| 87874 | پاکی کے مسائل | نجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان |
سوال
کیا چرس ناپاک ہے ؟چرس پینے والے شخص کے پاس سے آگر بدبو یا دھواں آئے تو ساتھ بیٹھے شخص کو کپڑے تبدیل کرنا ضروری ہے. یا پاس رکھی چیزوں کو دھونے کی ضرورت ہے؟
کیا چرس پینے والوں کے پاس بیٹھنے اور ہاتھ ملانے سے ہمارے ہاتھ بھی گندے ہوتے ہیں ؟اس کے بارے میں شریعت کا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نشہ آور ہونے کی وجہ سے چرس پینا حرام ہے،لیکن ناپاک نہیں،اس لئے اس لئے مذکورہ صورتوں میں کپڑوں وغیرہ کا دھونا ضروری نہیں۔
حوالہ جات
"رد المحتار" (4/ 42):
"(قوله :أن البنج مباح) قيل هذا عندهما. وعند محمد ما أسكر كثيره فقليله حرام وعليه الفتوى كما يأتي. اهـ.
أقول: المراد بما أسكر كثيره إلخ من الأشربة، وبه عبر بعضهم وإلا لزم تحريم القليل من كل جامد إذا كان كثيره مسكرا كالزعفران والعنبر، ولم أر من قال بحرمتها، حتى إن الشافعية القائلين بلزوم الحد بالقليل مما أسكر كثيره خصوه بالمائع، وأيضا لو كان قليل البنج أو الزعفران حراما عند محمد لزم كونه نجسا؛ لأنه قال ما أسكر كثيره فإن قليله حرام نجس، ولم يقل أحد بنجاسة البنج ونحوه. وفي كافي الحاكم من الأشربة: ألا ترى أن البنج لا بأس بتداويه، وإذا أراد أن يذهب عقله لا ينبغي أن يفعل ذلك. اهـ".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
04/محرم 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


