| 87800 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ میرا نکاح 8 مارچ 2024 کو ہوا تھا، لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر رخصتی نہیں ہو سکی۔ تاہم، میری شریکِ حیات نے ایک غلط فہمی کی وجہ سے (نکاح کے 8 ماہ بعد، 12 نومبر 2024 کو) طلاق کا مطالبہ کر دیا۔ہمارے والدین نے باہمی مشورے سے رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ یہاں میں ایک اہم نکتہ آپ کی توجہ میں لانا چاہتا ہوں کہ میں نے زبانی طور پر طلاق کا اقرار نہیں کیا، بلکہ مجھ سے تحریری طور پر اسٹامپ پیپر پر دستخط کروائے گئے۔میرا طلاق دینے کا ہرگز کوئی ارادہ نہیں تھا، لیکن بڑوں کے اثر و رسوخ کے باعث مجھے مجبوراً اسٹامپ پیپر پر دستخط کرنے پڑے۔ یاد رہے کہ نہ میں نے زبان سے طلاق دی، نہ دل سے طلاق دینے کا ارادہ کیا، اور نہ ہی نکاح خواں کے سوال پر طلاق دینے کے ارادے کا اظہار کیا بلکہ میں نے ان سے یہی کہا کہ "حضرت، میرا ابھی بھی طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔"مزید برآں، اس موقع پر میرے نکاح خواں بھی اس بات کو محسوس کر چکے تھے کہ میرا طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔اب اگر اس واقعے کے 8 ماہ بعد ہم دونوں میاں بیوی اس رشتے کو قائم رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو(1)کیا یہ طلاق واقع ہو چکی ہے؟(2)ہمارے سابقہ نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟(3)کیا ہمیں دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا؟اس معاملے میں ہم دارالافتاء جامعۃ الرشید کی رہنمائی اور ہدایات کے منتظر ہیں تاکہ ہم شرعی حدود میں رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق اپنے رشتے کو برقرار رکھ سکیں۔
تنقیحات:
عرف کے مطابق رخصتی نہیں ہوئی تھی اور شرعاًخلوت صحیحہ بھی نہیں ہوئی تھی۔
طلاق نامہ منسلک ہے۔ ریکارڈ میں ہے
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال کے ساتھ منسلک طلاق نامہ کا عنوان ہے"طلاق نامہ شرعی طلاق ثلاثہ" اور طلاق نامے میں طلاق کے الفاظ ہیں کہ "میں ہوش وحواس میں بغیر کسی ڈر و خوف مسماۃ سارہ بنت یوسف کو تحریری شرعی طلاق ثلاثہ (میں مسماۃ سارہ بنت یوسف کو تحریری شرعی طلاق دیتا ہوں، میں مسماۃ سارہ بنت یوسف کو تحریری شرعی طلاق دیتا ہوں،میں مسماۃ سارہ بنت یوسف کو تحریری شرعی طلاق دے کر اپنی زوجیت سے فارغ کرتا ہوں) "۔
(1)واضح رہے کہ نکاح کےبعدہمبستری یا خلوت صحیحہ (جس میں ہمبستری سے کسی قسم کی شرعی ،حسی یا طبعی رکاوٹ موجودنہ ہو) سے پہلے بیوی کو الگ الگ جملوں میں تین طلاق دینے سے (خواہ ایسے صریح الفاظ کے ذریعے جو شرعا طلاق کےلیےمتعین ہوں یا ایسے الفاظ ہوں جو طلاق کے علاوہ دیگر معانی کو بھی محتمل ہوں ،اسی طرح یہ الفاظ زبانی طور پر کہے ہوں یا طلاق نامے وغیرہ کی صورت میں لکھ کر دیے ہوں یا لکھی ہوئی تحریرپر دستخط کیے ہوں،خواہ طلاق کا ارادہ ہو یا نہ ہو)ایک طلاق بائن واقع ہوتی ہے،لہٰذا صورت مسؤولہ میں پہلے جملے(میں مسماۃ سارہ بنت یوسف کو تحریری شرعی طلاق دیتا ہوں)سے ایک طلاق واقع ہوچکی ہے،بقیہ طلاقیں کالعدم شمار ہوں گی ۔
(2)سابقہ نکاح برقرار نہیں رہا۔
(3)جی،باقاعدہ از سر نو نکاح، "نئے مہر "کے ساتھ کرنا ضروری ہے،البتہ تجدید نکاح کے لیے لمبا چوڑا انتظام کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ چند قریبی اعزہ و اقارب کی موجودگی میں بھی کیا جاسکتا ہے،نیز آئندہ کے لیے فقط دو طلاق کا اختیار ہوگا،یعنی مزید دو طلاقیں دینے سے مذکورہ خاتون آپ پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی، اس کے بعد تجدید نکاح سے بھی مذکورہ عورت حلال نہیں ہوگی، الا یہ کہ اس عورت کا کہیں اور نکاح ہوجائے اور اس شوہر سے ازدواجی تعلق قائم ہونے کے بعد وہ طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہوجائے اور اس کی عدت گزر جائے، اس کے بعد آپ کے لیے مذکورہ خاتون سے نکاح کرنا جائز ہوگا۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 373)
إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق وكذا إذا قال أنت طالق واحدة وواحدة وقعت واحدة كذا في الهداية.
الفتاوى الهندية (1/ 304)
والخلوة الصحيحة أن يجتمعا في مكان ليس هناك مانع يمنعه من الوطء حسا أو شرعا أو طبعا، كذا في فتاوى قاضي خان.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
06.ذوالحج1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


