03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چوری کا مال فروخت کرنا
87875خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میں موبائل پارٹس کی دکان پر کام کرتا ہوں، اکثر وہاں چوری کا مال بھی بیچا جاتا ہے جو کہ مجبوراً مجھے بھی بیچنا پڑتا ہے، لیکن ایسا کبھی کبھار ہوتا ہے، تین چار دن میں کبھی ایک بار چوری کی کوئی چیز بیچی جاتی ہے، لیکن غالب آمدنی ہماری حلال ہی ہے، کیا اس سے میری ساری تنخواہ حرام ہوجائے گی، جبکہ ہم دکان پر موبائل ریپیرنگ کا کام بھی کرتے ہیں اور اس سے بھی اچھا خاصا کماتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چوری کے مال کی خرید وفروخت اور اس سے حاصل شدہ نفع حرام ہے،اس لئے اس سے احترازلازم ہے،اب تک کی گئی خریدوفروخت پر صدق دل سے استغفار اور آئندہ کے لئے ایسی خرید وفروخت سے بچنے کے پختہ عزم کے ساتھ اپنی آمدن میں سے اس تناسب  کوثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنابھی لازم ہے،البتہ اس کی وجہ سے آپ کی بقیہ حلال طریقے سے کمائی گئی آمدن حرام نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية "(2/ 184):

"إذا ملك السارق المسروق من رجل ببيع، أو هبة، أو ما أشبه ذلك قبل القطع، أو بعده فتمليكه باطل، ويرد المسروق على المسروق منه، ويرجع المشتري على السارق بالثمن الذي دفعه إليه".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

04/محرم 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب