03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کاروباری شرکت میں ذاتی اخراجات کا حکم
87734شرکت کے مسائلمشترک چیزوں کے اخراجات کے مسائل

سوال

کاروبار کی تفصیل: میں اور میرے کاروباری پارٹنر نے تقریباً آٹھ دس سال قبل کراچی میں مشترکہ کاروبار کا آغاز کیا، جو ابتدائی سالوں میں نفع بخش رہا، تاہم آخری سال نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ نقصان کے بعد پارٹنر نے تجویز دی کہ دوسروں کی مصنوعات پر کاروبار کرنے کے بجائے اپنی فیکٹری قائم کی جائے اور کراچی کا نقصان زدہ کاروبار ختم کر دیا جائے۔ چنانچہ ہم نے وہاں سے اپنا سرمایہ نکال کر شراکت ختم کر دی۔

بعد ازاں گوجرانوالہ میں فیکٹری لگانے کے لیے ہماری نئی شراکت طے پائی، جس میں کچھ امور تحریری اور کچھ زبانی طے ہوئے۔ فیکٹری  لگانے کےلئے  سو فیصد سرمایہ  میرے پارٹنر نے فراہم کیا جس میں سے دو تہائی اس کا حصہ تھا اور ایک تہائی مجھے بطور قرض دیا جو کہ کاروبار  میں میرا حصہ تھا، یوں کاروبار کی ملکیت ایک تہائی ہماری اور دو تہائی پارٹنر کی ہے اور نفع  و نقصان کا ریشو بھی یہی ( پار ٹنر کا حصہ دو تہائی اور میرا ایک تہائی) رکھا گیا۔نیز یہ بات بھی طے ہوئی تھی کہ جب تک فیکٹری مستحکم نہ ہوجائے اور اپنے پاؤں پر کھڑی نہ ہو،اس وقت تک کوئی بھی فریق ایک دوسرے کی اجازت کے بغیر کاروبار سے نہ نفع حاصل کرے گا اور نہ ہی ذاتی استعمال کےلئے کوئی رقم نکالے گا۔

چونکہ یہ کاروبار اور فیکٹری گوجرانوالہ میں شروع ہو رہی تھی، اس لیے پارٹنر نے ہم سے کہا کہ فیکٹری کو لگانے، چلانے اور سنبھالنے کےلئے ہمیں گھر کراچی سے لاہور شفٹ کرنا ہوگا،جبکہ وہ خود حیدرآباد میں مقیم رہ کر کاروباری معاملات میں شریک رہیں گے۔

اس پر پہلے میں نے یہ سوال اٹھایا کہ": جب فیکٹری سے کسی قسم کی رقم لینا ممنوع ہے، تومیں اپنی     ذاتی و عائلی اخراجات ( مثلا:گھر کی منتقلی،نان ونفقہ،رہائش کا کرایہ اور دیگر گھریلوضروری اخراجات) کہاں سے پورا کروں گا؟

اس کے جواب میں دوسرے شریک نے یہ وضاحت پیش کی کہ:"لاہور میں جو ہمارا مشترکہ شیشے و کراکری کا کاروبار ہے، اس میں آپ کے حصے کا جو نفع آپ کو حاصل ہوگا، آپ اپنے یہ اخراجات اسی نفع سے پورا کریں۔اور مزید یہ وعدہ کیا کہ " میں اس (مشترکہ شیشے و کراکری )کاروبار کی دیکھ بھال اور ترقی پر توجہ بھی  دوں گا، تاکہ اس سے معقول نفع حاصل ہو اور آپ کے ضروری اخراجات اس سے بآسانی پورے ہو سکیں۔"معاہدے کے مطابق   جب تک فیکٹری مستحکم نہ ہو جائے، کوئی بھی پارٹنر اس سے ذاتی استعمال کے لیے کوئی رقم نہیں نکالے گا۔لیکن بعد میں انہوں  نے حسبِ وعدہ  لاہور میں جاری مشترکہ شیشے و کراکری کے کاروبارکو ٹھیک طرح سے  جاری نہیں رکھا  بلکہ اس کاروبار سے رقم نکال کر ایک دوسرے ذاتی کاروبار میں لگا دی، جس میں ہم شریک نہیں تھے۔

کراکری/شیشے کا وہ کاروبار صرف وقتاً فوقتاً مخصوص آرڈرز کے تحت معمولی سطح پر جاری رکھا گیا، جس سے حاصل ہونے والا نفع میرے ان اخراجات (گھر کی منتقلی،نان ونفقہ،رہائش کا کرایہ اور دیگر گھریلوضروری اخراجات) کے لیے ہرگز کافی نہ تھا اور نہ  ہی  عرفِ عام میں  وہ  کاروبار اس طرح چلایاجاتا ہے ۔

نتیجتاً،ہمیں اہلِ خانہ سمیت دوسرے شہر (لاہور )منتقل ہونے کے بعد اپنے ذاتی اخراجات  دیگر ذرائع سے پورے کرنے پڑے،جن میں ذاتی گھر اور کمرشل پراپرٹی کی فروخت بھی شامل ہے۔

اب  سوال یہ ہے کہ کیا ہم وہ اخراجات، جو فیکٹری اور مشترکہ کاروبار کی نگرانی، دیکھ بھال اور انتظامی امور کی غرض سے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقلی کے نتیجے میں ہم نے برداشت کیے (جیسے: شفٹنگ کے اخراجات، رہائش کا کرایہ اور دیگر لازمی گھریلو اخراجات)، مشترکہ کاروبار سے بطور "کاروباری اخراجات" وصول کرنے کے شرعی طور پر حقدار ہیں؟ جبکہ ہماری شہر بدری اور ان اخراجات کی بنیادی وجہ صرف فیکٹری کے قیام اور اس کے انتظامات تھےاور پارٹنر کی طرف سے فنڈ فراہم کرنے کے وعدے پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ اس سلسلے میں ماضی میں کاروباری اخراجات کےلئے ہم نے ایک مستند ادارے( دار الافتاء جامعہ دار العلوم  کراچی) سے فتویٰ بھی حاصل کیا تھا، جس میں ہمیں مطالبہ کا حق دیا گیا تھا۔( فتوی منسلک ہے)۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کاروباری شریک کے اخراجات سے متعلق اصولی وضاحت:

چونکہ کاروبار میں شریک شخص اپنے نفع کے حصول کے لیے کام کر رہا ہوتا ہے، اس لیے اصل اصول یہی ہے کہ وہ اپنے ذاتی اخراجات (مثلاً: گھر کی منتقلی، نان و نفقہ، رہائش کا کرایہ اور دیگر گھریلو اخراجات) خود ہی برداشت کرے گا اور یہ اخراجات کاروبار کے ذمے شمار نہیں کیے جائیں گے۔لیکن اس کے باوجود فقہاء کرام نے سفر کی صورت میں شریک کو یہ حق دیا ہےکہ  اگر شریک کاروباری مقصد کے تحت کسی دوسرے شہر کا سفر کرے اور وہاں پندرہ دن سے کم مدت کے قیام کی نیت ہوتو  اُس سفر اورشہر میں  قیام  کی صورت میں ،عرف کے مطابق جو  اخراجات ہوں گے ان کو "کاروباری اخراجات" قرار دیا جا سکتا ہے اور شریک ان کو کاروبار سے وصول کرنے کا مستحق ہوگا۔نیزاس استحقاق  کی ایک اہم شرط یہ ہے کہ وہ شہر، جس کی طرف شریک سفر کر رہا ہو، وہاں نہ تو اس کے اہل و عیال مقیم ہوں اور نہ ہی اس نے وہاں پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت کی ہو۔

البتہ   راستے کے دوران آنے والے اخراجات مثلاً:شریک  کا اپنا ذاتی سفر کا کرایہ، ایندھن، اورشریک کا ذاتی کھانے پینے کا خرچ "کاروباری اخراجات" میں شمار ہوں گے،ان کو کاروباری اخراجات کے طور پر کاروبار سے لینے کا شرعاً حق  ہوگا،لیکن اگر اہلِ خانہ بھی ہمراہ ہوں، تو ان کے سفرکا کرایہ اور کھانے پینے کے اخراجات "ذاتی اخراجات" میں شمار ہوں گے، "کاروباری اخراجات"میں ان کو شمار نہیں کیا جائے گا  ،کیونکہ یہ کاروبار سے متعلق نہیں بلکہ ذاتی نوعیت کے ہوتے ہیں۔لہٰذا اگر شریک کے اہل و عیال وہاں مقیم ہوں، یا اس نے وہاں پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت سے سفر کیا ہو، تو ایسی صورت میں اُس کے ذاتی اخراجات (مثلاً: گھر کی منتقلی، نان و نفقہ، رہائش کا کرایہ اور دیگر گھریلو اخراجات) ـ"ذاتی اخراجات" شمار ہوں گے،  کاروبار سے ان اخراجات کی وصولی کا  حق شرعاً  حاصل نہ ہوگا۔

 صورتِ مسئولہ میں چونکہ آپ اپنے اہل و عیال کے ہمراہ مستقل طور پر اُس شہر میں رہائش پذیر ہو چکے ہیں، اس لیے آپ کے یہ اخراجات (مثلاً: گھر کی منتقلی، نان و نفقہ، رہائش کا کرایہ اور دیگر گھریلو اخراجات) شرعی اعتبار سے ذاتی اخراجات شمار ہوں گے،  ان اخراجات کو آپ اپنے ذاتی رقم سے برداشت کریں گے ،کاروبار سے ان  کی وصولی کا آپ کو شرعاً حق حاصل نہیں۔البتہ   راستے کے دوران آنے والے اخراجات مثلاً: آپ  کا اپنا ذاتی سفر کا کرایہ، ایندھن، اورآپ کا ذاتی کھانے پینے کا خرچ "کاروباری اخراجات" میں شمار ہوں گے،ان کو کاروباری اخراجات کے طور پر کاروبار سے لینے کا شرعاً حق رکھتےہو۔نیز اگر اہلِ خانہ بھی ہمراہ ہوں، تو ان کے سفرکا کرایہ اور کھانے پینے کے اخراجات "ذاتی اخراجات" میں شمار ہوں گے، "کاروباری اخراجات"میں ان کو شمار نہیں کیا جائے گا  ،کیونکہ یہ کاروبار سے متعلق نہیں بلکہ ذاتی نوعیت کے ہوتے ہیں۔

جبکہ سابقہ فتویٰ (دارالافتاء، جامعہ دارالعلوم کراچی) میں کھانے پینے اور دیگر کاروباری اخراجات کے مطالبے کا حق اس بنیاد پر دیا گیا تھا کہ آپ کے بھائی فیکٹری کی نگرانی اور دیکھ بھال کے لیے لاہور سے گوجرانوالہ آتے جاتے تھے،گوجرانوالہ میں  نہ تو ان کے اہل و عیال مقیم تھےاور نہ ہی انہوں نے وہاں پندرہ دن یا اس سے زائد قیام کی نیت کی تھی۔ بلکہ وہ صرف عارضی طور پر، کاروباری امور کی انجام دہی کے لیےآتے جاتے تھے۔

البتہ، اگر شریک نے لاہور میں جاری کراکری/شیشے کے کاروبار کو بہتر انداز میں جاری رکھنے اور اس سے مستقل نفع حاصل ہونے کا وعدہ کیا تھا اور آپ نے اسی وعدے کی بنیاد پر کراچی سے لاہور منتقلی اختیار کی، تو اب اگر شریک نے اس وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کاروبار سے اپنا سرمایہ نکال لیا اور کاروبار کو عرف کے مطابق صحیح طرح جاری نہیں رکھا،جس کے نتیجے میں آپ کو لاہور میں اضافی اور ناگزیر اخراجات برداشت کرنا پڑے، تو ایسی صورت میں شرعاً ان تمام اضافی اور ناگزیر اخراجات کا ضامن وہی شریک ہوگا۔ بشرطیکہ یہ اخراجات واقعی آپ کی لاہور منتقلی کا براہِ راست نتیجہ ہوں۔

لہٰذا، شریک کے سرمایہ نکالنے کے بعد وہ تمام اخراجات جو صرف اور صرف لاہور میں قیام پذیر ہونے کی وجہ سے لاحق ہوئے،اگر آپ کراچی میں مقیم رہتے تو وہ اخراجات پیش نہ آتے (مثلاً: سامان کی منتقلی، افراد کی آمد و رفت، اور شفٹنگ کے دوران راستے کے تمام اخراجات)، تو ان سب اخراجات کا ضمان شرعاً شریک پر لازم ہوگا  اور بطورِ ضمان ان کا مطالبہ شریک سے کرنا جائز ہے۔البتہ، یہ بات ملحوظ رہے کہ نان و نفقہ اور دیگر عمومی گھریلو ضروریات کے اخراجات اس میں شامل نہیں ہوں گے، کیونکہ ان ذاتی اخراجات کا مطالبہ شرعاً شریک سے نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ پہلے وضاحت کی جاچکی ہے۔

رہائش کی کیفیت اگر یہ ہو کہ کراچی میں بھی کرایہ پر مقیم تھے اور لاہور میں آ کر بھی کرایہ کے مکان میں سکونت اختیار کی، تو ایسی صورت میں اگر لاہور کا کرایہ کراچی کے کرایے سے زیادہ ہو، تو اس اضافی کرایے کا ضمان بھی شریک پر لازم ہوگا، اور اس کا مطالبہ شرعاً شریک سے کیا جا سکتا ہے۔اور اگر کراچی میں آپ کا ذاتی مکان تھا اور لاہور آ کر کرایہ پر رہائش اختیار کی، تو ایسی صورت میں اگر کراچی والے ذاتی مکان کو کسی کو کرایہ پر دیا گیا ہو یا دیا جا سکتا ہو، تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو لاہور کے کرایے میں شامل سمجھا جائے گا۔ پھر اگر لاہور کا کرایہ اس آمدنی سے زیادہ ہو، تو اس زائد کرایے کا مطالبہ بھی شریک سے کیا جا سکتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ آپ کی کراچی سے لاہور منتقلی کی بنیاد شریک کا وعدہ تھا، لہٰذا جب شریک نے اس وعدے کی خلاف ورزی کی، تو اس کے نتیجے میں جتنے بھی اضافی اور ناگزیر اخراجات آپ کو برداشت کرنا پڑے، بشرطیکہ وہ اخراجات براہِ راست لاہور منتقلی کا نتیجہ ہوں، ان کا ضمان شریک پر شرعاً لازم ہوگا، اور آپ کو ان کا مطالبہ کرنے کا شرعی حق حاصل ہے۔

حوالہ جات

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (6/ 105):

«(وأما) شرط الوجوب فخروج المضارب بالمال من المصر الذي أخذ المال منه مضاربة، سواء كان المصر مصره أو لم يكن، فما دام يعمل به في ذلك المصر فإن نفقته في مال نفسه لا في مال المضاربة، وإن أنفق شيئا منه ضمن؛ لأن دلالة الإذن لا تثبت في المصر، وكذا إقامته في الحضر لا تكون لأجل المال؛ لأنه كان مقيما قبل ذلك فلا يستحق النفقة ما لم يخرج من ذلك المصر، سواء كان خروجه بالمال مدة سفر أو أقل من ذلك، حتى لو خرج من المصر يوما أو يومين فله أن ينفق من مال المضاربة كذا ذكر محمد عن نفسه وعن أبي يوسف من مكان المضاربة لوجود الخروج من المصر لأجل المال، وإذا انتهى إلى المصر الذي قصده، فإن كان ذلك مصر نفسه، أو كان له في ذلك المصر أهل، سقطت نفقته حين دخل؛ لأنه يصير مقيما بدخوله فيه لا لأجل المال، وإن لم يكن ذلك مصره، ولا له فيه أهل، لكنه أقام فيه للبيع والشراء، لا تسقط نفقته ما أقام فيه، وإن نوى الإقامة خمسة عشر يوما فصاعدا ما لم يتخذ ذلك المصر الذي هو فيه دار إقامة؛ لأنه إذا لم يتخذه دار إقامة، كانت إقامته فيه لأجل المال، وإن اتخذه وطنا كانت إقامته للوطن لا للمال فصار كالوطن الأصلي، فنقول:الحاصل أنه لا تبطل نفقة المضاربة بعد المسافرة بالمال إلا بالإقامة في مصره، أو في مصر يتخذه دار إقامة لما قلنا ولو خرج من المصر الذي دخله للبيع والشراء بنية العود إلى المصرالذي أخذ المال فيه مضاربة، فإن نفقته من مال المضاربة حتى يدخله، فإذا دخله فإن كان ذلك مصره، أو كان له فيه أهل، سقطت نفقته وإلا فلا حتى لو أخذ المضارب مالا بالكوفة وهو من أهل البصرة، وكان قد قدم الكوفة مسافرا، فلا نفقة له في المال ما دام بالكوفة لما قلنا فإذا خرج منها مسافرا فله النفقة حتى يأتي البصرة؛ لأن خروجه لأجل المال، ولا ينفق من المال ما دام بالبصرة؛ لأن البصرة وطن أصلي له، فكان إقامته فيها لأجل الوطن لا لأجل المال، فإذا خرج من البصرة له أن ينفق من المال حتى يأتي الكوفة؛ لأن خروجه من البصرة لأجل المال.»

 «الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (4/ 312):

«‌‌[الباب الثاني عشر في نفقة المضارب]

(الباب الثاني عشر في نفقة المضارب) إذا عمل المضارب في المصر فليست نفقته في المال وإن سافر فطعامه وشرابه وكسوته وركوبه معناه شراء وكراء في مال المضاربة فلو بقي شيء في يده بعدما قدم مصره رده في المضاربة ولو كان خروجه دون السفر إن كان بحيث يغدو ثم يروح فيبيت بأهله فهو بمنزلة السوقي في مصر وإن كان بحيث لا يبيت بأهله فنفقته في مال المضاربة كذا في الهداية......لو كان له أهل بالكوفة وأهل بالبصرة ووطنه فيهما جميعا فخرج بالمال من الكوفة ليتجر فيه بالبصرة فإنه ينفق من مال المضاربة في طريقه فإذا دخل البصرة كانت نفقته على نفسه مادام بها فإذا خرج منها راجعا إلى الكوفة أنفق من مال المضاربة في سفره ولو كان أهل المضارب بالكوفة وأهل رب المال بالبصرة فخرج بالمال إلى البصرة مع رب المال ليتجر فيه فنفقته في طريقه وبالبصرة وفي رجوعه إلى الكوفة من مال المضاربة كذا في المبسوط....... ولو نوى المضارب الإقامة في مصر من الأمصار فنفقته في مال المضاربة وإنما تبطل نفقته عن مال المضاربة بإقامته في مصره أو في مصر يتخذه دار إقامة كذا في الذخيرة.»

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

4/ ذو الحجہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب