| 88026 | مضاربت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
میں اپنے دوست کے ساتھ کاروبار کر رہا ہوں۔ میرے دوست کی ذمہ داری سرمایہ فراہم کرنا ہے، جبکہ میری ذمہ داری افراد کی بھرتی اور ان سے کام لینا ہے۔ ہم دونوں کا منافع میں 50،50 فیصد حصہ ہے۔ میرا سوال یہ ہےکہ ہمیں ہر سال ایک سالانہ رپورٹ تیار کرنی ہوتی ہے، جو ہم ایک کمپنی سے بنواتے ہیں اور یہ بات ہم دونوں کے علم میں ہے اور وہ کمپنی اس کام کے عوض ہم سے 20,000 روپے وصول کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر میں یہ رپورٹ خود تیار کرلوں تو کیا وہ 20,000 روپے میں خود رکھ سکتا ہوں؟
تنقیح : سائل سے فون پر بات کرنے سے معلوم ہوا کہ وہ اور ان کا دوست موبائل ایپلیکیشنز وغیرہ تیار کرتے ہیں اور انہیں مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ حاصل شدہ منافع دونوں کے درمیان برابر برابر (آدھا آدھا) تقسیم ہوتا ہے۔ سرمایہ کاری سے مراد یہ ہے کہ جن افراد کو سائل ایپلیکیشنز بنانے کے لئے کام پر رکھتا ہے، ان کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات مثلاً ایڈورٹائزمنٹ(اشتہار) کا خرچ وغیرہ اس کا دوست برداشت کرتا ہے۔ یعنی ابتداء سے لے کر انتہا تک تمام مالی اخراجات وہی ادا کرتا ہے۔ سائل کی ذمہ داری ماہر افراد کو ہائر کرنا اور ان سے کام لینا ہے۔ سال کے آخر میں ایک رپورٹ بھی تیار کرنی ہوتی ہے، جس میں کمپنی کے پورے سال کے اخراجات، منافع وغیرہ کا حساب شامل ہوتا ہے۔ یہ کام وہ لوگ ایک کمپنی سے کرواتے ہیں اور اس کا معاوضہ بھی ادا کرتے ہیں، جب کہ اصولاً یہ ذمہ داری سائل کی ہوتی ہے، جو آگے یہ کام کرنے کے لیے ایک کمپنی کو ہائر کرتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ صورتِ مسئولہ میں آپ اور آپ کے دوست کے درمیان جو معاملہ ہے، وہ دراصل مضاربت کا ہے۔ مضاربت میں نفع اور اجرت دونوں کو جمع نہیں کیا جا سکتا، یعنی مضارب (کام کرنے والا شریک) کسی کام کے بدلے اپنے لیے الگ سے اجرت مقرر نہیں کر سکتا، بلکہ وہ صرف نفع میں شریک ہوتا ہے ۔لیکن اگر رب المال (سرمایہ فراہم کرنے والا) اور مضارب (کام کرنے والا) باہمی رضامندی سے کسی مضارب کو متعین اجرت کے بدلے ایسا کام سونپ دیں جو براہِ راست مضاربہ کے کاموں میں شامل نہ ہو، تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔بشر طیکہ یہ معاہدہ عقد مضاربہ سے علیحدہ طور پر ہو، اور اگر اسے دی گئی ذمہ داری سے سبکدوش کیا جاتا ہے تو مضاربہ کا عمل اس سے متاثر نہ ہو۔
صورتِ مسئولہ میں ایپلیکیشنز تیار کرنے سے لے کر انہیں مارکیٹ میں فروخت کرنے اور اس کی حساب کتاب تک کی تمام ذمہ داری آپ پر ہے، اس کے بدلے آپ نفع میں شریک ہیں۔ لہٰذا ایپلیکیشنز تیار کرنے سے متعلق جو بھی کام ہوگا، وہ آپ کی بنیادی ذمہ داری میں شامل ہےاور اس کے بدلے الگ سے اجرت لینا آپ کے لیے جائز نہیں۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (4/ 287):
(وأما الشروط) الفاسدة فمنها ما تبطل المضاربة ومنها ما لا تبطلها بنفسها إذا قال رب المال للمضارب لك ثلث الربح وعشرة دراهم في كل شهر عملت فيه للمضاربة فالمضاربة جائزة والشرط باطل كذا في النهاية. فإن عمل على هذا الشرط فربح فالربح على ما اشترطا ولا أجر للمضارب في ذلك.
المعاییر الشرعیۃ(المضاربۃ)
٢/٨ الأصل عدم جواز الجمع بين الربح في المضاربة والأجرة، على أنه إذا اتفق الطرفان على قيام أحدهما بعمل ليس من أعمال المضاربة بأجر محدد وكان الاتفاق بعقد منفصل عن عقد المضاربة بحيث تبقى إذا تم عزله عن ذلك العمل فلا مانع من ذلك شرعًا.
جمیل الرحمن
دارالافتاء، جامعۃ الرشید کراچی
/11 محرم الحرام /7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمن بن عبدالودود | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


