| 87888 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
میاں بیوی میں گھر کے کسی معاملہ پر بحث ہو رہی تھی ، تو شوہر نے غصہ میں آکر کہا : جا تجھے میری طرف سے وہ ہے۔طلاق کے الفاظ نہیں کہے، صرف وہ ہے ،کہا تھا۔جہاں جانا ہے چلی جا، جیسے رہنا ہے رہ ، جو لے کر جانا ہے لے جا ،یہ تیرے بچے یہ سب چیزیں جو لے کر جانی ہے لے جا۔شاید مرد نے یہ جملے اس وقت کہےتھےجب عورت نے کہا کہ تم نے میری زندگی جہنم بنادی ہے ،تو اس پر شوہر نے کہا کہ تو نہ رہوناں اس جہنم میں۔ جہاں جانا ہے وہاں چلی جاؤ، جو لے کر جانا ہے لے جاؤ۔اب شریعت کا کیاحکم ہے،طلاق ہوئی یانہیں؟َ
تنقیح: سائل کی نیت طلاق کی نہیں تھی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر شوہر اپنی بات میں سچا ہے اور اس کی طلاق کی نیت نہ تھی تو مذکورہ صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔تاہم بعض الفاظ ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے نیت نہ ہونے پر بھی طلاق ہوجاتی ہے۔اس لیے ایسے حسا س مسئلے میں ایسے ذو معنیٰ الفاظ سے بچنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
حوالہ جات
الكنايات (لا تطلق بها)قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب، فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة، والكنايات ثلاث: ما يحتمل الرد، أو ما يصلح للسب، أو لا ولا(فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرام بائن) ومرادفها كبتة بتلة (يصلح سبا، ونحو اعتدي واستبرئي رحمك،أنت واحدة، أنت حرة، اختاري، أمرك بيدك، سرحتك فارقتك، لا يحتمل السب والرد،... (وفي الغضب) توقف (الاولان) إن نوى وقع وإلا لا...لان مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لانها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة، ولذا تقبل بينتها على الدلالة لا على النية إلا أن تقام على إقراره بها.عمادية.ثم في كل موضع تشترط النية، فلو السؤال بها يقع بقول نعم إن نويت.(الدر المختار مع رد المحتار:3/298)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
4/محرم الحرام،1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


