03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زبانی ایجاب و قبول کے بغیر بذریعہ دستخط نکاح کا حکم
87880نکاح کا بیاننکاح صحیح اور فاسد کا بیان

سوال

تقریباً 14 سال قبل میرے ایک رشتہ دار نے مجھ سے کچھ کاغذات پر دستخط کروائے۔ اُس وقت مجھے یہ کہا گیا کہ یہ کاغذات فوج میں ملازمت کے حوالے سے تنخواہ بڑھانے کے لیے درکار ہیں اور صرف کاغذی کارروائی ہے۔ میں نے بھروسے میں آ کر دستخط کر دیے،اُس وقت مجھے بتایا گیا کہ یہ نکاح نہیں ہے، یہ صرف کاغذی  کارروائی ہے،میں نے کوئی ایجاب و قبول کے الفاظ نہیں کہے ،نہ نکاح کا خطبہ ہوا، نہ نکاح کی تقریب ہوئی ،میرے والد (جو زندہ تھے) کو اس کا علم نہیں تھا ،البتہ اس وقت چار گواہ موجود تھے ،مجھے یہ بتایا گیا کہ یہ  صرف سرکاری کام کے لیے  "فیک" نکاح ہے۔

اس کے کئی سال بعد جب والد صاحب کا انتقال ہو گیا، تو میرے گھر والوں نے میری شادی اسی رشتہ دار سے طے کر دی، شادی کے وقت جب میں نے نکاح کے بارے میں پوچھا تو مجھے کہا گیا: "چونکہ تم پہلے ہی دستخط کر چکی ہو، اس لیے نیا نکاح پڑھانے کی ضرورت نہیں،پہلا نکاح ہی اصل نکاح ہے۔"اب میرے سوالات درج ذیل ہیں:

1. کیا یہ دستخط، جنہیں "جعلی" نکاح کہا گیا اور جن میں کوئی ایجاب و قبول نہیں ہوا، شرعی نکاح شمار ہو سکتے ہیں؟یعنی کیا صرف دستخط اور گواہوں کی موجودگی سے نکاح منعقد ہو سکتا ہے؟

 3. اگر پہلا نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوا تھا، تو اب ہمیں شرعی نکاح دوبارہ پڑھوانا چاہیے؟

 4. اگر نکاح شرعی طور پر نہیں ہوا تھا، تو ان 14 سالوں کے تعلقات کی شرعی حیثیت کیا ہو گی؟

 براہ کرم قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ نکاح منعقد ہونے کے لئے   ضروری ہے کہ  فریقین گواہوں کے سامنے بلند آواز سے   ایجاب و قبول  کریں ، ایجاب وقبول  کے صرف لکھ  دینے سے نکاح منعقد نہیں ہوتا۔

لہذا صورت مسئولہ کے حوالے سے  درج ذیل امور واضح ہوں:

1۔ فریقین کی جانب سے زبانی  ایجاب و قبول نہ  پائے جانے کی وجہ سے یہ نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا۔

2۔فریقین اگر    میا ں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو ان پر    مکمل شرعی طریقے سے نکاح   کرنا     لازم   ہے۔

3۔" چودہ سالہ تعلقات " سے متعلق سوال واضح نہیں کہ  "تعلقات "سے کیا مراد ہے؟ تعلقات سے مراد یہ ہو کہ  اس دوران   فریقین نے ازدواجی تعلق قائم کیا ہے،تو ان کا یہ تعلق قائم کرنا ہر گز جائز نہیں تھا، ایسی صورت میں دونوں پر لازم ہے کہ  اپنے اس فعل  پر سچے دل سے توبہ و استغفار کریں۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 270):

ولا ينعقد(النكاح) بالتعاطي، كذا في النهاية .ولا ينعقد بالكتابة من الحاضرين، فلو ‌كتب ‌تزوجتك ‌فكتبت قبلت؛ لم ينعقد هكذا في النهر الفائق.

 رد المحتار ط الحلبي (3/ 12):

(قوله: ولا بكتابة حاضر) فلو ‌كتب ‌تزوجتك ‌فكتبت قبلت لم ينعقد بحر والأظهر أن يقول فقالت قبلت إلخ إذ الكتابة من الطرفين بلا قول لا تكفي ولو في الغيبة، تأمل.

(قوله: فتح) فإنه قال ينعقد النكاح بالكتاب كما ينعقد بالخطاب. وصورته: أن يكتب إليها يخطبها فإذا بلغها الكتاب أحضرت الشهود وقرأته عليهم وقالت زوجت نفسي منه أو تقول إن فلانا كتب إلي يخطبني فاشهدوا أني زوجت نفسي منه، أما لو لم تقل بحضرتهم سوى زوجت نفسي من فلان لا ينعقد؛ لأن سماع الشطرين شرط صحة النكاح.

حسن علی عباسی

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

02/محرم الحرام /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب