03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد کی رقم کو ہدیہ کرنا
87886وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

میں ایک حافظ ہوں، رمضان میں  تراویح پڑھاتاہوں۔گزشتہ تراویح کی پندرہویں یعنی ماہ رمضان  کے درمیان میں ایک صاحب نے پوچھا: "حافظ صاحب آپ کو میں  ہدیہ کے طور پر کپڑےدوں یا پیسے دوں؟" میں نے کہا کہ ہم تو تراویح پڑھانے پر کچھ نہیں  لیتے۔ اگلے دن جب میں نماز پڑھا کر منبر کی طرف سے آ رہا تھا تو اس آدمی نے کچھ رقم  چھپکے سے میرےہاتھ میں  دےدی،میں نے اُس کو یہ سمجھ کر قبول کرلیا کہ  اس نے وہ  ذاتی طور پر مجھ سے  محبت کی وجہ سے دی ہے، اس کا مسجد کے چندے یا قرآن ختم کرنے سےکوئی تعلق نہیں۔ کچھ دن بعد میرے والدصاحب  نے مسجد کےکھاتے میں دیکھا تو اس ہدیے کا شمار مسجد کے کھاتے میں "حافظ صاحب کا  ہدیہ" کے طور پر لکھا ہوا پایا ، میرےوالدصاحب نے حضرت مولانا سعد صاحب کا قرآن سنانے پراجرت لینےسےمتعلق سخت بیان سن کر اور دیگر علمائے کرام کے تراویح کے بارے میں  فتاوی  دیکھ کر مجھ سے  کہا کہ جتنے پیسےآپ نے خرچ کر دیے ہیں میں وہ پیسے پورےکردوں گا،اور  آپ  بقیہ رقم  مسجد میں جمع کروادو۔ اب میرےسوالات یہ ہیں:

(۱)جب   یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ پیسے مسجد کے  ہیں یا ذاتی  توایسی صورت میں  وہ رقم استعمال کرسکتا  ہوں  یا نہیں ؟

 (۲)اب یہ رقم مسجد   میں دینا ضروری ہےیا   کسی غریب کو (بغیر ثواب کے ارادے کے) دی جائے  تواس میں  کوئی حرج  تو نہیں ہے؟

 (۳) وہ پیسے خرچ کرنے پر کیا میں گناہ گار ہو ا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مسجد  کی رقم کوصرف  اس کے مصارف  میں ہی  خرچ کرناضروری   ہے ۔اسے کسی  غیرمتعلقہ مصرف میں خرچ کرنا  گناہ اور ضمان (یعنی مالی تاوان ) کا باعث ہوگا ۔

صورت مسئولہ میں جس  شخص نے آپ کو  مسجد کی رقم   بطورِ ہدیہ دی اس کا یہ عمل  شرعادرست نہ  تھا، کیونکہ ہدیہ دینا مسجد کے  مصارف میں شامل نہیں ہے،لیکن  چونکہ آپ کو اس رقم کے حوالے سے معلوم ہوگیا کہ وہ رقم اس شخص کی نہیں بلکہ مسجد کی تھی ،لہذا اس  کا حکم یہ ہے کہ جتنی رقم آپ کے پاس باقی رہ گئی ہےوہ مسجد کے فنڈمیں فوری طور پر جمع کروائیں  ،اور چونکہ وہ  رقم مسجد کی ملکیت ہے ،لہذا اس کو غریب کو دینے کے بجائے  مسجد کے فنڈ میں جمع کروانا ضروری ہوگا ، البتہ  جو رقم آپ نے لاعلمی میں خرچ کر دی ہے، اس پر آپ گناہ گار نہیں ہوں گے، لیکن اتنی رقم کا مسجد کے فنڈمیں جمع کروانا آپ کی اور اس شخص کی ذمہ داری ہے ،اگر آپ دونوں میں سے کسی نے بھی وہ رقم جمع نہ کروائی تو   آپ دونوں گناہ گار ہوں گے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (4/ 366):

(ويبدأ من غلته بعمارته) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح وتمامه في البحر (وإن لم يشترط الوقف) لثبوته اقتضاء.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (5/ 99):

إن ‌علم أرباب الأموال ‌وجب ‌رده عليهم، وإلا فإن ‌علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه.

مثل غاصب الغاصب مودعه ومرتهنه والمشتري والمستأجر والمستعير والمتھب منه ، والمتصدق عليه منه فان المالك مخير بين ان يضمن الغاصب او احد هؤلاء . لكن ان ضمن المتهب من الغاصب او المتصدق عليه او المستعير منه ، لا يرجعون بما ضمنوا على الغاصب لانهم كانوا عاملين في القبض لانفسهم ، بخلاف المرتهن والمستأجر والمودع فانهم يرجعون بما ضمنوا على الغاصب لانهم عملوا له .

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 180):

(قوله ولغير من علم الأخيران) أي وحكمه لغير من علم أنه مال الغير الرد أو الغرم فقط دون الإثم (قوله بالحديث) وهو قوله عليه الصلاة والسلام «رفع عن أمتي الخطأ والنسيان» معناه رفع مأثم الخطأ.

عمار بن عبدالحق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

04/ محرم الحرام 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عماربن عبدالحق

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب