| 87941 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے والدین وفات پا چکے ہیں ،ہم تین بھائی اور تین بہنیں ہیں، میرے والدین کی ملکیت میں ایک مکان اور ایک دکان تھی، بڑے بھائی نے دکان بیچ کر اپنا مکان خرید لیا، میں نے سب بہن بھائیوں کی رضامندی سے مکان بیچ کر ایک پلاٹ خریدا اور پھر اپنی ذاتی کمائی سے اس کو تعمیر کیا، ابھی تک کسی بھی بہن بھائی نے مکان میں سے حصہ نہیں لیا، اب اگر میں سب کو حصہ دوں تو اُس وقت مکان چھ لاکھ روپے کا بیچا تھا، جبکہ اب اس مکان کی قیمت ایک کروڑ بیس لاکھ روپیہ ہے، سوا یہ ہے کہ کیا پرانی قیمت کے حساب سے بہن بھائیوں کو حصہ دینا ہو گا یا اس مکان کی موجودہ قیمت کے اعتبار دینا ہو گا؟ جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
وضاحت:سائلہ نے بتایا کہ یہ پلاٹ میں نے اپنی ذات کے لیے خریدا تھا، اس وقت سب نے حصہ لینے سے انکار کیا تھا، ابھی ایک صاحب نے مانگا ہے، اس لیے میں حصہ دینا چاہتی ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی وضاحت کے مطابق چونکہ یہ مکان آپ نے ورثاء کی اجازت سے بیچ کر اپنی ذات کے لیے یہ پلاٹ خریدا تھا، اس لیے یہ پلاٹ آپ کی ملکیت ہو گیا، البتہ بیچا گیا مکان چونکہ سب ورثاء کی ملکیت تھا اور سب ورثاء اپنے شرعی حصوں کے اعتبار سے اس میں حصہ دار تھے، پھر جب ان کی اجازت سے وہ مکان بیچا گیا تو ان کا حصہ رقم کی طرف منتقل ہو گیا، لہذا جتنے روپے میں آپ نے وہ مکان بیچا تھا، اس رقم میں ہر وراث اپنے شرعی حصہ کے مطابق حق دار تھا اور اب بھی آپ کے ذمہ اسی رقم کے حساب سے ان کو حصہ دینا لازم ہے، اس پلاٹ کی موجودہ قیمت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (2/ 346) الناشر: دار الفكر،بيروت:
لو تصرف أحد الورثة في التركة المشتركة وربح فالربح للمتصرف وحده، كذا في الفتاوى الغياثية.
الفتاوى الهندية (6/ 140) الناشر: دار الفكر،بيروت:
لو لم يكن على الميت دين فقبض أحد الوصيين تركة الميت فضاعت في يده لا يضمن شيئا ولو قبض أحد الورثة يضمن حصة أصحابه من الميراث إلا أن يكون في موضع يخاف الهلاك على المال فلا يضمن استحسانا.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
6/محرم الحرام1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


