| 87958 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
میں زاہد الیاس Artistic Milliners پورٹ قاسم کمپنی سے آپ کے پاس ایک مسئلہ لے کر حاضر ہوا تھا اور استاذ جی حسین خلیل خیل صاحب سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔ مذکورہ کمپنی Artistic Milliners نے ایک زمین 2021 میں خریدی تھی۔ جس میں ایک مسجد ہے اور اس مسجد میں باقاعدہ جمعۃ المبارک کی نماز بھی ادا کی جاتی ہے۔ہم اب یہ مسجد، کمپنی کی حدود میں ہی دوسری جگہ منتقل کرنا چاہتے ہیں اور موجودہ مسجد کی جگہ بوائلر مشین لگانا چاہتے ہیں۔آج کل انڈسٹری میں گیس کی قیمتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ بغیر اس بوائلر کے کمپنی چلانا نا ممکن ہے۔ کمپنی میں 750 لوگ ملازمت کرتے ہیں اور یہ مسجد میں صرف کمپنی کے لوگ ہی نماز ادا کرتے ہیں، ہم نئی مسجد تعمیر کرنا چاہتے ہیں جو کہ موجودہ مسجد سے بڑی ہوگی اور موجودہ مسجد کو شہید کر کے اس کی جگہ بوائلر مشین لگانا چاہتے ہیں ۔برائے مہربانی اس مسئلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مسجد کا استبدال یعنی جس جگہ مسجد قائم ہو اس جگہ کے بدلے کوئی اور جگہ مسجد منتقل کرنا اور پہلے سے قائم مسجد کی جگہ کو کسی اور مصرف میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے،اس لیے کہ جب کوئی شخص کسی جگہ کو مسجد کے طور پر وقف کردے تو وہ جگہ قیامت تک مسجد ہی شمار ہوتی ہے،لہٰذا فقط بوائلر مشین لگانے کے لیے پہلے سے قائم شدہ مسجد کو شہید کرنا جائز نہیں ہے،کمپنی کے ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ بوائلر مشین لگانے کے لیے کسی دوسری جگہ کا انتظام کریں۔اگردوسری جگہ بوائلر مشین لگانے میں کچھ اضافی اخراجات بھی ہوجائیں تو یہ اقدام ان شاء اللہ شریعت کے حکم پر عمل کرنے کی وجہ سے باعث ثواب ہونے کے ساتھ ساتھ باعثِ برکت بھی ہوگا۔
یاد رہے یہ حکم اس وقت ہے جبکہ مسجد کے لیے مذکورہ جگہ باقاعدہ وقف کی گئی ہو،فقط مختص نہ کی گئی ہو جیسا کہ مختلف کاروباری جگہوں پر نماز پڑھنے کی جگہ مختص کی جاتی ہے جسے مصلّی کہتے ہیں،لیکن مسجد کے طور پر نہیں کی جاتی،لہٰذا اگر مذکورہ جگہ مسجد کے لیے باقاعدہ وقف نہیں کی گئی تھی بلکہ فقط نماز پڑھنے کے لیے مختص کی گئی تھی تو ایسی صورت میں اس جگہ کو نماز کے لیے ختم کرکے اس کے متبادل دوسری جگہ مقرر کی جاسکتی ہے۔
حوالہ جات
الفقه الميسر (6/ 252)
ويرى الجمهور من الحنفية والمالكية والشافعية أنه إذا كان الوقف مسجدًا فلا يجوز استبداله.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 358)
(ولو خرب ما حوله واستغني عنه يبقى مسجدا عند الإمام والثاني) أبدا إلى قيام الساعة (وبه يفتي) حاوي القدسي.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 358)
(قوله: ولو خرب ما حوله) أي ولو مع بقائه عامرا وكذا لو خرب وليس له ما يعمر به وقد استغنى الناس عنه لبناء مسجد آخر (قوله: عند الإمام والثاني) فلا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر، سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى حاوي القدسي، وأكثر المشايخ عليه مجتبى وهو الأوجه فتح.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 271)
وقال أبو يوسف هو مسجد أبدا إلى قيام الساعة لا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى كذا في الحاوي القدسي وفي المجتبى وأكثر المشايخ على قول أبي يوسف ورجح في فتح القدير قول أبي يوسف بأنه الأوجه.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
11.محرم1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


