| 87932 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو نان و نفقہ نہیں دے رہا ہو اور گھر کے بڑوں کے سمجھانے کے بعد بھی نہ سمجھ رہا ہو اور اس بات پر اس کی بیوی شوہر سے طلاق کا بولے اور شوہر طلاق بھی نہ دے رہا ہو اور پھر اس کی بیوی کورٹ سے خلع لے لے تو کیا خلع ہو جائے گی؟
اس نان و نفقہ نہ دینے پر صرف لڑکی کے بھائی، بہن، والدہ اور والد گواہ ہیں اور خلع کے پیپرز پر نان و نفقہ کے واضح الفاظ یا اس سے متعلق جملہ بھی نہیں ہیں اور نہ ہی ان گواہوں کے نام اور ان کی شہادت کے جملے ہیں اور نہ شوہر نے خلع کے کاغذات پر دستخط کئے ہیں،اس حوالے سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا مذکورہ عدالتی خلع شرعا معتبر ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگرچہ مذکورہ صورت میں شرعاً فسخ نکاح کی معقول وجہ(شوہر کا تَعَنُّت) موجود ہے،لیکن چونکہ مذکورہ صورت میں عدالت نے عورت سے اس کے دعوی پر گواہ طلب نہیں کیے،بلکہ محض عورت کے یکطرفہ بیان کی بنیاد پر خلع کی ڈگری جاری کردی،اس لیے شرعا عدالت کا یہ فیصلہ نافذ نہیں ہوا اور یہ عورت بدستور سابقہ شوہر کے نکاح میں ہے،جب تک سابقہ نکاح ختم نہیں ہوجاتا تب تک یہ عورت کسی اور جگہ نکاح نہیں کرسکتی۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية" (4/ 3):
"(وأما حكمها) فاستحقاق الجواب على الخصم بنعم أو لا فإن أقر ثبت المدعى به وإن أنكر يقول القاضي للمدعي: ألك بينة فإن قال: لا، يقول لك يمينه ولو سكت المدعى عليه ولم يجبه بلا أو نعم فالقاضي يجعله منكرا حتى لو أقام المدعي البينة تسمع ،كذا في محيط السرخسي".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
05/محرم 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


