| 87771 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
میں نے چو ہدری محمد اشفاق ولد محمد الیاس کے ساتھ برابر کےسرمائےسےشراکت داری کے قواعدطے کئے بغیر مشترکہ کاروبار"چوہدری جنرل سٹور بلاک نمبر 2 سرگودھا " کے نام سے 2006 میں شروع کیا۔ دو نوں فریق گاہے بگاہے اپنےذاتی اخراجات کی صورت میں اپنی ضرورت کے مطابق فرم سے رقم لیتے رہےاور اپنی اپنی ڈائری میں لکھتے رہے۔ 2014 میں مشترکہ سرمائے سے ایک مکان واقع بلاک نمبر 2 میں خریدی گئی جو دونوں فریقین کے نام رجسٹری کرائی گئی۔ 2015,16 میں ایک پلاٹ مشترکہ فرم اکاؤنٹ سے خریدا گیا اور بعد ازاں 2021 میں اسے فروخت کر کے مکان واقع سوسائٹی کا لونی میں خریداگیا،اس کے علاوہ ایک اور پلاٹ 10 مرلہ خریدا گیا جو مشترکہ فرم کی ملکیت ہے اور تصفیہ طلب ہے۔موجودہ دکان میں سے نصف دکان مشترکہ فرم کی ملکیت ہے جس کا میرے حصے کا کرایہ طے ہواجو ابھی تک تصفیہ طلب ہے۔ موجودہ شراکت داری کے اختتام پر برضا ورغبت ہم دونوں نے دو ثالثوں کی موجودگی میں حساب کیا،ہر د وفریقین کے اخراجات میں فرق کی رقم مجموعی حساب سے منہا کر کے اور قابل فروخت سے 10% بلا وجہ کٹوتی کر کے حساب کر لیا اور پھر مجھے موقع دیئے بغیر دکان اپنے ذمہ لے کر کام کا آغاز کر دیا ، جبکہ حاضر مال کی مالیت میں سے میرے نصف حصے کی رقم دوسرے فریق پر واجب الادا ہے اوراس کے علاوہ موجودہ دکان کے فرنیچر ، ایل سی ڈی، کیمرے،کمپیوٹروغیرہ کی مالیت کا نصف بھی دوسرے فریق پر واجب الادا ہے۔فرم کے واجب الوصول قرضے (ادھار ) دوسرا فریق وصول کرے گا اور نصف وصولیاں مجھے دینے کا پابند ہے، اسی طرح فرم کے واجب الاداقرضے (ادائیگیاں) پہلے ہی مجموعی حساب سے منہا ہو چکی ہیں۔ موجودہ دکان سے دوسرے فریق نے مجھے کسی رقم، مال، دکان یا میرے تسلیم شدہ حقوق دیےبغیر نہ صرف علیحدہ کردیابلکہ ثالثی فیصلہ بھی تسلیم کر نے سےانکار کر دیا اور دکان پر قابض ہو گیا ۔ اس کے بعد تین چار مرتبہ نئی پنچائت میں بھی گئے، مگر دوسرا فریق کسی پنچائیت کی نہیں مانتا۔ میری گزارش ہے کہ مندرجہ بالا گزارشات پر غور فرمائیں اور رہنمائی فرمائیں کہ موجودہ صورت حال میں میری شراکت داری قائم ہے یا نہیں، اور اب اگر دوبارہ کبھی حساب کتاب ہو تونئی تاریخ سے ہو ؟
تنقیح: سائل سےپوچھنے پر معلوم ہوا کہ اس شرکت کے معاملے میں دو لوگ شریک تھے: ایک سائل، اور دوسرا اُس کا پارٹنر یہ شرکت برابری کے سرمائے سے شروع ہوئی، جب شرکت ختم ہوئی، تو جو مشترکہ اثاثے تھے، جیسے مکان، پلاٹ، دکان اور باقی مال، ان کا حساب کتاب پارٹنر نے اس طریقے سے کیا کہ جو مال موجود تھا، اس میں سے صرف وہی مال حساب میں شامل کیا جو صاف ستھرا اور بے عیب تھا۔ پھر ان کی قیمت مارکیٹ ریٹ بجائے قیمتِ خرید سے 10٪ کم لگا کر حساب کیا،سائل نے اعتراض کیا کہ حساب مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہونا چاہیے، لیکن پارٹنر نے یہ بات مسترد کر دی اور کہا کہ حساب کتاب قیمتِ خرید سے بھی 10٪ کم پر ہی ہوگا۔ البتہ اُس نے یہ پیشکش کی کہ حساب کے بعد جتنا حصہ میرا بنے گا، وہ یا تو آپ خرید لیں یا میں آپ کا حصہ خرید لیتا ہوں۔ سائل نے کہا کہ اسے سوچنے کا وقت چاہیے، لیکن پارٹنر نے اصرار کیا کہ ابھی اور اسی وقت فیصلہ کرنا ہوگا۔ سائل نے کہا: "ٹھیک ہے، میرا حصہ آپ لے لیں اور مجھے اس کی رقم دے دیں۔"اس کے بعد حساب کتاب ہوا اور سائل کے حصے کی جو رقم بنی، اس پر پارٹنر نے وعدہ کیا کہ فلاں تاریخ کو وہ رقم دے دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، ایک دکان سائل کے حصے میں آئی، تو اس کا کرایہ بھی طے ہوا کہ وہ بھی اُسی تاریخ کو دے دیا جائے گا۔لیکن اگلے ہی دن پارٹنر اس تقسیم سے پھر گیا اور کہا کہ یہ حساب کتاب درست نہیں ہوا۔اب سوال یہ ہےکہ کیا پارٹنر کا قیمتِ خرید سے 10٪ کم پر حساب کرنا درست تھا؟موجودہ صورتِ حال میں کیا میری شراکت داری برقرار ہے یا ختم ہو چکی ہے؟اگر دوبارہ حساب کتاب ہو، تو کیا وہ پچھلی تاریخ سے ہوگا یا نئی تاریخ سے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ شریک کا مشترکہ اثاثےکی مالیت کو سائل کے کہنے کے باوجود اس کو مارکیٹ ریٹ کے بجائےاس کو قیمت خرید سے دس فیصد کم پر حساب کتاب کرکے اس کو تقسیم کرناشرعا درست نہ تھا لیکن چونکہ سائل نے اس تقسیم کاانکار نہیں کیا بلکہ تقسیم کے بعد جتنا حصہ سائل کا تھا اس میں سے صرف دوکان کوچھوڑ کر بقیہ حصہ اپنے پارٹنر کو فروخت کردیا جس کے نتیجے میں پارٹنر نے ایک خاص میعاد پر اس کو رقم دینے کا وعدہ کرلیا اس صورت میں یہ تقسیم بطورِ مصالحت کے درست ہوگئی، لہذا اب موجودہ اثاثے میں سائل کا کوئی حصہ باقی نہ رہا البتہ جو مال عیب دار تھا اور وہ تقسیم میں شامل نہیں گیا تو وہ بدستور مشترک ہے،البتہ اپناجتنا حصہ شریک کو فروخت کیا اس صورت میں شریک پر لازم ہے کہ وہ متعین وقت آنے پرسائل کو اس کی رقم ادا کرے، لہذا تقسیم کے درست ہوجانے کے بعد شریک کا بلاوجہ سائل کی دوکان پر قبضہ کرکے اس سے انتفاع حاصل کرنا شرعا جائز نہیں اورنہ ہی یہ جائز ہے کہ جو رقم اس کے ذمہ ہے وہ روک کررکھے،اور پھر اس تقسیم سے ہی انکار کردے ،ایسا کرنے سے وہ شریک گناہ گار ہوگا۔
لہذا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سائل اس معاملے کو باہمی مفاہمت سے حل کرنے کی کوشش کرے اور اس معاملے کو حل کرنے کے لیے ایسےثالث کی مدد لے جس کا فیصلہ دونوں کے لیے قابل قبول ہو،البتہ اگر دونوں اس تقسیم کے فسخ کرنے پر راضی ہو جائے تو پھر دوبارہ جس دن تقسیم ہو اس دن کی مارکیٹ ریٹ کے حساب سے تقسیم کرلیں یا جو آپس میں رضامندی سے طے ہوجائے اس حساب سے تقسیم کرلیں ۔
حوالہ جات
«شرح مختصر الطحاوي» للجصاص (8/ 457):
«والوجه الثاني: هو بمنزلة البيع، وهو ما تقع القسمة فيه على القيمة، فما حصل لكل واحد منهما بالقسمة: فنصفه ما كان له قبل القسمة، والنصف الآخر كأنه اشتراه بما سلمه إلى شريكه.»
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (8/ 176):
«وإن قسما دارا فإنه يقسم العرصة بالذراع ويقسم البناء بالقيمة ثم هذا على ثلاثة أوجه فتارة يقسما الأرض نصفين ويشترطا أن من وقع البناء في نصيبه يعطي لصاحبه نصف قيمة البناء، وقيمة البناء معلومة، أو اقتسموا ذلك وقيمة البناء غير معلومة بأن اقتسموا الأرض ولم يقتسموا البناء فإن اقتسموا الأرض وشرطا في البناء كما تقدم فيكون بيعا مشروطا في القسمة وهذا البيع من ضرورات القسمة فيكون له حكم القسمة فيجوز.»
«تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (5/ 126):
«وبيع المشاع يجوز من شريكه ومن غير شريكه بالإجماع سواء كان مما يحتمل القسمة أو مما لا يحتمل القسمة.»
«درر الحكام في شرح مجلة الأحكام» (3/ 163):
«فلجميع الشركاء فسخ وإقالة القسمة برضائهم وجعل المقسوم مشتركا بينهم كما في السابق لأنه يوجد في القسمة معنى المبادلة فلذلك جاز الفسخ والإقالة فيها كما جازت الإقالة في البيع.»
عمار بن عبد الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
06 / ذو الحجہ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عماربن عبدالحق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


