| 87848 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں، ہمارے والد صاحب کا ایک مکان تھا، جو انہوں نے اپنی زندگی میں اپنے دونوں بیٹوں کے نام کروا دیا تھا اور اس کا قبضہ دینے سے پہلے والد صاحب نے اپنا مکمل سامان اپنے اعزہ واقارب کو دے دیا تھا، اپنے پاس صرف پہننے کے کپڑے، دو عدد چارپائی اور بستر ان کی میراث تھی، نیز ہم دونوں بیٹیوں نے اپنی خوشی اور رضامندی سے اپنے ہوش وحواس میں اجازت دی تھی کہ وہ یہ مکان دونوں بیٹوں کے نام کر دیں۔
تمام شرعی اور قانونی کا روائی یعنی قبضہ اور رجسٹری مکمل ہونے کے بعدپہلے نمبرپر میرے بڑے بھائی شکیل احمد صدیقی کا 2007ءمیں بقضائے الہی انتقال ہو گیا،مرحوم نے ترکہ میں (۱) بیوہ زاہد ہ خاتون تین عدد بیٹے (۱) محمد شعیب صدیقی ، (۲) محمد اویس صدیقی، (۳) محمد محسن صدیقی اور تین بیٹیاں ، (۱) نزہت صدیقی ، (۲) نگہت صدیقی، (۳) جویریہ صدیقی چھوڑی ہیں۔ یہ سب شادی شدہ ہیں، مرحوم کے والدین انتقال کے وقت حیات تھے، شریعت کے مطابق ان کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟ کیا والدین کو بھی ملے گا؟ مرحوم کے دادا دادی، نانا نانی پہلے ہی انتقال کر چکے تھے۔
دوسرے نمبرپر بڑے بھائی کے انتقال کے بعد والدہ صاحبہ رحمت النساء کا بھی 2008ء میں انتقال ہو گیا، جن کے ورثاء میں شوہر، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں تھیں، پھروالدہ صاحبہ کے انتقال کے بعد والد صاحب محمد اشفاق صدیقی کا بھی 2010ءمیں انتقال ہو گیا تھا، ان کے ورثاء میں صرف ان کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں تھیں۔
والد صاحب کے انتقال کے بعد مرحوم شکیل احمد صدیقی کی اہلیہ محترمہ کا 2012ءمیں انتقال ہو گیا تھا، ان کے ورثاء میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں، جن كا پہلے ذکر ہو چکا ہے، ان کے والدین وغیرہ کا بھی پہلے انتقال ہو چکا تھا۔
سب سے آخر میں میرے دوسرے بھائی تنویر احمد صدیقی کا بھی 2023ءمیں بقضائے الہی انتقال ہو گیا تھا،مرحوم نے ورثاء میں ایک بیوہ زیبا تنویر چھوڑی ہے، مرحوم کے کوئی اولاد نہیں تھی،ہم دو بہنیں (رفعت النساء ، فرحت النساء) اور مرحوم کے بڑے بھائی شکیل احمد صدیقی (جو والد صاحب مرحوم کی زندگی میں انتقال کر چکے تھے) کے بیٹے ، (1) محمد شعیب صدیقی، (۲) محمد اویس صدیقی (۳) محمد محسن صدیقی اور (۳) عدد بیٹاں (۱) نزہت صدیقی (۲) نگہت صدیقی (۳) جویریہ صدیقی، یہ سب بالغ اور شادی شدہ ہیں، حضرت والا یہ معلوم کرنا ہے کہ میراث میں کون کون شرعی طور پر حق دار ہے اور شریعت کےمطابق میراث کی تقسیم کس طرح گی؟
یہ بھی یاد رہے کہ تمام مرحومین کے دادا دادی،نانا ، نانی پہلے ہی انتقال کر چکے ہیں۔
وضاحت: سائل نے بتایا کہ اشفاق احمد صدیقی نے یہ مکان مکمل خالی کر کے کے بیٹوں کو دیا تھا، مکان دینے کے بعد یہ دونوں میاں بیوی کرایہ کے مکان میں رہنا چاہتے تھےاورمکان بھی تلاش کر رہے تھے، لیکن بیٹوں نے کہا آپ زندگی میں اسی مکان میں ہمارے پاس رہیں تو پھر بیٹوں نے دو چارپائیاں دی تھیں، گویا کہ قبضہ دیتے وقت ان کے استعمال کے کپڑوں کے سوا اس گھر میں ان کی کوئی چیز نہیں تھی، پھر زندگی میں ان کے نام کر کے تمام قانونی تقاضے بھی مکمل کر دیے تھے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق آپ کے والد مرحوم نے اپنا مکان زندگی میں اپنے دونوں بیٹوں کے نام کروا دیا تھا اور قبضہ دینے سے پہلے اپنا مکمل سامان اپنے اعزہ واقارب کو دے دیا تھا، اپنے پاس صرف پہننے کے سوٹ رکھے تھے،لہذا یہ معمول کے کپڑے ہبہ (عطیہ،گفٹ)سے مانع نہیں ہو گا، کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہبہ کرنے والے کا ایسا سامان ہبہ سے مانع ہوتا ہے جو موہوب لہ (جس کو مکان ہبہ کے طور پر دیا گیا ہو)کے قبضہ کرنے سے مانع ہو، پھر جب آپ کے والد نے مکان بیٹوں کو مالک بنانے کے لیے سرکاری دفتر میں جا کر ان کے نام کروا دیا تو گویا انہوں نے مکان سے باہر نکل کر وہ مکان ہبہ کر دیا اس لیے شرعاً یہ ہبہ کا معاملہ مکمل ہو گیا اور یہ مکان ان کی زندگی میں ان کے دونوں بیٹوں کی ملکیت میں آچکا تھا، اگرچہ بہتر یہ تھا کہ وہ بیٹوں اور بیٹیوں کو برابر یا کم از کم بیٹیوں کو بیٹوں کی بنسبت آدھا حصہ دیتے، لیکن اگر واقعتاً دونوں بیٹیاں بھی یہ مکان اپنے بھائیوں کو دینے پر رضامند تھیں، جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو شخصِ مذکور بیٹیوں کو نہ دینے سے گنا ہگار نہیں ہوں گے۔
بیٹوں کے مالک بننے کے بعد جب اشفاق صاحب کے بیٹے شکیل احمد کا انتقال ہوا تو اس میں شرعاً ان کے والدین کا بھی وراثتی حصہ تھا، جس کی تفصیل اگلے سوال کے جواب میں آرہی ہے۔
لسان الحكام (ص: 371) لابن الشِّحْنَةالثقفي الحلبي– القاهرة:
نوع الأفضل في هبة الابن والبنت التثليث كالميراث وعند أبي يوسف رحمه الله تعالى التنصيف وهو المختار ولو وهب جميع ماله من ابنه جاز وهو آثم نص عليه محمد رحمه الله تعالى ولو خص بعض أولاده لزيادة رشده فلا بأس به وإن كانوا سواء في الرشد لا يفعله.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 127) دار الكتب العلمية، بیروت:
(وأما) كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين كذا ذكر القاضي الاختلاف بينهما في شرح مختصر الطحاوي وذكر محمد في الموطإ ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحل ولا يفضل بعضهم على بعض.وظاهر هذا يقتضي أن يكون قوله مع قول أبي يوسف وهو الصحيح لما روي أن بشيرا أبا النعمان أتى بالنعمان إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أكل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال النبي- عليه الصلاة والسلام - فأرجعه وهذا إشارة إلى العدل بين الأولاد في النحلة وهو التسوية بينهم ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم؛ لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة۔
الفتاوى الهندية (4/ 380) الناشر: دار الفكر،بيروت:
وهبت دارها من زوجها وهي ساكنة فيها مع الزوج جاز، كذا في الوجيز للكردري. وفي المنتقى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - لا يجوز للرجل أن يهب لامرأته ولا أن تهب لزوجها أو لأجنبي دارا وهما فيها ساكنان، وكذلك للولد الكبير، كذا في الذخيرة.
2۔مرحوم شکیل احمدصدیقی نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاور مرحوم کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب ہو، يہ سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں،البتہ اگر کسی نے بطور تبرع ادا کر دیئے ہوں تو پھر یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں ۔ اس کے بعد مرحوم کا وہ قرض ادا کیا جائے جس کی ادئیگی مرحوم کے ذمہ واجب ہو۔ اس کے بعد اگر مرحوم نے غیروارث کے لیےکوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ میں سے ایک تہائی(3/1) تک اس پر عمل کیا جائے۔اس کے بعدجو ترکہ باقی بچے اس میں سے آٹھواں حصہ مرحوم کی بیوہ کو، چھٹا چھٹا حصہ والدین کو اور بقیہ ترکہ کو ان کے بیٹوں اور بیٹیوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ بیٹوں کو بیٹیوں کی بنسبت دوگنا حصہ ملے، تقسیم ِ میراث کا تفصیلی نقشہ ملاحظہ فرمائیں:
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیوہ(زاہدہ خاتون) |
27 |
12.5% |
|
2 |
والد(اشفاق صدیقی) |
36 |
16.666% |
|
3 |
والدہ(رحمت النساء) |
36 |
16.666% |
|
4 |
بیٹا(محمدشعیب) |
26 |
12.037% |
|
5 |
بیٹا(محمداویس) |
26 |
12.037% |
|
6 |
بیٹا(محمدمحسن) |
26 |
12.037% |
|
7 |
بیٹی(نزہت) |
13 |
6.018% |
|
8 |
بیٹی(نگہت) |
13 |
6.018% |
|
9 |
بیٹی(جویریہ) |
13 |
6.018% |
|
مجموعہ |
|
216 |
99.994% |
اس کے بعد جب مرحوم کی والدہ رحمت النساء کا انتقال ہوا تو ان کو اپنے مرحوم بیٹے سے ملنے والے چھٹے حصہ سمیت جو کچھ بھی چھوٹا بڑا سازوسامان چھوڑا وہ سب ان کا ترکہ ہے، اس میں سے ان کے ذمہ واجب الادء قرض کرنے اور ایک تہائی کی حد تک غیر وارث کے لیے ان کی جائز وصیت(اگر انہوں نے وصیت کی ہو)ان کی جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس میں سے چوتھا حصہ ان کے شوہر کو اور بقیہ تمام ترکہ ان کے ایک بیٹے اور دو بیٹیوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ بیٹوں کو بیٹیوں کی بنسبت دوگنا حصہ ملے، تقسیم ِ میراث کا تفصیلی نقشہ ملاحظہ فرمائیں:
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
شوہر(محمد اشفاق) |
4 |
25% |
|
2 |
بیٹا (تنویراحمد) |
6 |
37.5% |
|
3 |
بیٹی(رفعت النساء) |
3 |
18.5% |
|
4 |
بیٹی(فرحت النساء) |
3 |
18.5% |
اس کے بعد جب مرحوم کے والدمحمد اشفاق صدیقی کا انتقال ہوا تو ان کواپنے مرحوم بیٹے شکیل احمد سے ملنے والے چھتیس حصے اور اپنی مرحومہ بیوی سے ملنے والےچار حصوں سمیت انہوں نےجو کچھ بھی چھوٹا بڑا سازوسامان چھوڑا وہ سب ان کا ترکہ ہے، اس میں سے ان کے ذمہ واجب الادء قرض کرنے اور ایک تہائی کی حد تک غیر وارث کے لیے ان کی جائز وصیت(اگر انہوں نے وصیت کی ہو) پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس کو ان کے ایک بیٹے اور دو بیٹیوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ بیٹوں کو بیٹیوں کی بنسبت دوگنا حصہ ملے، تقسیم ِ میراث کا تفصیلی نقشہ ملاحظہ فرمائیں:
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیٹا(تنویراحمدصدیقی) |
2 |
50% |
|
2 |
بیٹی(رفعت النساء) |
1 |
25% |
|
3 |
بیٹی(فرحت النساء) |
1 |
25% |
اس کے بعد جب آپ کے مرحوم بھائی شکیل احمد کی اہلیہ کا انتقال ہوا تو ان کو اپنے شوہرمرحوم سے ملنے والے ستائیس حصے سمیت انہوں نے جو کچھ بھی چھوٹا بڑا سازوسامان چھوڑا وہ سب ان کا ترکہ ہے، اس میں سے ان کے ذمہ واجب الادء قرض کرنے اور ایک تہائی کی حد تک غیر وارث کے لیے ان کی جائز وصیت(اگر انہوں نے وصیت کی ہو) پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس کو ان کے بیٹوں اور بیٹیوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ بیٹوں کو بیٹیوں کی بنسبت دوگنا حصہ ملے، تقسیم ِ میراث کا تفصیلی نقشہ ملاحظہ فرمائیں:
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیٹا(محمدشعیب) |
2 |
22.222% |
|
2 |
بیٹا(محمداویس) |
2 |
22.222% |
|
3 |
بیٹا(محمدمحسن) |
2 |
22.222% |
|
4 |
بیٹی(نزہت) |
1 |
11.111% |
|
5 |
بیٹی(نگہت) |
1 |
11.111% |
|
6 |
بیٹی(جویریہ) |
1 |
11.111% |
|
مجموعہ |
|
9 |
100% |
اس کے بعد جب 2023ء میں آپ کے مرحوم بھائی تنویر احمد صدیقی کا انتقال ہوا تو ان کو اپنے مرحوم والدین سے ملنے والے حصے سمیت انہوں نے جو کچھ بھی چھوٹا بڑا سازوسامان چھوڑا وہ سب ان کا ترکہ ہے، اس میں سے ان کے ذمہ واجب الادء قرض کرنے اور ایک تہائی کی حد تک غیر وارث کے لیے ان کی جائز وصیت(اگر انہوں نے وصیت کی ہو) پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس میں سے چوتھائی حصہ مرحوم کی اہلیہ کو، دو تہائی ان کی دونوں بہنوں کو اور بقیہ حصہ مرحوم کے تینوں بھتیجوں کو دیا جائے گا، ان کے علاوہ مرحوم کی بھتیجیوں کو شرعاً کوئی حصہ نہیں ملے گا، تقسیم ِ میراث کا تفصیلی نقشہ ملاحظہ فرمائیں:
|
نمبر شمار |
ورثاء |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیوہ(زیبا تنویر) |
9 |
25% |
|
2 |
بہن(رفعت النساء) |
12 |
33.333% |
|
3 |
بہن(فرحت النساء) |
12 |
33.333% |
|
4 |
بھتیجا(محمدشعیب) |
1 |
2.777% |
|
5 |
بھتیجا(محمداویس) |
1 |
2.777% |
|
6 |
بھتیجا(محمدمحسن) |
1 |
2.777% |
|
مجموعہ |
|
36 |
99.997% |
مذکورہ بالا تفصیل مرحومین کے کل ترکہ کی ذکر کی گئی ہے، باقی مذکورہ مکان اور دیگر ترکہ میں فیصدی اعتبار سے زندہ ورثاء کا حصہ درج ذیل ہو گا:
|
نمبر شمار |
ورثاء |
فیصدی حصہ |
|
1 |
(محمدشعیب صدیقی) |
14.807% |
|
2 |
(محمداویس صدیقی) |
14.807% |
|
3 |
(محمدمحسن صدیقی) |
14.807% |
|
4 |
(نزہت صدیقی) |
7.403% |
|
5 |
(نگہت صدیقی) |
7.403% |
|
6 |
(جویریہ صدیقی) |
7.403% |
|
7 |
(رفعت النساء) |
13.888% |
|
8 |
(فرحت النساء) |
13.888% |
|
9 |
بیوی(زیبا تنویر) |
4.166% |
|
10 |
بھتیجا(محمدشعیب) |
.463% |
|
11 |
بھتیجا(محمداویس) |
.463% |
|
12 |
بھتیجا(محمدمحسن) |
.463% |
|
13 |
مجموعہ |
99.958 |
حوالہ جات
القرآن الکریم : [النساء:11]
يوصيكم اللَّه في أَولَادكم للذكَر مثل حظ الأنثيينِ.
القرآن الکریم : [النساء: 12]:
{وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ}
السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:
وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
3/محرم الحرام 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب |


