03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عادت سے زیادہ خون حیض شمار ہوگا یا استحاضہ؟
87778پاکی کے مسائلحیض،نفاس اور استحاضہ کا بیان

سوال

ایک عورت کوجولائی 2024 سے ماہواری کے ایام میں مسئلہ پیش آرہا ہے،کبھی خون 15 سے 20 دن تک جاری رہتا ہےاور کبھی 7 سے 10 دن تک،جب تک صحیح خون آتا تھا توعادت 7 یا 8 دن(کوئی ایک کنفرم نہیں)تھی،ابھی مارچ 2025 میں 10 مارچ سے 30 مارچ تک خون آیا ،اپریل 2025 میں 3 اپریل سے 20 اپریل تک خون آیا،اور مئی 2025 میں 23 مئی سے خون شروع ہوا ہے اور ابھی تک جاری ہے،(1)سوال یہ ہے کہ کون سا خون حیض شمار ہوتا ہے؟(2)کون سا خون استحاضہ شمار ہوتا ہے؟(3)مارچ 2025 میں کون سے ایام حیض کے اور کون سے استحاضہ کے شمار ہوں گے؟(4)اپریل 2025 میں کون سے ایام حیض کے اور کون سے ایام استحاضہ کے شمار ہوں گے؟(5)مئی 2025 میں کون سے ایام حیض کےاور کون سے ایام استحاضہ کے شمار ہوں گے؟

تنقیح:مارچ سے پہلے کی کوئی تفصیل یاد نہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(1)کسی بیماری کے بغیر ہر ماہ جو خون عورت کو معمول کے مطابق اگلی شرمگاہ کے راستے سے آتا ہے،اسے حیض کہتے ہیں۔

(2)جو خون حیض کی کم سے کم مدت یعنی تین دن سے کم آئے،یا حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت یعنی دس دن سے زائد آئے،یا نفاس کی  اکثر مدت یعنی چالیس دن سے زائد آئے،یا وہ خون جو دوران حمل آئے،یا وہ خون جو نو برس سے کم عمر لڑکی کو آئے،یا پچپن برس کی عمر سے زائد خاتون کو آئے  بشرطیکہ وہ خوب  سرخ یا سیاہ نہ ہو اور جو خون پاکی کی کم سے کم مدت یعنی پندرہ دن  سے بھی کم وقفے سے آئے ،اسے استحاضہ کہتے ہیں۔

(3)مارچ 2025 میں مذکورہ خاتون کو 10 مارچ سے 30 مارچ تک تقریباً 20 دن خون آیا ہے،پھر تقریباً تین دن کے بعد دوبارہ 3 اپریل سے 20 اپریل تک تقریباً 17 دن خون آیا ہے،ان میں سے کتنے ایام حیض کے شمار ہوں گے اور کتنے استحاضہ کے؟اس حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ ایک حیض کے ختم ہونے اور دوسراحیض شروع ہونے کے درمیان کم از کم پندرہ دن پاکی ہونا شرعاً ضروری ہے، پندرہ دن سے پہلے دوبارہ خون آنا شروع ہوجائےتو وه ماہواری کا خون شمار نہیں ہوتا، اوراس صورت میں اگر عورت معتادہ (اس کی عادت مقرر) ہو تو اس کی ماہواری اور پاکی اس کی عادت کے مطابق شمار ہو تی ہے،لہٰذا مذکورہ صورت میں چونکہ عادت مقرر تھی تو عادت کے مطابق ایام، حیض کے شمار ہوں گے باقی سب استحاضہ کے،چنانچہ 10 مارچ سے 7 یا 8 دن تک ایام، حیض کے شمار ہوں گے اور بقیہ ایام استحاضہ کےشمار ہوں گے۔

(4)اپریل کی 5 تاریخ سے 7 یا 8 دن تک ایام،حیض کے شمار ہوں گےاور بقیہ ایام استحاضہ کے شمار ہوں گے۔

(5)23 مئی سے 7 یا 8 دن تک ایام،حیض کے شمار ہوں گے اور بقیہ استحاضہ کے شمار ہوں گے۔

نوٹ: عورت اپنے غالب گمان کی بنیاد پر تینوں مہینوں کے لیے ایامِ عادت کی ایک ہی مدت (7 یا 8 دن) متعین کر لے، اور اسی کے مطابق عمل کرے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 39)

فإن رأت بين طهرين تامين دما لا على عادتها بالزيادة أو النقصان أو بالتقدم والتأخر أو بهما معا انتقلت العادة إلى أيام دمها حقيقيا كان الدم أو حكميا هذا إذا لم يجاوز العشرة، فإن جاوزها فمعروفتها حيض وما رأت على غيرها استحاضة فلا تنتقل العادة هكذا في محيط السرخسي.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

06.ذوالحج1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب