03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرآن پر ہاتھ رکھ کر کیے گئے عہد کا شرعی حکم
87955قسم منت اور نذر کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

کوئی شخص مصلحت کے تحت قرآن پر ہاتھ رکھ کر یہ عہد یا وعدہ کرے کہ "میں یہ کام کروں گا"، لیکن بعد میں وہ کام نہ کرے اور دل بھی نہ مانے، جیسے شادی کرنے کا عہد کیا تھا مگر اب دل نہیں مان رہا تو کیا ایسی قسم یا عہد توڑا جا سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ زبان سے قسم کے الفاظ بولے بغیر محض قرآن پاک پر ہاتھ رکھنے سے قسم منعقد نہیں ہوتی۔اس لئے اگراس  شخص نے باقاعدہ زبان سے قرآن یا اللہ کا نام لے کر قسم نہیں کھائی، بلکہ محض قرآن پر ہاتھ رکھ کر مذکورہ جملہ بولا  تھا کہ "میں شادی کروں گا" تو ان الفاظ سے شرعاً کوئی قسم منعقد نہیں ہوئی ،لیکن اگراس شخص    نے قرآن مجید  پر ہاتھ رکھ کر  قسم کے الفاظ کے ساتھ یہ الفاظ کہے تھے  کہ " میں شادی کروں گا  " توپھر ان الفاظ سے قسم منعقد ہوچکی ہے۔اب  جب تک وہ نکاح سے بالکل نا اُمید نہ ہو جائے اور نکاح کا کوئی امکان باقی نہ رہے، اُس وقت تک اس  کی قسم نہیں ٹوٹے گی اورکسی قسم کا کوئی کفارہ  بھی نہیں آئے گا،البتہ جب اس کی  زندگی کی آخری سانسیں چلنے لگیں اوراس وقت تک اس نے نکاح نہ کیا توپھر اس   کی قسم ٹوٹ جائے گی اورقسم کا کفارہ لازم ہوگا۔

قسم توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ دس مساکین کو صبح  اور شام (دو وقت) پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جائے یا دس مساکین میں سے ہر مسکین کو پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت دیدی جائے، یا دس مسکینوں کو ایک ایک جوڑا کپڑوں کادے دیا جائے، اور اگر قسم کھانے والا غریب ہے اور مذکورہ امور میں سے کسی پر اس کو استطاعت نہیں تو پھر کفارہ قسم کی نیت سے مسلسل تین دن تک روزے رکھنے سے بھی قسم کا کفارہ ادا ہوجائے گا۔

حوالہ جات

القرآن (المائدة: 89) :

﴿ لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمانِكُمْ وَلكِنْ يُؤاخِذُكُمْ بِما عَقَّدْتُمُ الْأَيْمانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعامُ عَشَرَةِ مَساكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمانِكُمْ إِذا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمانَكُمْ كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آياتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾

الدر المختار  (3/ 712)::

(لا) يقسم (بغير الله تعالى كالنبي والقرآن والكعبة) قال الكمال: ولا يخفى أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فيكون يمينا. وأما الحلف بكلام الله فيدور مع العرف. وقال العيني: وعندي أن المصحف يمين لا سيما في زماننا.

البحر الرائق  (4/ 311)::

(قوله: والنبي والقرآن والكعبة) أي لا يكون حالفا بها؛ لأن الحلف بالنبي والكعبة حلف بغير الله تعالى لقوله - صلى الله عليه وسلم - «من كان حالفا فليحلف بالله، أو ليذر» والحلف بالقرآن غير متعارف مع أنه يراد به الحروف والنقوش، وفي فتح القدير: ثم لا يخفى أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فيكون يمينا كما هو قول الأئمة الثلاثة.

جمیل الرحمن

 دارالافتاء، جامعۃ الرشید کراچی

/11 محرم الحرام /7144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمن بن عبدالودود

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب