03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر مقبوضہ چیزكو  آگے بیچنے کا حکم
87876خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

اگر کوئی شخص Daraz یا کسی اور آن لائن پلیٹ فارم پر ایسی چیز بیچتا ہے، جو فی الحال اس کے پاس موجود نہیں، لیکن وہ ڈسکرپشن میں یہ بات صاف لکھ دیتا ہے کہ چیز "موجود نہیں" یا "آرڈر پر دستیاب ہے"، تو کیا یہ شرعاً جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت مطہرہ کا اصول یہ ہے کہ جس چیز کو فروخت کیا جا رہا ہو، فروخت کرنے والا فروخت سے قبل اس کا مالک بن چکا ہو اور اس پر قبضہ بھی حاصل کر چکا ہو۔

صورت مسئولہ میں   جو آڈر آپ کسٹمر سے   لے رہے ہوں، اس کو اس  بات سے آگاہ کر دیں کہ یہ آرڈر فی الحال بیع (خرید و فروخت) کا وعدہ ہے اور یہ چیز آپ اسے خرید کر بھیجیں گے اور حتمی بیع اس وقت ہوگی جب وہ یہ چیز وصول کرے گا۔  اس کے بعد)یعنی ملکیت و قبضہ کے بعد) مطلوبہ چیز کے حوالے سے فون یا ای میل پر یا ٹی سی ایس کے ذریعے تحریری طور پر خرید وفروخت کا حتمی معاملہ کریں اور چیز خریدار کے حوالے کی جائے۔ نیز اس صورت میں جب آڈر دیتے وقت حتمی معاملہ نہیں ہورہا تو آپ خریدار سے پیشگی رقم کا مطالبہ بھی نہیں کرسکتے، بلکہ اس کے ساتھ حتمی معاملہ ہونے اور اس کو چیز وصول ہونے کے بعد ہی وہ ادائیگی کا پابند ہوگا۔

حوالہ جات

سنن ابن ماجه (3/ 309 ت الأرنؤوط):

عن عمرو بن شعيب، عن أبيه عن جده، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا يحل ‌بيع ‌ما ‌ليس ‌عندك، ولا ربح ما لم يضمن.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (5/ 60):

(قوله وفسد بيع سمك لم يصد لو بالعرض إلخ) ظاهره أن الفاسد ‌بيع ‌السمك، وأنه يملك بالقبض. وفيه أن بيع ما ليس في ملكه باطل كما تقدم؛ لأنه بيع المعدوم، والمعدوم ليس بمال فينبغي أن يكون بيعه باطلا.

اللباب في شرح الكتاب (2/ 25):

(ولا يجوز) : أي لا يصح (بيع السمك في الماء) قبل صيده؛ لأنه بيع ما ليس عنده، أو بعده صيده ثم ألقي فيه ولا يؤخذ منه إلا بحيلة؛ للعجز عن التسليم.

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص400):

‌وأما ‌الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف.

 محمد اسامہ فاروق

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

3/محرم الحرام /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب