| 87899 | نکاح کا بیان | حرمت مصاہرت کے احکام |
سوال
میں نے آپ کا فتویٰ )نمبر :70574) پڑھا تھا جو حرمتِ مصاہرت سے متعلق تھا،جس میں یہ شرط تھی کہ جس کو شہوت سے چھو ا ہو اس کے ساتھ رغبت جماع بھی ہو ۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی عورت کو شہوت سے چھو لے اور اس کو شہوت پیدا ہو جائے لیکن رغبت جماع نہیں ہو تو حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگی یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ حرمتِ مصاہرت کے ثبوت کے لیے چند شرائط کا بیک وقت پایا جانا ضروری ہے۔اگر ا ن میں سے کوئی بھی شرط نہ پائی جائے تو حرمتِ مصاہرت ثابت نہ ہوگی۔وہ شرائط درج ذیل ہیں:
.1جس عورت کو چُھوا ہو وہ مشتہاۃ ہو ،یعنی جس کی طرف شہوت پیدا ہوتی ہواور مفتی بہ قول کے مطابق نو (9) سال کی لڑکی مشتہاة ہے۔
.2چھوتےوقت دونوں میں یا کسی ایک میں شہوت پیدا ہو، مرد کے لیے شہوت کا معیار یہ ہے کہ اس کے آلہ تناسل میں انتشار پیدا ہوجائے،اور اگر آلہ تناسل پہلے سے منتشر ہو تو اس میں اضافہ ہوجائے،اور بیمار اور بوڑھےمرد جن کو انتشار نہیں ہوتا اور عورتوں کے لیے شہوت کا معیا ر یہ ہے کہ دل میں ہیجان کی کیفیت پیدا ہو،اور دل کا ہیجان پہلے سے ہو تو اس میں اضافہ ہوجائے۔
.3کسی کپڑے وغیرہ کے بغیر چُھوا ہو یا کوئی ایساباریک کپڑا درمیان میں حائل ہو کہ جسم کی حرارت محسوس ہوئی ہو۔
.4شہوت چھونے کے ساتھ ملی ہوئی ہو،اگر چھوتے وقت شہوت پیدا نہ ہو ،پھر بعد میں شہوت پیدا ہو تو اس کا اعتبار نہیں ہے۔
.5شہوت کی وجہ سے اس عورت کے بارے میں غلط خیال (شہوتِ جماع) دل میں پیدا ہوا ہو۔
.6اس وقت انزال بھی نہ ہوا ہو، اگر اسی وقت انزال ہو گیا تو حرمت ثابت نہ ہو گی۔ (ماخوذاز تبویب70574بحوالہ امداد الأحکام: ج2 ص 797 تا 809)
لہذاصورتِ مسئولہ میں اگر مردکے کسی عورت کو چھونےسے اس میں شہوت توپیدا ہو ئی ہو، لیکن اس کی طرف رغبتِ جماع نہ تھی یا رغبت کسی اورعورت کی طرف تھی تو دونوں صورتوں میں حرمتِ مصاہرت ثابت نہ ہوگی۔
حوالہ جات
شرح الوقاية - ت أبو الحاج» (3/ 10):
(وما دون تسع سنين ليست بمشتهاة، وبه يفتى)
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري» (2/ 5):
وإنما يحرم المس إذا لم ينزل أما إذا أنزل باللمس فالصحيح أنه لا يوجب الحرمة؛ لأنه بالإنزال تبين أنه غير مفض إلى الوطء.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 222) دار الفكر-بيروت:
وكثير من المشايخ لم يشترطوا سوى أن يميل قلبه إليها ويشتهي جماعها، وفرع عليه ما لو انتشر فطلب امرأته فأولج بين فخذي بنتها خطأ لا تحرم عليه الأم ما لم يزدد الانتشار. ثم هذا الحد في حق الشاب أما الشيخ والعنين فحدها تحرك قلبه أو زيادة تحركه إن كان متحركا لا مجرد ميلان النفس فإنه يوجد فيمن لا شهوة له أصلا كالشيخ الفاني، والمراهق كالبالغ، حتى لو مس وأقر أنه بشهوة تثبت الحرمة عليه. وكان ابن مقاتل لا يفتي بالحرمة على هذين لأنه لا يعتبر إلا تحرك الآلة. ثم وجود الشهوة من أحدهما كاف ولم يحدوا الحد المحرم منها في حق الحرمة وأقله تحرك القلب على وجه يشوش الخاطر. هذا وثبوت الحرمة بمسها مشروط بأن يصدقها أو يقع في أكبر رأيه صدقها. وعلى هذا ينبغي أن يقال في مسه إياها: لا تحرم على أبيه وابنه إلا أن يصدقاه أو يغلب على ظنهما صدقه.
عمار بن عبد الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
05 /محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عماربن عبدالحق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


