| 87890 | نکاح کا بیان | نکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں |
سوال
ایک شخص "بکر" نے دو نکاح کیے ہیں: 1. پہلی بیوی کا نام عائشہ ہے، جس سے بکر کی ایک بیٹی مریم ہے۔ 2. دوسری بیوی کا نام زینب ہے، اور زینب کا ایک بھائی ہے جس کا نام عامر ہے۔ اب مسئلہ یہ درپیش ہے کہ: کیا بکر (باپ) اپنی بیٹی مریم (جو کہ پہلی بیوی عائشہ سے ہے) کا نکاح اپنی دوسری بیوی زینب کے بھائی عامر سے کرا سکتا ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں کہ: کیا مریم اور عامر کے درمیان نکاح شرعاً جائز ہے؟ اگر کوئی رکاوٹ ہو تو اس کی وضاحت فرما دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں مریم اور اس کی سوتیلی ماں کے بھائی عامر کے درمیان تو نہ نسبی، نہ رضاعی، اور نہ ہی مصاہرت کا ایسا تعلق ہے جو شرعی حرمت کا باعث ہو، اس لیے ان دونوں کا نکاح شرعاً جائز ہے۔ اس میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں۔
حوالہ جات
(القسم الثاني المحرمات بالصهرية) . وهي أربع فرق: (الأولى) أمهات الزوجات وجداتهن من قبل الأب والأم وإن علون (والثانية) بنات الزوجة وبنات أولادها وإن سفلن بشرط الدخول بالأم، كذا في الحاوي القدسي سواء كانت الابنة في حجره أو لم تكن، كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان. وأصحابنا ما أقاموا الخلوة مقام الوطء في حرمة البنات هكذا في الذخيرة في نوع ما يستحق به جميع المهر. (والثالثة) حليلة الابن وابن الابن وابن البنت وإن سفلوا دخل بها الابن أم لا. ولا تحرم حليلة الابن المتبنى على الأب المتبني هكذا في محيط السرخسي.(والرابعة) نساء الآباء والأجداد من جهة الأب أو الأم وإن علوا فهؤلاء محرمات على التأبيد نكاحا ووطئا، كذا في الحاوي القدسي. ( الفتاوى الهندية:1/ 274)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
4محرم الحرام/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


