| 87892 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک مسئلے میں رہنمائی درکار ہے۔ 4 بھائی اکٹھے رہتے ہیں۔ شادی شدہ ہیں اور سب صاحب اولاد ہیں۔ والدہ حیات ہیں، والد فوت ہو چکے ہیں۔ بڑے بھائی کی بیوی سرکاری ملازم ہے اور صرف ایک ہی بیٹی ہے ، باقیوں کی اولاد زیادہ ہے۔ والد کی طرف سے ایک مکان جو کہ والد کے نام پر ہے اور باقی مکان اور جائیداد بھائیوں نے خود مل کر بنائی ہے، اور وہ والدہ اور بڑے بھائی کے نام پر ہے۔ کچھ جائیداد جو کہ بڑے بھائی کی بیوی نے خود خریدی اور اس کے نام پر ہے۔ اس میں آپ کی راہنمائی درکار ہےکہ جو جائیداد بڑے بھائی کی بیوی کے نام پر ہے تو اس کی وفات کے بعد اس جائیداد کی تقسیم کیسے ہو گی؟
تنقیح:سائل کا مقصد یہ پوچھنا ہے کہ آیا بڑےبھائی کی بیوی کی جائیداد کی حقدار صرف اس کی بیٹی ہوگی یا بیٹی کے ساتھ اس کے دیور بھی ہوں گے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت مطہرہ میں دیور وارث نہیں بنتا ،لہذاصورت مسئولہ میں باقی بھائی بڑے بھائی کی بیوی کے شرعاً وارث نہیں ہیں ،لہذا ان کا بڑے بھائی کی بیوی کی جائیداد میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ بڑے بھائی کی بیوی کی وفات کے بعد اس کی جائیداد اس کی بیٹی اور اس کے علاوہ اس کے شوہر ،والد،والدہ اور بہن بھائیوں وغیرہ میں سے جو ورثہ حیات ہوں گے ،ان کے درمیان تقسیم ہوگی۔
حوالہ جات
(ويستحق الإرث) ولو لمصحف به يفتى وقيل لا يورث وإنما هو للقارئ من ولديه صيرفية بأحد ثلاثة (برحم ونكاح) صحيح فلا توارث بفاسد ولا باطل إجماعا (وولاء). (الدر المختار مع رد المحتار:6/ 762)
ويستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والولاء وهو على ضربين: ولاء عتاقة وولاء موالاة وفي كل منهما يرث الأعلى من الأسفل ولا يرث الأسفل من الأعلى... كذا في خزانة المفتين. ( الفتاوى الهندية:6/ 447)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
4محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


