03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دیورسےغیرضروری بات اورگپ شپ لگاناجائزنہیں
87942جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

سوال:ایک مسئلہ کی بناءپر آپ سےسوال کرناتھامیرےگھرمیں میری بھابھی شرعی پردہ نہیں کرتی،گھر کاماحول بہت خراب ہورہاہے،میرےتمام بھائیوں کےسامنےبیٹھتی ہے،سارےان کےکام خودسرانجام دیتی ہے،امی نےکئی دفعہ روکابھی ہےکہ سوائےاپنےشوہرکےدوسروں کےکام تمہاری ذمہ داری نہیں ہے،ایک اپنےدیور سےبہت باتیں کرتی ہے،ہنسی مزاح بھی کرتی ہے،اس سےبہت زیادہ فری  تھی،سارےاس کےکام خودسرانجام دیتی تھی،ایک دوسرےکو دیکھ کر ہنستےتھےتوایک دن امی نےاس بات پردونوں (بھابھی اور بھائی )کو بہت ڈانٹاکیونکہ اس کااپناشوہرسارادن باہرہوتاہے،کام پر رات میں آتاہے،کئی باربڑےبھائی نےان سےشرعی پردہ کا کہا،امی نےبھی کہا،میں نےخودبھی کہا،لیکن وہ نہیں کرتی،اورجب امی نےان دونوں کو دیکھا توایک دوسرےکو دیکھ مسکرارہےتھے،اس پرامی نےڈانٹاتوبھابھی نےاپنےمیکہ میں یہ بتادیاکہ میری ساس مجھ پر الزام لگایاہےکہ میں اپنےدیورکےساتھ غلط تعلق رکھتی ہوں،یہ الزام ہےیانصیحت ؟اس مسئلہ کاحل بتادیں۔

اورانہوں نےاپنی بھابھی نےاپنی کزن پرالزام لگایاہےکہ زناءکا،اوراللہ کی پناہ،لکھتےہوئےبھی شرم آرہی ہےکہ اس نےاپنےسگےماموں کےساتھ غلط کام کیاہے،اس لڑکی کےپاس کوئی گواہ بھی نہیں ہے،اورپورےخاندان میں یہ بات بتادی ،سب نےتعلق توڑدےہیں ،جس لڑکی پرالزام لگایاہےاس کےبھائیوں نےاپنےماموں سےتعلق ہمیشہ کےلیےتوڑدیاہے،اورلڑکی کی ماں نےبھی بھائی سےتعلق توڑدیا،سارےرشتےٹوٹ گئےہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں ساس کی طرف سےبہو کوجوکچھ کہاگیاہےبظاہروہ سمجھانےاورنصیحت کےطورپرہے،سوال میں ذکرکردہ تفصیل کےمطابق ساس کی طرف سےکوئی الزام نہیں لگایاگیاہے،بلکہ بہو کو دیورکی خدمت سےمنع کیاگیاہے،اس میں بہو پرلازم ہےکہ ساس کی بات مانےاور گھرمیں اورکام والی موجود ہوں  تودیورکےکام وغیرہ کسی اور سےکروائےجائیں۔

پردےکی حالت میں شرعی حدود کی رعایت رکھتےہوئےدیورسےضروری بات کرنےکی تو شرعا اجازت ہے،لیکن ایسےکام جن کےکرنےکےنتیجےمیں دیورسےغیرضروری بات چیت کرنی پڑےایسےکاموں سےاحترازشرعا لازم ہے،شریعت میں پردےکابہت سختی سےحکم دیاگیاہے،خاص طورپر دیور سےتوپردےکو لازم قراردیاگیاہے،حدیث میں آتاہےکہ الحمو الموت ۔دیور(یعنی شوہر کابھائی) موت ہے،مطلب یہ ہے کہ جس طرح موت انسان کی ظاہری اوردنیوی زندگی کوہلاک کردیتی ہے،اس طرح" حمو" کاتنہائی میں غیر محرم عورت کے پاس جانا اسکی دینی اوراخلاقی زندگی کوہلاکت وتباہی کے راستہ پرڈال دیتاہے(دیورسےبھی  آہستہ آہستہ باتیں شرو ع ہوتی ہیں پھرناجائزتعلقات شروع ہوجاتےہیں)،اس لیےاس کوبہت سیریس لیناچاہیےاوربہوکومسئلہ بھی سمجھاناچاہیےکہ ساس کی طرف سےجوکچھ کہاجارہاہےوہ شریعت کا حکم ہے،اس لیےاس سےخودبات کرکےاوراس کےوالدین سےبات کرکےپردےکی اورگھرمیں دیگر نامحرم لوگوں سےبات چیت نہ کرنے کی پابندی کروائی جائے۔

بہوکااس کےمقابلےمیں بدلہ لینااور بلاوجہ  کسی پر الزام لگانااور بہتان بازی کرناکہ فلاں نےغلط کام کیاہے،جبکہ حقیقت میں کچھ نہ ہو،شرعا ناجائزاوربہت بڑاگناہے۔اس سےاجتناب لازم ہے۔

حوالہ جات

"صحيح البخاري"5 /  2005:

عن عقبة بن عامر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال   : ( إياكم والدخول على النساء ) فقال رجل من الأنصار يا رسول الله أفرأيت الحمو ؟ قال ( الحمو الموت )۔

"مرقاة المفاتيح " 10 /  53:

 قال الحمو الموت أي دخوله كالموت مهلك يعني الفتنة منه أكثر لمساهلة الناس في ذلك وهذا على حد الأسد الموت والسلطان النار أي قربهما كالموت والنار أي فليحذر عنه كما يحذر عن الموت۔

"تفسير ابن كثير"6 / 409:

ثم قال: { فَلا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ } . قال السُّدِّي وغيره: يعني بذلك: ترقيق الكلام إذا خاطبن الرجال؛ ولهذا قال: { فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ } أي: دَغَل، { وَقُلْنَ قَوْلا مَعْرُوفًا } : قال ابن زيد: قولا حسنًا جميلا معروفًا في الخير.

ومعنى هذا: أنها تخاطب الأجانب بكلام ليس فيه ترخيم، أي: لا تخاطب المرأة الأجانب كما تخاطب زوجها۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

28/ذی الحجہ   1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب