| 87747 | قربانی کا بیان | قربانی کے جانور میں دوسروں کو شریک کرنے کے مسائل |
سوال
کیا قربانی کےلئے بڑے جانور( جس کے حصص منتخب نہ ہوں) کی ایک گھر کے افراد کے لئے قربانی صحیح ہےیانہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال کا مقصد اگر یہ ہے کہ قربانی کا گوشت اکٹھے رکھنا کیسا ہے تو اگر ایک ہی گھر کے افراد اجتماعی طور پر بڑے جانور کی قربانی کریں اور گوشت کو آپس میں تقسیم نہ کریں بلکہ مشترکہ طور پر استعمال کریں، تو یہ قربانی شرعا درست ہے۔ اس صورت میں گوشت کو تول کر برابر حصوں میں تقسیم کرنا ضروری نہیں،البتہ اگر شرکاء الگ الگ ہوں اور گوشت کی تقسیم کرنا مقصود ہو تو پھر وزن کر کے برابر تقسیم کرنا لازم ہے، اندازے سے تقسیم کرنا جائز نہیں۔
اگر سوال کا مقصد یہ ہے کہ ایک قربانی سارے گھر والوں کی طرف سے کافی ہو گی یا نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ گھر میں متعدد صاحبِ نصاب افراد ہونے کی صورت میں تمام گھر والوں کی طرف سے صرف ایک قربانی کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ گھر کے ہر صاحبِ نصاب فرد پر اپنی اپنی قربانی کرنا واجب اور لازم ہے، گھر کے کسی ایک فرد کے قربانی کرنے سے باقی افراد کے ذمہ سے واجب قربانی ساقط نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص645):
ويقسم اللحم وزنا لاجزافا إلا إذا ضم معه من الاكارع أو الجلد) صرفا للجنس لخلاف جنسه.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 317):
(قوله ويقسم اللحم) انظر هل هذه القسمة متعينة أو لا، حتى لو اشترى لنفسه ولزوجته وأولاده الكبار بدنة ولم يقسموها تجزيهم أو لا، والظاهر أنها لا تشترط لأن المقصود منها الإراقة وقد حصلت.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 70):
وأما قدره فلا يجوز الشاة والمعز إلا عن واحد وإن كانت عظيمة سمينة تساوي شاتين مما يجوز أن يضحى بهما؛ لأن القياس في الإبل والبقر أن لا يجوز فيهما الاشتراك؛ لأن القربة في هذا الباب إراقة الدم وأنها لا تحتمل التجزئة؛ لأنها ذبح واحد وإنما عرفنا جواز ذلك بالخبر فبقي الأمر في الغنم على أصل القياس.
فإن قيل: أليس أنه روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين أملحين أحدهما عن نفسه والآخر عمن لا يذبح من أمته فكيف ضحى بشاة واحدة عن أمته؟ عليه الصلاة والسلام.
(فالجواب) أنه عليه الصلاة والسلام إنما فعل ذلك لأجل الثواب؛ وهو أنه جعل ثواب تضحيته بشاة واحدة لأمته لا للإجزاء وسقوط التعبد عنهم ولا يجوز بعير واحد ولا بقرة واحدة عن أكثر من سبعة ويجوز ذلك عن سبعة أو أقل من ذلك، وهذا قول عامة العلماء.
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
04 /ذی الحج/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


