| 87900 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
شوہر کا بیان :
آج سے تقریباً دس سال پہلے میں نے اپنی بیوی کو ایک بار ان الفاظ میں طلاق دی تھی: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔" پھر اس کے ایک دن بعد رجوع کر لیا تھا۔
اب بیوی کی نافرمانی، بدتمیزی، اور ضد کی وجہ سے میں نے کہا: "جب تم میری کوئی بات نہیں مانتی اور اپنی مرضی کرتی ہو، تو جو تمہارا دل کرے وہ کرو، میری طرف سے تم آزاد ہو، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔
میرے دل میں کوئی غلط نیت نہیں تھی، نہ ہی طلاق دینے کا ارادہ تھا۔ مگر اب میری بیوی کہتی ہے کہ دو ماہ پہلے جو تم نے کہا: "میں نے تم کو آزاد کیا"، اس سے رشتہ ختم ہو گیا۔حالانکہ میرا ایسا کوئی ارادہ یا نیت نہیں تھی۔بیوی کا کہنا ہے کہ دس سال پہلے تم نے ایک نہیں بلکہ دو طلاقیں دی تھیں، لہٰذا ہمارا رشتہ باقی نہیں رہا۔
بیوی کا بیان :
شوہر نے اپنے بیان میں لکھا ہے کہ دس سال پہلے صرف ایک طلاق دی تھی اور بعد میں رجوع کر لیا تھا، جبکہ یہ جھوٹ ہے،اس وقت دو بار طلاق دی گئی تھی اور باقاعدہ نام کے ساتھ دی گئی تھی، جس کی گواہ میری خالہ تھیں۔
طلاق کی وجہ شوہر کے غیر عورتوں سے تعلقات تھے۔ جب میں نے اس معاملے پر بات کی، تو مجھے طلاق دے دی گئی۔
اس کے بعد مجھے ابھی ستمبر میں تیسری طلاق دی ،جس میں الفاظ یہ تھے: "تم میری طرف سے آزاد ہو، دفع ہو جاؤ اس گھر سے۔"ہم دونوں کے درمیان گزشتہ تین سال سے کوئی ازدواجی تعلق قائم نہیں ہے۔ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے، ہم الگ الگ کمروں میں رہتے تھے۔برائے مہربانی !اس مسئلے کو حل کریں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید جاننا چاہیے کہ میاں اور بیوی کے درمیان طلاق کے معاملے میں اختلاف کی صورت میں دیانت اور قضاء کا حکم علیحدہ علیحدہ ہے، قضاءً مرد کا قول اور دیانتاً عورت کا قول معتبر ہوتا ہے، قضاءً کا مطلب یہ ہے کہ اگر معاملہ عدالت میں پہنچ جائے اور عورت کے پاس اپنے دعوی پر گواہ نہ ہوں تو قاضی مرد سے قسم لے کر اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا اور اس صورت میں خاوند اگر جھوٹا ہوا تو اس کا گناہ اور وبال اسی پر ہو گا اوردیانتاً یعنی "فیما بینہ وبین اللہ" شرعاً عورت اس کے لیے حلال نہیں ہو گی۔ دیانتاً کا مطلب یہ ہے کہ اگر عورت خودخاوند سے تین طلاق کے الفاظ سن لے یا اس کو کسی عادل اور دیندار آدمی کے خبر دینے سے شوہر کی طرف سے تین طلاقیں دینے کا یقین ہو جائے تو وہ شرعاً اپنی ذات کے حق میں اسی پر عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے اور اس کے لیے خاوند کو اپنے اوپرہمبستری وغیرہ کے لیےقدرت دینا اور اس کے ساتھ رہنا ہرگز جائز نہیں ہوتا۔( بعض فقہائے کرام نے طلاقِ بائن کا بھی یہی حکم لکھا ہے، کیونکہ اس طلاق سے بھی نکاح فورا ختم ہو جاتا ہے اور عورت مرد پر حرام ہو جاتی ہے کذا فی البحرالرائق)۔کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے یہ اصول بیان فرمایا ہے:"المرٲة کالقاضی" یعنی عورت کا حکم قاضی کی طرح ہے، مطلب یہ کہ جس طرح قاضی ظاہری صورتِ حال کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند ہوتا ہے، اسی طرح عورت پربھی خاوند کے ظاہری الفاظ کے مطابق عمل کرنا لازم ہے، اگرچہ عدالت گواہی نہ ہونے کی وجہ سے خاوند کے حق میں فیصلہ کردے،کیونکہ ایسی صورت میں عورت درحقیقت دیانت پر ہی عمل کرنے کی پابند ہے۔
اسی طرح"تم آزاد ہو " ان کنائی الفاظ میں سےہے جن سے مذاکرہ طلاق یا غصے کی حالت میں بلا نیت ایک طلاق بائن واقع ہوتی ہے۔
لہٰذاصورتِ مسؤلہ میں اگر بیوی غلط بیانی سے کام نہیں لے رہی، بلکہ واقعتاً خاوند نےآج سے دس سال قبل دو طلاقیں دی تھیں،تو دیانتاً بیوی کی بات معتبر مانی جائے گی اور بیوی کے بیان کےمطابق دو طلاق رجعی واقع ہوگئی تھیں، لیکن ایک دن بعد رجوع کرنے سے میاں بیوی کا نکاح برقرار تھا اور شوہر کے پاس صرف ایک طلاق دینے کا اختیار بچا تھا۔
جب ستمبر 2024میں شوہر نے بیوی کے بیان کے مطابق یہ الفاظ کہے" تم میری طرف سے آزاد ہو، دفع ہو جاؤ اس گھر سے۔" تو اس سے تیسری طلاق واقع ہوگئی ہےاور مجموعی اعتبار سےاب عورت پر تین طلاقیں واقع ہوکر فریقین کے درمیان نکاح ختم ہوچکا ہےاورعورت پر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، حرمتِ مغلظہ کا مطلب یہ ہے کہ اب فریقین کے درمیان رجوع نہیں ہو سکتا اورموجودہ صورتِ حال میں دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا اور یہ اہلِ السنۃ والجماعت یعنی حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کا متفقہ مسئلہ ہے، اس لیے اب ان دونوں کا اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں۔ اور عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے، البتہ اگر یہ عورت اپنے سابقہ خاوند (جس نے تین طلاقیں دی ہیں ) سے ہی نکاح کرنا چاہے تو اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ عورت عدت گزارنے کے بعد غیرمشروط طور پرکسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ خاوند عورت سے ہمبستری بھی کرے، پھر وہ اپنی رضامندی سے عورت کو طلاق دیدے یا وہ وفات پا جائے تو اُس خاوند کی عدت گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر
کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔
نوٹ:
واضح رہے کہ عورت کے پاس گواہ نہ ہونے کی بناء پراگرخاوندعدالت میں حلفیہ بیان دیدے تو قضاءً عورت پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی اور قضاءً فی نفسہ یہ حکم درست ہے،کیونکہ قاضی ظاہر کا مکلف ہوتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ عدالت کے مرد کے حق میں فیصلہ کرنے کے بعدکیا عورت مرد کے لیے حلال ہو گی یا نہیں؟ تو اس کے بارے میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے تصریح کی ہے کہ اگر قاضی مرد کی قسم کا اعتبار کرتے ہوئے تین طلاق کے عدمِ وقوع کا فیصلہ کر دے تو بھی عورت مرد کے لیے شرعًا و دیانتاً حلال نہیں ہو گی اور اس کا مرد کو ہمبستری وغیرہ کے لیے اپنے اوپر قدرت دینا ہرگز جائز نہیں ہو گا، چنانچہ عدالت کے فیصلہ کے بعد بھی عورت مرد کے لیے شرعاً حلال نہیں ہو گی۔البتہ اس پر سوال ہوتا ہے کہ قاضی کے مرد کے حق میں فیصلہ کرنے کی صورت میں عورت مرد سے کیسے علیحدہ رہے گی؟ تو فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اس کی دو صورتیں ذکر کی ہیں:
ایک یہ کہ عورت مرد کو کچھ مال دے کر اپنی جان چھڑالے۔
دوسری یہ کہ اس کے گھر سے بھاگ کر اپنے والدین یا کسی محرم رشتہ دار کے ہاں پناہ لے لے۔
اگر عورت ان میں سے کسی پر بھی قادر نہ ہو اور مرد اس سے زبردستی ہمبستری کرنے کی کوشش کرے تو ایسی صورت میں سارا گناہ مرد کو ہو گا، بشرطیکہ عورت ہمبستری پر راضی نہ ہو، ورنہ وہ بھی گناہگار ہو گی۔البتہ آج کل پاکستان کی عدالتیں چونکہ قانونی اعتبار سےعورت کے قول کے مطابق عمل کرنے کی پابند ہیں، اس لیے بہتر یہ ہے کہ اگر خاوند عورت کو زبردستی اپنے ساتھ رہنے پر مجبور کرے تو ایسی صورت میں عورت قانونی چارہ جوئی کے لیے عدالت سے رجوع کرکے تنسیخِ نکاح کی ڈگری لے سکتی ہے۔(ماخوذ از تبویب بتغییر: 81638)
حوالہ جات
صحيح البخاري (3/ 168، رقم الحدیث: 2639):
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة رضي الله عنها: جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: كنت عند رفاعة، فطلقني، فأبت طلاقي، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب، فقال: «أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك"۔
تبيين الحقائق (2/ 198) دار الكتب الإسلامي:
لو قال لها أنت طالق ونوى به الطلاق عن وثاق لم يصدق قضاء ويدين فيما بينه وبين الله تعالى لأنه خلاف الظاهر والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها۔
الأصل المعروف بالمبسوط للشيباني (3/ 157) إدارة القرآن والعلوم الإسلامية، كراتشي:
إن سمعته طلقها ثلاثا ثم جحد وحلف أنه لم يفعل فردها القاضي عليه لم يسعها المقام معه ولا يسعها أن تعتد وتتزوج لأن الحاكم حكم بأنها زوجته فلا ينبغي لها أن تتزوج غيره فتركب بذلك أمرا حراما عند المسلمين تكون به عندهم فاجرة ولا يشبه هذا فيما وصفت لك قضاء القاضي به فيما يختلف فيه مما يرى الزوج فيه خلاف ما يرى القاضي.
الدر المختار مع رد المحتار (306/3، ط: دار الفكر) :
الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) قوله بشرط العدة) هذا الشرط لا بد منه في جميع صور اللحاق، فالأولى تأخيره عنها.
الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 376):
قال: "ولو أن امرأة أخبرها ثقة أن زوجها الغائب مات عنها، أو طلقها ثلاثا أو كان غير ثقة وأتاها بكتاب من زوجها بالطلاق، ولا تدري أنه كتابه أم لا. إلا أن أكبر رأيها أنه حق" يعني بعد التحري "فلا بأس بأن تعتد ثم تتزوج"؛ لأن القاطع طارئ ولا منازع.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/421):
(لها قتله) بدواء خوف القصاص، ولا تقتل نفسها. وقال الأوزجندي: ترفع الأمر للقاضي، فإن حلف ولا بينة فالإثم عليه، وإن قتلته فلا شيء عليها. والبائن كالثلاث، وفيها شهدا أنه طلقها ثلاثا لها التزوج بآخر للتحليل لو غائبا انتهى. قلت: يعني ديانة. والصحيح عدم الجواز قنية، وفيها: لو لم يقدر هو أن يتخلص عنها ولو غاب سحرته وردته إليها لا يحل له قتلها، ويبعد عنها جهده (وقيل: لا) تقتله، قائله الإسبيجابي (وبه يفتى) كما في التتارخانية وشرح الوهبانية عن الملتقط أي، والإثم عليه كما مر.
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 62):
إن سمعته طلقها ثلاثا ثم جحد، وحلف أنه لم يفعل، وردها القاضي عليه لم يسعها المقام معه، ولم يسعها أن تتزوج بغيره أيضا. والحاصل أنه جواب شمس الإسلام الأوزجندي ونجم الدين النسفي والسيد أبي شجاع وأبي حامد والسرخسي يحل لها أن تتزوج بزوج آخر فيما بينها وبين الله تعالى، وعلى جواب الباقين لا يحل انتهى، وفي الفتاوى السراجية إذا أخبرها ثقة أن الزوج طلقها، وهو غائب وسعها أن تعتد وتتزوج، ولم يقيده بالديانة، والله أعلم.
قال المصنف - رحمه الله - وقد نقل في القنية قبل ذلك عن شرح السرخسي ما صورته طلق امرأته ثلاثا، وغاب عنها فلها أن تتزوج بزوج آخر بعد العدة ديانة ونقل آخر أنه لا يجوز في المذهب الصحيح اهـ.
قلت إنما رقم لشمس الأئمة الأوزجندي، وهو الموافق لما تقدم عنه، والقائل بأنه المذهب الصحيح العلاء الترجماني ثم رقم بعده لعمر النسفي، وقال حلف بثلاثة فظن أنه لم يحنث، وعلمت الحنث، وظنت أنها لو أخبرته ينكر اليمين فإذا غاب عنها بسبب من الأسباب فلها التحلل ديانة لا قضاء قال عمر النسفي سألت عنها السيد أبا شجاع فكتب أنه يجوز ثم سألته بعد مدة فقال إنه لا يجوز، والظاهر أنه إنما أجاب في امرأة لا يوثق بها اهـ.
الفتاوى الهندية (5/ 313) دار الفكر،بيروت:
وإذا شهد شاهدان عند المرأة بالطلاق، فإن كان الزوج غائبا وسعها أن تعتد وتتزوج بزوج آخر، وإن كان حاضرا ليس لها ذلك، ولكن ليس لها أن تمكن من زوجها، وكذلك إن سمعت أنه طلقها ثلاثا وجحد الزوج ذلك وحلف فردها عليه القاضي لم يسعها المقام معه، وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه، وإن لم تقدر على ذلك قتلته، وإذا هربت منه لم يسعها أن تعتد وتتزوج بزوج آخر، قال شمس الأئمة السرخسي - رحمه الله تعالى -: ما ذكر أنها إذا هربت ليس لها أن تعتد وتتزوج بزوج آخر جواب القضاء، أما فيما بينها وبين الله تعالى - فلها أن تتزوج بزوج آخر بعد ما اعتدت، كذا في المحيط.
الدر المختار (3/ 298):
"فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث :ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا .(فنحو: اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي ،تخمري، استتري ،انتقلي، انطلقي ،اغربي، اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية ،برية، حرام، بائن) ومرادفها كبتة، بتلة (يصلح سبا، ونحو: اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري ،أمرك بيدك، سرحتك، فارقتك،لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما. مجتبى.
(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا .
(وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو؛ لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية؛ لأنها أقوى لكونها ظاهرة".
قال ابن عابدین رحمہ اللہ :"(قوله: فنحو: اخرجي واذهبي وقومي) أي من هذا المكان لينقطع الشر فيكون ردا أو لأنه طلقها فيكون جوابا. ...(قوله: لا يحتمل السب والرد) أي بل معناه الجواب فقط ح أي جواب طلب الطلاق أي التطليق .فتح.(قوله: توقف الأولان) أي ما يصلح ردا وجوابا وما يصلح سبا وجوابا ولا يتوقف ما يتعين للجواب.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
01/محرم الحرام/7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


