03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کرکٹ ٹورنا منٹ کا حکم
87861جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

ہمارے ہاں کرکٹ ٹورنامنٹ کچھ اس طرح سے ہوتا ہے کہ کمیٹی ٹیموں سے پیسے لےکر ٹورنامنٹ کا انعقاد کرتی ہے اور پیسے ایک طرح سے اپنی ملک میں لے لیتی ہے، یہ میں اس لیے کہ رہا ہوں کیونکہ فائنل کے بعد جیتنے اور ہارنے والی دونوں ٹیموں کو بھی کچھ پیسے دے دیتی ہے،جتنا کمیٹی والے چاہیں۔ باقی اپنے پاس رکھ لیتی ہے۔ تو کیا یہ ٹورنامنٹ بھی قمار کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں اور اس  میں شرکت کرنا کیسا ہے؟

 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر ٹورنامنٹ  کمیٹی کرکٹ کے اخراجات (بال، بیٹ وغیرہ) کے لیے ہر ٹیم سے کچھ متعین فیس لے ، پھر یہ تمام رقم کرکٹ انتظامیہ کے قبضہ  اور ملک میں رہے۔تمام انتظامات کے بعد اور آخر میں جو رقم بچ جائےوہ کرکٹ انتظا میہ اپنی صوابدید پر جیتنے والی ٹیم کو دے یا ان کے لیے کوئی ٹرافی انعام کے طور پر خرید لے،تو یہ صورت قمار  میں شامل نہیں ہے۔ اسی طرح یہ کمیٹی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑی کو بھی کوئی خاص انعام دے سکتی ہے۔

لیکن اگر ایسا نہ  ہوتو پھریہ صورت  اختیار کی جائے کہ ٹورنامنٹ میں ایک ایسی ٹیم کو  بغیر فیس لیے شامل کرلیا جائے جو کھیل کی صلاحیت میں باقی ٹیموں کے ہم پلہ ہواور اس کا جیتنا ممکن ہو،یا انہی ٹیموں میں سے ایک مضبوط ٹیم کو فیس سے استثناء دے دیا جائے،تو یہ صورت جائز ہوگی۔

حوالہ جات

             ( الباب السادس في المسابقة ) السباق يجوز في أربعة أشياء : في الخف يعني البعير ، وفي الحافر يعني الفرس والبغل ، وفي النصل يعني الرمي ، وفي المشي بالأقدام يعني العدو ، وإنما يجوز ذلك إن كان البدل معلوما في جانب واحد بأن قال : إن سبقتني فلك كذا ، وإن سبقتك لا شيء لي عليك أو على القلب ، أما إذا كان البدل من الجانبين فهو قمار حرام إلا إذا أدخلا محللا بينهما فقال كل واحد منهما : إن سبقتني فلك كذا ، وإن سبقتك فلي كذا ، وإن سبق الثالث لا شيء له ، والمراد من الجواز الحل لا الاستحقاق.

 (الفتاوى الهندية:5/324)

 (وحرم شرط الجعل من الجانبين لا من أحد الجانبين) لما روى ابن عمر رضي الله عنهماأن النبي ﷺ سبق بالخيل وراهن. ومعنى شرط الجعل من الجانبين أن يقول إن سبق فرسك فلك علي كذا، وإن سبق فرسي فلي عليك كذا وهو قمار فلا يجوز؛ لأن القمار من القمر الذي يزاد تارة وينقص أخرى وسمي القمار قمارا؛ لأن كل واحد من القمارين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ويجوز أن يستفيد مال صاحبه فيجوز الازدياد والنقصان في كل واحدة منهما فصار ذلك قمارا وهو حرام بالنص ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد بأن يقول إن سبقتني فلك علي كذا، وإن سبقتك فلا شيء لي عليك؛ لأن النقصان والزيادة لا يمكن فيهما وإنما في أحدهما يمكن الزيادة وفي الأخرى النقصان فلا يكون مقامرة؛ لأن المقامرة مفاعلة منه فيقتضي أن يكون من الجانبين .وإذا لم يكن في معناه جاز استحسانا. (البحر الرائق:8/554)

(التبویب،فتوی نمبر:63077،74695)

کرکٹ ٹورنامنٹ بنانا،ہارجیت پر انعام دینا

فیس لے کر میچ کھیلنا

 

محمد علی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

5/محرم الحرام ،1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد علی ولد محمد عبداللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / شہبازعلی صاحب