03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رضاعت کب ثابت ہوتی ہے؟
87832رضاعت کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

  ایک چار ماہ کی بچی رو رہی تھی اور آس پاس اس کی والدہ موجود نہ تھیں، اس لیے اس کی خالہ نے اسے دودھ پلا دیا۔ تھوڑی دیر بعد والدہ بھی وہاں آ گئیں اور انہیں اس واقعے کا علم ہو گیا۔ اس کے علاوہ کوئی اور گواہ موجود نہیں تھا، بعد میں والدہ اور خالہ کے ذریعے یہ بات سب کو معلوم ہوئی۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں خالہ کے ساتھ رضاعت ثابت ہوگی یا نہیں؟ اورثبوت حرمت رضاعت کے لئے گواہ ضروری ہیں یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر کسی عورت نےڈھائی سال یا اس سے کم عمر بچے کو ایک مرتبہ بھی دودھ پلایا اور دودھ کا معمولی سا حصہ بھی بچے کے حلق میں پہنچ گیا، تو شرعی طور پر حرمتِ رضاعت ثابت ہو جاتی ہے، اس کےلئے گواہوں کا  ہونا ضروری نہیں  ہے،البتہ اگر دودھ پلانے کا انکار کیا جا رہا ہو تو دودھ پلانے کو ثابت کرنے کے لیے دو عادل مرد، یا ایک مرد اور دو عورتوں کی شرعی گواہی ضروری ہوتی ہے۔

صورتِ مسئولہ میں چونکہ کوئی انکار نہیں کر رہا بلکہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ خالہ نے بچی کو دودھ پلایا ہے، اس لیے رضاعت شرعاً  ثابت ہو گئی ہے اور خالہ اس بچی کی  رضاعی ماں ہے۔

حوالہ جات

«فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» (3/ 438):

«وفي الشرع: مص الرضيع اللبن من ثدي الآدمية في وقت مخصوص

أي مدة الرضاع المختلف في تقديرها (قوله قليل الرضاع وكثيره سواء إذا تحقق في مدة الرضاع تعلق به التحريم) وبه قال مالك؛»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 347):

«‌الرضاع ‌يظهر ‌بأحد ‌أمرين ‌أحدهما ‌الإقرار ‌والثاني ‌البينة ‌كذا ‌في ‌البدائع ولا يقبل في الرضاع إلا شهادة رجلين أو رجل وامرأتين عدول كذا في المحيط»

«المبسوط» للسرخسي (5/ 136):

«ثم اختلف العلماء في المدة التي تثبت فيها حرمة الرضاع، فقدر أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - بثلاثين شهرا وأبو يوسف ومحمد - رحمهما الله تعالى - قدرا ذلك بحولين وزفر قدر ذلك بثلاث سنين، فإذا وجد الإرضاع في هذه المدة تثبت الحرمة وإلا فلا،..... وأبو حنيفة - رحمه الله تعالى - استدل بقوله تعالى: {وحمله وفصاله ثلاثون شهرا} [الأحقاف: 15] وظاهر هذه الإضافة يقتضي أن يكون جميع المذكور مدة لكل واحدة منهما إلا أن الدليل قد قام على أن مدة الحبل لا تكون أكثر من سنتين فبقي مدة الفصال على ظاهره، وقال الله تعالى: {فإن أرادا فصالا عن تراض منهما وتشاور} [البقرة: 233] الآية فاعتبر التراضي والتشاور في الفصلين بعد الحولين فذلك دليل على جواز الإرضاع بعد الحولين، وقال الله تعالى: {وإن أردتم أن تسترضعوا أولادكم فلا جناح عليكم} [البقرة: 233] قيل بعد الحولين إذا أبت الأمهات، ولأن اللبن كما يغذي الصبي قبل الحولين يغذيه بعده والفطام لا يحصل في ساعة واحدة لكن يفطم درجة فدرجة حتى ينسى اللبن ويتعود الطعام، فلا بد من زيادة على الحولين بمدة، وإذا وجبت الزيادة قدرنا تلك الزيادة بأدنى مدة الحبل، وذلك ستة أشهر اعتبارا للانتهاء بالابتداء، وبهذا يحتج زفر - رحمه الله تعالى - .»

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

6/ محرم الحرام /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب