03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کی طرف سے ذہنی دباؤ کی وجہ سے طلاق دینے کا حکم
87869طلاق کے احکاممدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

سوال

جبری طلاق (اکراہ) کے مسئلے پر شرعی رہنمائی کی گزارش ہے ۔الحمدللہ، میں مسلمان ہوں اور فقہ حنفی کا پیروکار ہوں، اور میری زندگی کی رہنمائی قرآن، سنت اور ائمہ کرام کے اصولوں سے ہوتی ہے۔ میری بیوی اہلِ حدیث مسلک سے تعلق رکھتی ہیں۔ میرے نکاح کے معاملے میں ایک نازک صورتحال پیش آئی ہے۔ہم الگ گھر میں رہتے تھے (جوائنٹ فیملی نہیں تھی) اور اس وقت صرف میں اور میری بیوی کمرے میں موجود تھے۔  میری بیوی نے بار بار کہا کہ اگر میں  نے اُسے طلاق نہ دی تو وہ اپنی جان لے لے گی۔ اس نے قینچی سے خود پر کئی بار حملہ کیا، جس میں ایک بار اس نے زور سے اپنے پیٹ میں قینچی ماری، جس سے اسے چوٹ بھی آئی۔  میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر عرض کرتا ہوں کہ میری نیت طلاق دینے کی نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے، میں صرف اس کی جان بچانے کے لیے مجبور ہو کر الفاظ ادا کر بیٹھا۔ یہ طلاق کی تیسری بار تھی۔ پہلی دو مرتبہ بھی میری بیوی نے سخت زبان اور بدتمیزی کے ذریعے مجھ پر دباو ڈال کر طلاق کے الفاظ کہلوائے، لیکن اس بار (تیسری بار) صرف زبانی دھمکی نہیں دی ،بلکہ اس نے عملی طور پر خودکشی کی کوشش کی۔ میں مفتیان کرام کی خدمت میں عاجزانہ درخواست کرتا ہوں کہ اس پیچیدہ صورتحال میں شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ میری بیوی اہل حدیث علماء سے فتویٰ لے کر آئی ہیں ۔اہلِ حدیث مکتبہ فکر کے علماء نے ابنِ ماجہ حدیث 2046 کی بنیاد پر یہ فتویٰ دیا ہے کہ "تین چیزیں سنجیدگی اور مزاح دونوں میں واقع ہو جاتی ہیں: نکاح، طلاق اور رجوع۔" لیکن اس کے ساتھ اگر طلاق اکراہ (زبردستی/دھمکی) کے تحت ہو تو وہ نافذ نہیں ہوتی۔ امام ابو حنیفہؒ کا قول ہےکہ "جب میری بات کسی صحیح حدیث کے خلاف ہو تو میری بات چھوڑ دو اور حدیث کو لے لو، وہی میرا مذہب ہے"۔رد المحتار میں ہے: "اکراہ صرف اُسی وقت مانا جائے گا جب طلاق دینے والا شخص موت یا جسمانی اعضاء کے ضیاع کے خوف سے خوفزدہ ہو"۔حضرت  مفتی محمد  تقی عثمانی صاحب کا بھی رجحان ہے کہ "اگر طلاق انتہائی ذہنی دباؤ یا زبردستی کی حالت میں ہو، تو اس پر نظرِ ثانی کی گنجائش موجود ہے۔" میری گزارش کا خلاصہ یہ ہے کہ  میری نیت طلاق کی ہرگز نہ تھی۔ میری بیوی واقعی اپنی جان لینے کی کوشش کر رہی تھی، میں نے صرف جان بچانے کے لیے ایسا کیا۔ میں اہل حدیث کے فتویٰ کو اس نیت سے منسلک کر رہا ہوں تاکہ اس پر بھی غور کیا جا سکے۔ میں اس وضاحتی درخواست کے ساتھ اہلِ حدیث کا فتویٰ بھی منسلک کر رہا ہوں تاکہ مفتی کرام اس پر غور فرمائیں اور شریعت کی روشنی میں رہنمائی عطا فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں جب شوہر نے زبان سے طلاق دے دی تو وہ واقع ہوگئی ،اگرچہ عورت کے دباؤ میں آکر دی ہو۔ اب تیسری طلاق ہوجانے کی وجہ سے  بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے،  فوراً علیحدگی ضروری ہے ،کسی بھی قسم کا تعلق رکھنا جائز نہیں ،ورنہ دونوں سخت گناہ گار  ہوں گے۔

رد المحتار کی جو عبارت آپ نے سوال میں درج کی ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ اکراہ کی حالت  میں طلاق  واقع نہیں ہوتی ،بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اکراہ اس وقت معتبر ہوگا جب  انسان کو جان یا کسی عضو کے ضائع ہونے کا ڈر ہو۔ طلاق کے  کے واقع ہونے یا نہ ہونے کا ذکر اس عبارت میں نہیں ہے ،لیکن رد المحتار ہی کی ایک اور عبار ت ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ  اکراہ کی حالت میں طلاق  واقع ہوجاتی ہے  چنانچہ رد المحتار کے کتاب الاکراہ کی عبارت  ہے :

" (وصح نكاحه وطلاقه وعتقه) لو بالقول"(6/762)  یعنی  اگر کوئی  آدمی  اکراہ کی حالت میں زبان سے  طلاق دے دے تو وہ طلاق صحیح اور واقع ہوگی۔

باقی آپ نے  حضرت  مفتی محمد تقی عثمانی صاحب  کے حوالہ سے جو بات نقل کی ہے ،وہ  تو ہمارے علم میں نہیں ،لیکن حضرت مفتی محمدتقی عثانی صاحب کا ہی ایک تفصیلی فتویٰ موجود ہے جس میں آپ کے ذکر کردہ تمام سوالات کا تفصیلی  جواب موجود ہے۔وہ فتویٰ یہاں ذکر کیا جاتا ہے:

حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا فتویٰ:

"حنفیہ  کے نزدیک طلاق مکرہ واقع ہوجاتی ہے،حنفیہ کے دلائل درج ذیل ہیں :

الف: قولہ صلی  اللہ علیہ وسلم ثلاث جدھن جد وھزلھن جد،النکاح  والطلاق والرجعۃ.أخرجہ الترمذي ،وقال حسن غریب .وقد أخرج الجصاص في أحکام القران  عن سعید بن المسیب عن عمر قال : أربع واجبات علی کل من تکلم بھن ،العتاق والطلاق  والنکاح والنذر

            ان احادیث سے معلوم ہوا کہ محض تلفظ ِ طلاق موجب ِ وقوع طلاق ہے،خواہ نیت و ارادہ ایقاعِ طلاق کا نہ ہو،اور اکراہ میں بھی یہی صورت ہے ۔

ب:عن صفوان بن عمران الطائی أ ن رجلا  کان نائما ،فقامت امرأتہ فأخذت سکینا   فجلست  علی صدرہ،فقالت: لتطلقنی ثلاثا  أو لأذبحنک ،فطلقھا ۔ثم أتی النبي صلی اللہ علیہ وسلم  فذکرہ لہ ذلك،فقال:لا قیلولۃ فی الطلاق ۔أخرجہ الإمام محمد والعقیلی

            اور علامہ ظفر احمدعثمانی ؒ نے "اعلاء السنن" میں ج11،ص 125 میں اس بات پر دلائل دیئے ہیں کہ یہ حدیث سنداً قابل استدلال ہے۔

ج:مصنف عبدالرزاق میں  حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما  سے مروی ہے کہ وہ مکرہ کی  طلاق کو واقع قرار دیتے تھے، اور یہی مذہب  مصنف عبدالرزاق میں امام شعبی،امام نخعی،حضرت قتادہ اور حضرت ابو قلابہ رحمہم اللہ سے مروی ہے۔

            أبو داؤد کی حدیث (اسی طرح ابن ماجہ کی حدیث نمبر :2046)"لا طلاق ولا عتاق فی اغلاق "کی توجیہ حنفیہ کرتے ہیں کہ "اغلاق "  کا لفظ اکراہ کے معنی میں صریح نہیں ،بلکہ اس کے معنیٰ غلبہ عقل کے بھی ہیں ،لہذا اس کا  مطلب یہ ہے کہ مغلوب العقل ہونے کی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی ۔

            اگر بالفرض "اکراہ " کے معنیٰ میں لیے جائیں تو مصنف عبدالرزاق کی روایت سے اس کا منسوخ ہونا سمجھ میں آتا ہے،اور وه روایت یہ ہے :عن سعید بن جبیر أنہ بلغہ  قول الحسن لیس طلاق المکرہ بشیء،فقال: یرحمہ اللہ ! انما کان أھل الشرك یکرھون الرجل علی الکفر والطلاق ،فذلک الذی لیس بشیء .وأما ماصنع أھل الاسلام بینھم فھو جائز ،حکاہ الزیلعی فی نصب الرایۃ والحافظ فی الدرایۃ وسکتا علیہ.(راجع اعلاء السنن ج :11،ص:125)"

            اس تفصیلی فتویٰ سے واضح معلوم ہورہا ہے کہ  ذہنی دباؤ یا مجبوری کی حالت  میں   جب زبان سے طلاق دی جائے تو حنفیہ کے نزدیک وہ  طلاق واقع ہو جاتی ہے،اور یہی رائے حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب کی بھی ہے۔

حوالہ جات

ویقع طلاق کل زوج  بالغ عاقل ولو عبداً او مکرهاً فإن طلاقه صحیح .... وفي البحر: أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لاتطلق؛ لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة، ولا حاجة هنا، كذا في الخانية.(الدر المحتار مع رد المحتار:3/236)

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة ‌وثنتين ‌في ‌الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا.

(الفتاوى الهندية:1/473)

محمد علی

دارالافتاء  جامعۃ الرشید،کراچی

4/محرم الحرام 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد علی ولد محمد عبداللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب