| 87895 | خرید و فروخت کے احکام | شئیرزاور اسٹاک ایکسچینج کے مسائل |
سوال
میٹاٹریڈر (Meta Trader-MT4/MT5) ایک مشہور آن لائن فاریکس ٹریڈنگ ایپلیکیشن ہے، جس کے ذریعےمختلف ممالک کی کرنسیوں کی آن لائن خرید و فروخت (فاریکس ٹریڈنگ) کی جاتی ہے۔ اس پلیٹ فارم کو Meta Quotes Software کمپنی نے تیار کیا ہے، اور یہ دنیا بھر کے ٹریڈرز میں مقبول ہے۔اس ایپلیکیشن میں لوگ مختلف کرنسیوں جیسے کہ امریکی ڈالر، یورو، برطانوی پاؤنڈ، جاپانی ین، اور سوئس فرانک وغیرہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ جب کرنسی کی قیمت کم ہوتی ہے تو ٹریڈر اسے خریدتے ہیں، اور جب قیمت بڑھتی ہے تو فروخت کر کے نفع کماتے ہیں۔
میٹاٹریڈر میں صرف کرنسی ہی نہیں بلکہ سونا(Gold)، تیل، اشیائے صرف(commodities) اور بعض اوقات اسٹاکس وغیرہ کی بھی ٹریڈنگ ممکن ہوتی ہے۔ سونے کی خرید و فروخت بھی امریکی ڈالر یا سوئس فرانک جیسی کرنسیوں کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔اس پلیٹ فارم پر کام کرنے کے لیے صارف کو اپنا اکاؤنٹ بنانا پڑتا ہے، جس میں عام طور پر کم از کم 100امریکی ڈالر جمع کروانے ہوتے ہیں۔ یہ اکاؤنٹ عموماً یورپی یا امریکی بینکوں اور بروکرز کے ذریعے منسلک ہوتا ہے۔ بروکرز اس تجارت میں ایک مخصوص کمیشن یا اسپریڈ کی صورت میں اپنی فیس حاصل کرتے ہیں۔اب یہ جاننا چاہتاہوں کہ اس میں ٹریڈنک کرنا شریعت کے نگاہ سے جائز ہے یا ناجائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میٹا ٹریڈر(MT4/MT5)آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کا مشہور پلیٹ فارم ہے، اسے دنیا بھر کے ٹریڈر کرنسی مارکیٹ میں تجارت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ پلیٹ فارم خودکار تجارتی نظام، تکنیکی تجزیے اور انڈیکیٹرز کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ جدید دور میں فاریکس ٹریڈنگ نے نئی شکل اختیار کر لی ہے، جس میں مصنوعی ذہانت اور الگورتھمک ٹریڈنگ جیسے جدید نظام شامل ہو چکے ہیں، لیکن یہ تمام ترقی یافتہ سسٹمز اب بھی MT4 اور MT5 کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں، جو ان کی افادیت اور اہمیت کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔
اس پلیٹ فارم پر آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کے حوالے سے اصولی حکم یہ ہے کہ کرنسی اور سونے کی خرید و فروخت کے لیےتین شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:
- اس کا لین دین حقیقی ) (Real Transaction ہو، فرضی سودے (Virtual Deals) نہ ہوں جو فقط اکاؤنٹ میں ظاہر کے جاتے ہوں۔
- ملکیت اور قبضہ(Ownership and Possession)ہو، اسے بیچنے والا اس کا حقیقتاً مالک بھی ہو اور بیچنے والے نے اس پر قبضہ بھی کیا ہو۔
- لین دین کی مجلس میں ہی کسی ایک کرنسی پر حقیقتاً یا حکماً قبضہ کر لیا جائے۔
آن لائن فارن ایکسچینج کے مروجہ پلیٹ فارم پر نہ تو حقیقتاً لین دین ہوتی ہے اور نہ ہی قبضہ ہوتا ہے،آپ کسی کرنسی کو خریدتے ہیں مگر حقیقت میں وہ کرنسی آپ کے اکاؤنٹ میں منتقل نہیں ہوتی،بلکہ صرف سسٹم پر ایک نمبر ظاہر ہوتا ہے،یعنی نہ حقیقی خریداری ہوتی ہے اور نہ ہی سونا یا کرنسی آپ کی ملکیت میں آتا ہے،اور نہ ہی بروکرز خود کرنسی یا سونے کے مالک ہوتےہیں ، اور نہ آپ کو اس پر حقیقی یا حکمی قبضہ دیتے ہیں، بلکہ صرف ایک قیاسی وخیالی قیمت کے ساتھ سودے ہوتے ہیں۔ لہذا ایسی ویب سائٹس پر کام کرنا شرعاً جائز نہیں ہے ،البتہ اگر کسی آن لائن فاریکس کے طریقہ کار کی نگرانی مستند علماء کرام کر رہے ہوں اور انہوں نے تحریراً اس بات کی گواہی دی ہو کہ اس کا طریقہ کار شرعاً درست ہے تو اس پر کام کرنا جائز ہوگا۔ )ازتبویب بتغییر یسیر (73691:
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 505,561):
وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم...ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح وكذا الهبة والصدقة. َ
الدر المختار (5/ 179):
( باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز ) وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز لما مر.
المبسوط للسرخسي (4/14)
قال العلامةالسرخسي رحمه الله تعالى: ولأن هذا العقد مبادلة الثمن بالثمن والثمن يثبت بالعقد دينا في الذمة والدين بالدين حرام في الشرع لنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع الكالئ بالكالئ فما يحصل به التعيين وهو القبض لا بد منه في هذا العقد. (
محمد ابراہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی
03 /محرم الحرام /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


