| 87891 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرا سوال یہ ہے کے بیٹے کی وراثت میں ماں کا حصّہ ہوتا ہے؟ اگر ہوتا ہے تو کتنا ہوتا ہے؟ میرے چچا کی وراثت ہے اور وہ مکمل میرے چچا کی تھی، مطلب ہمارے دادا غریب تھے ،سب میرے چچا نے خود بنایا ہے۔ اب چچا کا انتقال ہو گیا ہے تو دوسرے چچا اور پھوپھی اور رشتے دار کہہ رہے ہیں کہ اس میں سے دادی کا حصّہ بھی دو۔ تو کیا وراثت میں دادی کا حصہ بھی ہے؟
تنقیح:سائل نے بتایا ہے کہ میت کی اولاد اور بیوی بھی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم کی وفات کے بعد اس کے ورثہ میں اگر اس کی ماں موجود ہوتو اس کوبھی میراث میں سے حصہ دیا جائے گا۔ میت کی چونکہ اولاد بھی موجود ہے اس لیے صورت مسئولہ میں ماں کو جائیداد کا چھٹا حصہ ملے گا،باقی مال اس کی اولاد میں تقسیم ہوگا۔ مرحوم کے بھائی اور بہنوں کو میراث حصہ نہیں ملے گا۔
حوالہ جات
ﵟوَلِأَبَوَيۡهِ لِكُلِّ وَٰحِدٖ مِّنۡهُمَا ٱلسُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُۥ وَلَدٞۚ فَإِن لَّمۡ يَكُن لَّهُۥ وَلَدٞ وَوَرِثَهُۥٓ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ ٱلثُّلُثُۚ فَإِن كَانَ لَهُۥٓ إِخۡوَةٞ فَلِأُمِّهِ ٱلسُّدُسُۚ ﵞ [النساء: 11]
(وللأم) ثلاثة أحوال (السدس مع أحدهما أو مع اثنين من الأخوة أو) من (الأخوات) فصاعدا من أي جهة كانا ولو مختلطين... (قوله مع أحدهما) أي الولد وولد الابن ذكرا أو أنثى. (قوله من أي جهة كانا) أي سواء كان الاثنان فأكثر لأبوين أو لأب أو لأم (قوله ولو مختلطين) أي ذكورا وإناثا من جهة واحدة أو أكثر.(الدر المختار مع رد المحتار ط :6/ 772)
والثالثة - الأم ولها ثلاثة أحوال: السدس مع الولد وولد الابن أو اثنين من الإخوة والأخوات من أي جهة كانوا. ( الفتاوى الهندية:6/ 449)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
4/محرم الحرام ،1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


