03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مردار اور حرام جانور کے اجزاء پر مشتمل کاسمیٹک مصنوعات کے استعمال کا شرعی حکم
88050جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

اگر کسی کاسمیٹک پروڈکٹ (مثلاً:  کریم، لوشن، لپ اسٹک) مردار اور حرام جانور کے اجزاءشا مل ہوں ، تو کیا ایسے پروڈکٹ کا استعمال جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

   واضح رہے کہ شرعاً کسی چیز کے داخلی استعمال (Internal Use) کے لیے اس کا پاک ہونے کے ساتھ ساتھ حلال ہونا بھی ضروری ہے، جبکہ خارجی استعمال (External Use) کے لیے صرف پاک ہونا کافی ہے، حلال ہونا ضروری نہیں، بشرطیکہ ان کے استعمال میں کوئی اورشرعی  خرابی(نشہ یاضرر وغیرہ) نہ ہوں۔

(1) مردار جانور (یعنی وہ حلال جانور جس کو شرعی طریقے سے ذبح نہ کیا گیا ہو) اور حرام جانور (یعنی جن کا گوشت کھانا شرعاً جائز نہیں) کے تمام اجزاء ناپاک، نجس اور حرام ہوتے ہیں۔

لہٰذا اگر کسی کاسمیٹک پروڈکٹ (مثلاً: کریم، لوشن، لپ اسٹک وغیرہ) میں مردار یا حرام جانور کے ناپاک اجزاء شامل ہوں، تو ایسے پروڈکٹ کا داخلی (Internal) اور خارجی (External) دونوں استعمال شرعاً جائزنہیں ہے۔

البتہ  ان کے وہ    اعضاء جودباغت دینے سے پاک ہو جاتے ہیں، جیسے :کھال ،اوجھ اور مثانہ وغیرہ،اگر ان کو دباغت دینےکے بعد ان کے اجزاء کو پروڈکٹ میں شامل کیے گئے ہوں تو ایسے پروڈکٹ کا صرف خارجی (External) استعمال جائزہے،داخلی استعمال جائز نہیں،بشرطیکہ ان کے استعمال میں کوئی اورشرعی  خرابی(نشہ یاضرر وغیرہ) نہ ہوں۔

(2) جانور کے وہ اجزاء جن میں خون سرایت نہیں کرتا، جیسے:ہڈیاں، سینگ، کُھر، اُون اور بال وغیرہ،( خنزیر کے علاوہ خواہ یہ اجزاء زندہ جانور سے حاصل کیے گئے ہوں، یا مذبوحہ یا مردار جانور سے) یہ سب اجزاء حنفیہ کے نزدیک پاک شمار ہوتے ہیں ۔البتہ اگر یہ اجزاء مردار جانور(یعنی وہ حلال جانور جس کو شرعی طریقہ پر  ذبح نہ کیا گیا ہو) سے لیےگئے ہوں، تو وہ پاک اور حلال دونوں ہوں گے اور اگر حرام جانور (یعنی جن کا گوشت کھانا شرعاً جائز نہیں) سے لیے گئے ہوں، تو وہ صرف پاک ہوں گے، حلال نہیں ہوں گے۔

لہذااگر کسی کاسمیٹک پروڈکٹ (کریم، لوشن، لپ اسٹک وغیرہ) میں ایسے اجزاء شامل ہوں جو پاک اور حلال دونوں ہوں، تو اس پروڈکٹ کا داخلی اور خارجی استعمال دونوں جائز ہیں، بشرطیکہ ان کے استعمال میں کوئی اورشرعی  خرابی(نشہ یاضرر وغیرہ) نہ ہوں۔اور اگر کسی کاسمیٹک پروڈکٹ میں ایسے اجزاء شامل ہوں جو حرام تو ہوں مگر ناپاک نہ ہوں، تو ان کا صرف خارجی استعمال جائز ہے، داخلی استعمال جائز نہیں، بشرطیکہ ان کے استعمال میں کوئی اورشرعی  خرابی(نشہ یاضرر وغیرہ) نہ ہوں۔

استعمال کے ناجائز ہونے کاجو  حکم  ذکر کیا گیا وہ اس وقت ہے جب کسی پروڈکٹ کی تیاری میں نجس و حرام سےحاصل شدہ اجزاء میں "انقلابِ ماہیت" (یعنی حقیقت و ماہیت کی مکمل تبدیلی) نہ ہوا ہو۔ لیکن اگر  اجزاء کی حقیقت و ماہیت کیمیائی عمل یا کسی اور ذریعے سے اس حد تک تبدیل ہو جائے کہ وہ اپنی اصل پہچان اور اثرات کھو بیٹھے، تو ایسی صورت میں وہ پروڈکٹ شرعاً پاک اور حلال شمار ہوگی، اور اس کا داخلی (Internal) و خارجی (External) استعمال جائز ہوگا۔اور اگر ان نجس و حرام  اجزاء کی حقیقت تبدیل نہ ہوئی ہو یا  ان کے وہ اعضاء جو دباغت دینے سے پاک ہوجاتےہیں(جیسے کھال،اوجھ،اور مثانہ وغیرہ) ان کو دباغت نہ دی گئی ہو، تو وہ بدستور نجس و حرام ہوں گے اورجن مصنوعات میں  وہ شامل ہوں گی  ،ان کا استعمال بھی شرعاً  ناجائز اور حرام  ہوگا۔

حوالہ جات

« القرآن » (البقرة : 173):

«إِنَّما حَرَّمَ ‌عَلَيْكُمُ ‌الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَما أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ».

«التفسير المظهري» (1/ 168):

«‌واجمعوا ‌على ‌انه ‌لا ‌يجوز ‌بيع ‌الميته ‌ولا ‌أكل ‌ثمنه ‌ولا ‌الانتفاع ‌بشحمه ‌ولا ‌بجلده ‌قبل ‌الدباغ»

«أحكام القرآن للجصاص ط العلمية» (1/ 130):

«وكان ذلك دليلا على تأكيد حكم التحريم، فإنه يتناول سائر وجوه المنافع، ولذلك قال أصحابنا: ‌لا ‌يجوز ‌الانتفاع ‌بالميتة ‌على ‌وجه ‌ولا ‌يطعمها ‌الكلاب والجوارح لأن ذلك ضرب من الانتفاع بها، وقد حرم الله الميتة تحريما مطلقا معلقا بعينها مؤكدا به حكم الحظر فلا يجوز الانتفاع بشيء منها إلا أن يخص شيء منها بدليل يجب التسليم له.»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (1/ 203):

«قوله ومثله المثانة والكرش) المثانة موضع البول، والكرش: بالكسر وككتف لكل مجتر بمنزلة المعدة للإنسان قاموس، ومثله الأمعاء.

‌وفي ‌البحر ‌عن ‌التجنيس: أصلح أمعاء شاة ميتة فصلى وهي معه جاز؛ لأنه يتخذ منها الأوتار وهو كالدباغ. وكذلك لو دبغ المثانة فجعل فيها لبن جاز، وكذلك الكرش إن كان يقدر على إصلاحه.»

«فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» (1/ 97):

«لنا فيها أن المعهود فيها حالة الحياة الطهارة، وإنما يؤثر الموت النجاسة فيما تحله ولا تحلها الحياة فلا يحلها الموت، ‌وإذا ‌لم ‌يحلها وجب الحكم ببقاء الوصف الشرعي المعهود لعدم المزيل،»

«مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح» (ص70):

«"وكل شيء" ‌من ‌أجزاء ‌الحيوان ‌غير ‌الخنزير "لا يسري فيه الدم لا ينجس بالموت" لأن النجاسة باحتباس الدم وهو منعدم فيما هو "كالشعر والريش المجزوز" لأن المنسول جذره نجس "والقرن والحافر والعظم ما لم يكن به" أي العظم "دسم" أي ردك لأنه نجس من الميتة فإذا زال عن العظم زال عنه النجس والعظم في ذاته طاهر لما أخرج الدارقطني إنما حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم من الميتة لحمها فأما الجلد والشعر والصوف فلا بأس به "والعصب نجس في الصحيح" من الرواية لأن فيه حياة بدليل التألم بقطعه وقيل طاهر لأنه عظم غير صلب»

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

11/ محرم الحرام /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب