| 87870 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ہمارے یہاں کئی سالوں سے یہ معمول چلا آ رہا ہے کہ دیندار افراد، بالخصوص وہ لوگ جو مسجد سے وابستہ ہیں، اپنی سالگرہ کے موقع پر یا کچھ دن بعد مسجد کے امام کو مدعو کر کے ایک دینی نشست کا اہتمام کرتے ہیں، جس میں قرآنِ کریم کی تلاوت، کچھ نصیحت آموز بیان اور دعا کروائی جاتی ہے۔ یہ دعوت خاص طور پر سالگرہ کے موقع پر ہی رکھی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس انداز سے سالگرہ منانا شرعاً جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید واضح ہو کہ سالگرہ ، نیو ائیر نائٹ اور اس جیسی دیگر مغربی معاشرتی رسمیں جو ہمارے معاشرے میں رفتہ رفتہ سرایت کر رہی ہیں، بظاہر بہت سادہ اور خوشی وتفریح کے لبادے میں ہمیں مسحور کن نظر آتی ہیں، جبکہ حقیقت میں اپنے اندرگہرے تہذیبی اثرات رکھتی ہیں،جن پر معاشروں کی بقاء کا مدار ہوتاہے۔ دورِ جدید میں کسی معاشرے یا قوم کا بغیر جنگ کے، صرف اپنی ثقافت، اقدار، میڈیا اور سفارت کاری (ڈپلومیسی) کے ذریعے دوسری قوموں کو متاثر کرنا اور اپنے مقاصد حاصل کرنا "سافٹ پاور" (Soft Power)کہلاتا ہے، یہ اقدامات کسی قوم کے دوسری قوم پر غلبہ حاصل کرنے میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ حالیہ گلوبل سافٹ پاور اینڈکس (رپورٹ) کے مطابق سافٹ پاور کے ذریعے جو ممالک دوسرے ممالک پر گہرے ثقافتی اثرات مرتب کرنے اور اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے،ان میں سرفہرست مغربی ممالک ہیں۔اس بات کا بھی عمومی مشاہدہ کیا جا سکتاہےکہ ان ممالک کا عمومی شکار مسلمان اور مسلم ریاستیں ہیں۔
ایسے ہی پیش آمدہ خطرات کے باعث اسلامی شریعت نے اپنے ابتدائی دور میں ہی مسلمانوں کو دوسری قوموں کی پیروی اور مشابہت کے حوالے سے واضح تعلیمات دی ، جن کی تفصیل بھی مختصراً بیان کی جاتی ہے:
انسانی امور کی دو ہی ممکنہ صورتیں ہیں:
1۔اضطراری امور : یعنی جو کام انسانی تدبیر یا اختیار کی حد ود میں نہیں آتے یا انسانی اختیا ر میں تو ہوں لیکن ان کا بنیادی سبب اضطراری امر ہی ہو ،مثلاً انسان کا پیدائشی طور پر دو کانوں والا ہونا ، بھوک لگنا اور بھوک لگنے پر کھانا کھانا وغیرہ ۔ایسے اعمال میں شریعت یہ نہیں کہتی کہ مسلمان کوبھوک لگے، تو وہ کھانا نہ کھائےتاکہ غیر مسلموں سے ممتاز ہو سکے ، بلکہ شریعت اس کی نفی کرتی ہے اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے سختی سے منع کرتی ہے، تاہم اتنا ضرور ہے کہ ایک مسلمان کا لباس اور اعضاء کی زیب و زینت غیر مسلموں سے جدا ہو،اسی طرح کھانا کھانے کے آداب ایسے ہوں کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان فرق نمایاں ہو،جس کے لئے آپ ﷺ کی سنتیں ہمارے لئے بہترین نمونہ ہیں۔
2۔تعبدی ا مو ر : وہ کام جو کسی دلی جذبے کے تحت ظاہر ہوں،مگر ان کا ظہور کسی خارجی تعلیمات کا مرہون منت ہو۔
ایسے اعمال اگر عبادات سے متعلق ہوں ، تو غیر مسلموں سے مشابہت حرام ہو گی، مثلاسینے پر صلیب لٹکانا یا کرسمس ڈے مناناوغیرہ۔اسی طرح ایسے اعمال معاشرت یا عادات سے بھی ہوں اور شرعی نصوص(قرآن و حدیث ) میں برائے راست ان سے منع کیا گیاہو ،تو ان سے بچنا بھی لازم ہے ، جیسے پانچے ٹخنے سے نیچے لٹکانا، ریشم پہننا وغیرہ۔
ایسے اعمال اگر عادات اور معاشرت سے ہوں اور شرعی نصوص میں برائے راست ممانعت نہ ہو ،تو دیکھیں گے کہ کیا ایسا عمل غیر مسلموں کی شناخت (شعار) کا ذریعہ ہے یا نہیں، اگر غیر مسلموں کاخاص شعار ہوتو اسے اپنانامکروہ تحریمی ہو گا،جیسے عیسائی پادریوں کا مخصوص لباس ،یا ان جیسی ٹوپی وغیرہ پہننا۔ کیونکہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا،"جو شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا، وہ انہیں میں سے ہو گا۔"
باقی عادی امور میں سے جو عمل غیر مسلموں کاشعار نہ ہو ، اس کا حکم یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے پاس اس کا متبادل موجود ہو ، تو بھی بہتر یہ ہے کہ جو متبادل مسلمانوں کے پاس ہے ، اس کو استعمال کیا جائے،جیسا کہ آپ ﷺ نے ایک صحابی کے پاس فارسی کمان دیکھی تو اس کو ناپسند کیا اور فرمایا " عربی کمان رکھو ،جس کے ذریعے خدا نے تمھیں قوت و شوکت دی۔"اور اگر ایسے عمل کا مسلمانو ں کے پاس کوئی متبادل بھی موجود نہ ہو ،تو اس چیز میں غیر مسلموں کی مشابہت درست ہے، جیسا کہ موجودہ دور میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وغیرہ۔
مذکورہ بالا تمام تفصیل سے یہ بات واضح ہے کہ اسلام نے مسلمانو ں اور غیر مسلموں کے درمیان ممکنہ حد تک تہذیبی و ثقافتی امتیاز رکھنے کی بھر پور کوشش کی ہے،جس کی رعایت رکھنا ہر باشعور مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
اس تمام تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورت مسئولہ میں سالگرہ کی تقریب اس طور پر رکھنا کہ اس میں تمام جائز کام کیے جائیں(کھانا کھانا، کیک کاٹنا وغیرہ ) ، اور ان کاموں سے اجتناب کیا جائے جو غیر مسلموں کے ہاں رائج ہیں اور شرعاً بھی ممنوع ہیں(گانا بجانا وغیرہ)،اس کی جواز کی حد تک تو گنجائش ہے، تاہم ایک ذمہ دار مسلمان ہونے کی حیثیت سے بہتر یہ ہے کہ ان مجالس کو سالگرہ(برتھ ڈے ) وغیرہ کا نام دینے سے گریز کرنا چاہیے ، تاکہ نئی نسل کا اسلامی تہذیب پر قائم اعتماد متاثر نہ ہو، اور مغربی ثقافت سے جداگانہ حیثیت برقرار رہے۔واللہ اعلم بالصواب!
حوالہ جات
التشبہ فی الاسلام ، قاری طیب صاحب رحمہ اللہ ، ص ۸۸
المفاتيح في شرح المصابيح (5/ 18):
عن ابن عمرَ رضي الله عنه قال: قالَ رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: "مَن تَشبَّهَ بقومٍ فهو منهم".
قوله: "من تشبَّه بقومٍ فهو منهم"؛ يعني: من شَبَّه نفسَه بالكفار في اللباس وغيره من المحرَّمات، فإن اعتقد تحليلَه فهو كافر، وإن اعتقد تحريمَه فقد أَثِمَ، وكذلك من شَبَّه نفسه بالفُسَّاق، ومن شبَّه نفسَه بالنساء في اللباس وغيره فقد أَثِم.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 555):
قال رحمه الله (والإعطاء باسم النيروز والمهرجان لا يجوز) أي الهدايا باسم هذين اليومين حرام بل كفر وقال أبو حفص الكبير رحمه الله لو أن رجلا عبد الله تعالى خمسين سنة ثم جاء يوم النيروز وأهدى إلى بعض المشركين بيضة يريد تعظيم ذلك اليوم فقد كفر وحبط عمله وقال صاحب الجامع الأصغر إذا أهدى يوم النيروز إلى مسلم آخر ولم يرد به تعظيم اليوم ولكن على ما اعتاده بعض الناس لا يكفر ولكن ينبغي له أن لا يفعل ذلك في ذلك اليوم خاصة ويفعله قبله أو بعده لكي لا يكون تشبيها بأولئك القوم، وقد قال صلى الله عليه وسلم «من تشبه بقوم فهو منهم» وقال في الجامع الأصغر رجل اشترى يوم النيروز شيئا يشتريه الكفرة منه وهو لم يكن يشتريه قبل ذلك إن أراد به تعظيم ذلك اليوم كما تعظمه المشركون كفر، وإن أراد الأكل والشرب والتنعم لا يكفر۔
الموسوعة الفقهية الكويتية (12/ 7):
لا يجوز التشبه بالكفار في أعيادهم، لما ورد في الحديث من تشبه بقوم فهو منهم، ومعنى ذلك تنفير المسلمين عن موافقة الكفار في كل ما اختصوا به. (2) قال الله تعالى: {ولن ترضى عنك اليهود ولا النصارى حتى تتبع ملتهم قل إن هدى الله هو الهدى ولئن اتبعت أهواءهم بعد الذي جاءك من العلم ما لك من الله من ولي ولا نصير} (1) وروى البيهقي عن عمر رضي الله عنه أنه قال: لا تعلموا رطانة الأعاجم، ولا تدخلوا على المشركين في كنائسهم يوم عيدهم، فإن السخطة تنزل عليهم.
وروي عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أنه قال: من مر ببلاد الأعاجم فصنع نيروزهم ومهرجانهم وتشبه بهم حتى يموت وهو كذلك، حشر معهم يوم القيامة.
Global Soft Power Index 2025: The shifting balance of global Soft Power.
(Brand Finance.com)
Influence and Attraction: Culture and the race for soft power in the 21st century. (britishcouncil.org )
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
02/محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


