| 87933 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
سوال یہ ہے کہ اگر مذکورہ طریقے سے حاصل کی گئی عدالتی خلع شرعا معتبر نہیں تو پھر اس طریقہ کار کی وضاحت فرمادیں ،جس کے مطابق شرعا بھی نکاح ختم ہوجائے۔
اور اس بات کی بھی وضاحت کر دیں کہ خلع کے پیپر پر نان و نفقہ کے حوالے سے کیا جملہ یا الفاظ ہونا چاہیے،کیونکہ یہی وجہ بنی ہے بیوی کی؟
اسی طرح یہ بھی بتادیں کہ گواہ اپنی گواہی کیسے دیں، جب کہ خلع کے پیپر پر صرف شوہر کے دستخط کے لیے شوہر کو بلاتے ہیں اور گواہوں کو طلب نہیں کیا جاتا؟
تنقیح: سائل نے وضاحت کی ہے تقریبا تین مہینے سے شوہر بیوی کو نان نفقہ نہیں دے رہا،اس وجہ سے کہ وہ نشہ کرتا ہے،سارے پیسے اپنے اوپر خرچ کرتا ہے،بیوی کے لئے راشن وغیرہ کا انتظام نہیں کرتا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں نکاح کو ختم کرنے کا سب سے بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ کسی مناسب طریقے سے کوشش کرکے شوہر کو طلاق دینے پر آمادہ کیا جائے،اگر وہ بغیر عوض کے طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو تو پھر کسی عوض مثلا مہر وغیرہ کے بدلے اس سے خلع لینے کی کوشش کرلی جائے،اگرچہ شوہر کے قصوروار ہونے کی صورت میں اس کے لئے طلاق کے بدلے کوئی عوض لینا جائز نہیں،پھر اگر شوہر نہ طلاق دینے پر آمادہ ہو اور نہ خلع پراور نہ ہی بیوی کے حقوق کی رعایت رکھتے ہوئے اسے ساتھ رکھنے کے لئے تیار ہو اور عورت کے لئے شوہر سے خلاصی حاصل کئے بغیر کوئی چارہ نہ ہو یعنی نہ عورت اپنی عزت محفوظ رکھ کر کسبِ معاش کی کوئی صورت اختیار کرسکتی ہو اور نہ مستقل طور پر کوئی اس کے مصارف برداشت کرنے پر آمادہ ہو تو پھر آپ لوگ دوبارہ عدالت سے رجوع کریں اور خلع کا مدار اس پر رکھیں کہ شوہر وسعت کے باوجود بیوی کا نان نفقہ نہیں دیتا اور اپنی بات ثابت کرنے کے لیے اپنے دعوی کے ساتھ دو گواہ بھی پیش کریں اور جج سے درخواست کریں کہ وہ ان کی گواہی سن لے یا اسٹام پیپر پر ان کی تحریری گواہی جج کے سامنے پیش کریں،جب دو گواہوں کی گواہی کے ساتھ عورت کا دعوی صحیح ثابت ہوجائے تو پھر عدالت شوہر کو سمن بھجواکر عدالت میں حاضر ہونے کا حکم نامہ جاری کرے،جب شوہر عدالت آجائے تو اسے کہے کہ یا تو بیوی کے حقوق ادا کرو یا پھر طلاق دے دو،اگر وہ ان میں سے کسی بات پر آمادہ نہ ہو یا عدالت آئے ہی نہیں تو اس کے بعد قاضی کو بغیر کسی مہلت کے فوری طور پر نکاح فسخ کرنے کا حق حاصل ہوگا ، اس کے بعد عورت عدت گزارے گی،عدت گزرنے کے بعد اسے کسی اور سے نکاح کا حق حاصل ہوگا۔
اور اگر دوبارہ عدالت سے رجوع میں مشکل ہو تو اپنے علاقے کی پنچائیت میں اس معاملے کو لے جائیں اور اس کے سامنے اپنی بات کو گواہوں سے ثابت کردے،اس کے بعد پنچائیت کو مذکورہ بالا طریقہ کار کے مطابق عورت کے نکاح کو فسخ کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
تنبیہ: اگر پنچائیت سے فیصلہ کرایا جائے تو اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ وہ پنچائیت کم از کم تین ایسے ارکان پر مشتمل ہو جو سب علماء ہوں،اگر علماء میسر نہ ہوں تو کم از کم نیک ہوں اور کسی ایسے عالم سے راہنمائی لے کر فیصلہ کریں جو شہادت اور قضاء کے احکام سے بخوبی واقف ہوں،نیز فسخِ نکاح کا فیصلہ پنچائیت کے تمام ارکان کے اتفاقِ رائے سے ہو،کسی کا اختلاف نہ ہو۔
حوالہ جات
"المبسوط للسرخسي" (6/ 173):
"والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد".
"رد المحتار"(ج 12 / ص 122):
"( قوله : وكره تحريما أخذ الشيء ) أي قليلا كان ، أو كثيرا .
والحق أن الأخذ إذا كان النشوز منه حرام قطعا { فلا تأخذوا منه شيئا} إلا أنه إن أخذ ملكه بسبب خبيث ، وتمامه في الفتح ، لكن نقل في البحر عن الدر المنثور للسيوطي : أخرج ابن أبي جرير عن ابن زيد في الآية قال : ثم رخص بعد ، فقال : { فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به } ، قال :فنسخت هذه تلك ا هـ وهو يقتضي حل الأخذ مطلقا إذا رضيت ا هـ أي سواء كان النشوز منه أو منها ، أو منهما .
لكن فيه أنه ذكر في البحر أولا عن الفتح أن الآية الأولى فيما إذا كان النشوز منه فقط ، والثانية فيما إذا لم يكن منه فلا تعارض بينهما ، وأنهما لو تعارضتا فحرمة الأخذ بلا حق ثابتة بالإجماع ، وبقوله تعالى{ ولا تمسكوهن ضرارا لتعتدوا } وإمساكها لا لرغبة بل إضرارا لأخذ مالها في مقابلة خلاصها منه مخالف للدليل القطعي فافهم" .
"رد المحتار" (5/ 414):
"وقال في جامع الفصولين: قد اضطربت آراؤهم وبيانهم في مسائل الحكم للغائب، وعليه ولم يصف ولم ينقل عنهم أصل قوي ظاهر يبنى عليه الفروع بلا اضطراب ولا إشكال فالظاهر عندي أن يتأمل في الوقائع، ويحتاط ويلاحظ الحرج والضرورات فيفتي بحسبها جوازا أو فسادا، مثلا لو طلق امرأته عند العدل فغاب عن البلد، ولا يعرف مكانه أو يعرف، ولكن يعجز عن إحضاره أو عن أن تسافر إليه هي أو وكيلها لبعده أو لمانع آخر، وكذا المديون لو غاب وله نقد في البلد أو نحو ذلك، ففي مثل هذا لو برهن على الغائب، وغلب على ظن القاضي أنه حق لا تزوير، ولا حيلة فيه فينبغي أن يحكم عليه وله، وكذا للمفتي أن يفتي بجوازه دفعا للحرج والضرورات وصيانة للحقوق عن الضياع مع أنه مجتهد فيه، ذهب إليه الأئمة الثلاثة وفيه روايتان عن أصحابنا، وينبغي أن ينصب عن الغائب وكيل يعرف أنه يراعي جانب الغائب ولا يفرط في حقه اهـ وأقره في نور العين.
قلت: ويؤيده ما يأتي قريبا في المسخر، وكذا ما في الفتح من باب المفقود لا يجوز القضاء على الغائب إلا إذا رأى القاضي مصلحة في الحكم له وعليه فحكم فإنه ينفذ؛ لأنه مجتهد فيه اهـ.
قلت: وظاهره ولو كان القاضي حنفيا ولو في زماننا ولا ينافي ما مر؛ لأن تجويز هذاللمصلحة والضرورة".
"الفواكه الدواني "(2/ 41):
"(تنبيهات) الأول: لم ينص المصنف على من ترفع له زوجة المفقود، وقد ذكرنا عن خليل أنه القاضي أو الوالي أو جماعة المسلمين، ولكن عند وجود الثلاثة لا ترفع إلا للقاضي لا لغيره، فإن رفعت لغيره مع التمكن من الرفع له حرم عليها ذلك، وإن مضى ما فعله إن كان هو الوالي أو والي الماء لا جماعة المسلمين، هذا ما يظهر من كلام ابن عرفة كما قاله الأجهوري، وأما لو رفعت لجماعة المسلمين مع وجود الوالي أو والي الماء فالظاهر مضي فعلهم.
وفي السنهوري وتبعه اللقاني أن ظاهر كلام خليل أن الثلاث في مرتبة واحدة وهو كذلك إلا أن القاضي أضبط، ووجود القاضي أو غيره مما ذكر مع كونه يجوز أو يأخذ المال الكثير بمنزلة عدمه فترفع لجماعة المسلمين".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
05/محرم 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


