| 87858 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
میں نے غصے کی حالت میں وائس میسج کے ذریعے اپنی بیوی سے کہا کہ میں اپنے والد سے بات کر کے تجھے طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں، تین آدمی گواہ بٹھا کر طلاق دوں گا طلاق دے کر رہوں گا، میں تجھے ضرور طلاق دوں گا، ضرور تجھے طلاق دے کر رہوں گا" اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا، کیاان الفاظ کہنے سے طلاق واقع ہو گئی یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق شوہر نے پہلے یہ الفاظ کہے کہ "میں والد سے بات کرکے تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں۔"یہ الفاظ اس نے طلاق کی تیاری اورصرف ارادے کے اظہار کے طور پر کہے ہیں،فوری طلاق دینے کے لیے استعمال نہیں کیے،ان الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ میں تھوڑی دیر تک والد سے مشورہ کر کے تمہیں طلاق دیتا ہوں، جیسے کوئی شخص کہے کہ میں والد سےمشورہ کر کے تمہیں قرض دیتا ہوں، تواس سے فوری قرض دینا مراد نہیں ہوتا، بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں تھوڑی دیر تک والد سے پوچھ کر قرض دیتا ہوں، اس لیے ان کلمات سے شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔پھر اس نے کہا "میں تجھے ضرور طلاق دوں گا، ضرور تجھے طلاق دے کر رہوں گا" ان جملوں میں اس نے صراحتاًمستقبل کے الفاظ استعمال کیے ہیں اور مستقبل کے الفاظ شرعاً انشاء طلاق کے لیے استعمال نہیں ہوتے، اس لیے ان الفاظ سے بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
لہذا فریقین کے درمیان فی الحال بدستور نکاح قائم ہے، البتہ شوہر پر لازم ہے کہ آئندہ کے لیے اس طرح کے الفاط ہرگز استعمال نہ کرے، کیونکہ اس طرح کے الفاظ عرف میں بغیر کسی شرط اورقیدکے ذکر کرنے سے شرعی طور پر فورا تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، پھر رجوع یا دوبارہ نکاح کی بھی گنجائش باقی نہیں رہتی، اس لیے طلاق اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے سے بچنا از حد ضروری ہے۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 384) الناشر: دار الفكر،بيروت:
في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
6/محرم الحرام1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


