03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مطالبہ طلاق پر ’’فلاں وقت تک رشتہ ختم ہوجائےگا‘‘ کہنے کا حکم
87930طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

ہم میاں بیوی میں لڑائی ہو رہی تھی۔میں نےطلاق کا مطالبہ کیا تو میرے شوہر نے جواب میں یوں کہا:’’ آدھے گھنٹے میں ان شاء اللہ فیصلہ ہوجائے گا،ابھی ساڑھے پانچ ہو رہے ہیں  چھ بجے تک رشتہ ختم ہوجائے گا،تم جو چاہتی ہو وہ ہوجائے گا۔‘‘کیا اس سے طلا ق واقع ہوجاتی ہے؟

وضاحت:شوہر کا بیان ہے کہ میرا مقصد صرف بیوی کو ڈرانا تھا ،اس کے علاوہ میری کوئی نیت نہیں تھی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 صورت مسئولہ میں بظاہرشوہر نے بیوی کے مطالبہ طلاق پر مستقبل  میں طلاق دینے کا وعدہ کیا ہے، چونکہ محض وعدہ کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، اسلئے بظاہر طلاق واقع نہیں ہوئی ، البتہ چھ بجے تک رشتہ ختم ہوجائے گا سے اگر شوہر کی نیت اس وقت کے ساتھ طلاق کو معلق کرنا تھاتو ایسے میں ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 384):

في المحيط لو قال بالعربية ‌أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 133):

فإن قال لامرأته: أنت طالق ‌غدا أو رأس شهر كذا أو في غد صح لوجود الملك وقت الإضافة، والظاهر بقاؤه إلى الوقت المضاف إليه فصحت الإضافة ثم إذا جاء غد أو رأس الشهر فإن كانت المرأة في ملكه أو في العدة أو في أول جزء من الغد والشهر يقع الطلاق وإلا فلا كما في التعليق.

حماد الدین قریشی

دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی

  2/محرم/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب