أو تركتك، ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة، أما لو أنكر وقال أيضا: اذهبي وتزوجي. كان متاركة لكن لا ينتقص من عدد الطلاق،وبعدم مجيء أحدهما إلى الآخر بعد الدخول لا تحصل المتاركة،وقال صاحب المحيط: وقبل الدخول أيضا لا تتحقق إلا بالقول ولكل فسخه بغير محضر صاحبه وبعده لا إلا بمحضر صاحبه. كذا في الوجيز. ...وعدة الوفاة لا تجب في النكاح الفاسد ولا نفقة وإن صالح على النفقة في النكاح الفاسد لا يجوز كذا في الوجيز للكردري .ويثبت نسب الولد المولود في النكاح الفاسد وتعتبر مدة النسب من وقت الدخول عند محمد ،وعليه الفتوى قاله أبو الليث كذا في التبيين.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 257):
وتحرم عليه بنات الأخ وبنات الأخت بالنص، وهو قوله تعالى: {وبنات الأخ وبنات الأخت} [النساء: 23] وبنات بنات الأخ والأخت وإن سفلن بالإجماع .
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
30/ذی قعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


