03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جانور کی چربی سے تیار کردہ کاسمیٹک مصنوعات کے استعمال کا شرعی حکم
88051جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

جانور کی چربی  (Animal Fat)سے بنی کریم ،لپ اسٹک  وغیرہ  کا استعمال کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟اور اگر وہ جانور غیر مذبوحہ ہو تو اس کی چربی (Animal Fat)سے بنی کریم ،لپ اسٹک  وغیرہ  کا استعمال کرنے کا کیا حکم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں، اگر جانور حلال ہو اور اسے شرعی طریقے سے ذبح کر کے اس سے چربی حاصل کی گئی ہو، تو ایسی چربی سے تیار کردہ کریم، لپ اسٹک یا دیگر کاسمیٹک مصنوعات کا استعمال شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ ان کے استعمال میں کوئی اور شرعی خرابی (جیسے: نشہ، نقصان یا ضرر) نہ پائی جائے۔

لیکن  اگر وہ چربی حرام  جانور سے حاصل کی گئی ہو، یا کسی ایسےحلال جانورسے جس  کو شرعی طریقے سے ذبح نہ کیا گیا ہو، تو   ایسی چربی سے تیار کردہ مصنوعات کا استعمال بھی شرعاً  ناجائز اور حرام  ہوگا۔

 استعمال کے ناجائز ہونے کا جو حکم  ذکر کیا گیا وہ اس وقت ہے جب کسی پروڈکٹ کی تیاری میں  حاصل شدہ اجزاءمیں "انقلابِ ماہیت" (یعنی حقیقت و ماہیت کی مکمل تبدیلی) نہ ہوا ہو۔ لیکن اگر  چربی کی حقیقت و ماہیت کیمیائی عمل یا کسی اور ذریعے سے اس حد تک تبدیل ہو جائے کہ وہ اپنی اصل پہچان اور اثرات کھو بیٹھے، تو ایسی صورت میں وہ پروڈکٹ شرعاً پاک اور حلال شمار ہوگی، اور اس کا داخلی (Internal) و خارجی (External) استعمال جائز ہوگا۔

اور   اگر چربی کی حقیقت تبدیل   نہ ہوئی ہو تو وہ بدستور نجس و حرام ہوں گے اورجن مصنوعات میں  وہ شامل ہوں گی،

ان کا استعمال بھی شرعاً  ناجائز اور حرام  ہوگا۔

حوالہ جات

«صحيح البخاري» (2/ 779):

«عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما:

أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول عام الفتح، وهو بمكة: (إن الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير، والأصنام). فقيل: يا رسول الله، ‌أرأيت ‌شحوم ‌الميتة، فإنها يطلى بها السفن، ويدهن بها الجلود، ويستصبح بها الناس؟ فقال: (لا، هو حرام). ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك: (قاتل الله اليهود إن الله لما حرم شحومها جملوه، ثم باعوه، فأكلوا ثمنه).

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (5/ 73):

(قوله بخلاف الودك) أي دهن الميتة؛ لأنه جزؤها فلا يكون مالا ابن ملك: أي فلا يجوز بيعه اتفاقا، وكذا الانتفاع به لحديث البخاري «إن الله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام، قيل: يا رسول الله أرأيت شحوم الميتة فإنه يطلى بها السفن ويدهن بها الجلود ويستصبح بها الناس؟ قال: لا، هو حرام» الحديث (قوله كعصبها وصوفها) أدخلت الكاف عظمها وشعرها وريشها ومنقارها وظلفها وحافرها فإن هذه الأشياء طاهرة لا تحلها الحياة فلا يحلها الموت، ‌ويجوز ‌بيع ‌عظم ‌الفيل ‌والانتفاع ‌به ‌في ‌الحمل ‌والركوب ‌والمقاتلة ‌منح ‌ملخصا ط.

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (1/ 316):

«وعبارة المجتبى: جعل الدهن النجس في صابون يفتى بطهارته؛ لأنه تغير والتغير يطهر عند محمد ويفتى به للبلوى. اهـ. وظاهره أن دهن الميتة كذلك لتعبيره بالنجس دون المتنجس إلا أن يقال هو خاص بالنجس؛ لأن العادة في الصابون وضع الزيت دون بقية الأدهان تأمل، ثم رأيت في شرح المنية ما يؤيد الأول حيث قال: وعليه يتفرع ما لو وقع إنسان أو كلب في قدر الصابون فصار صابونا يكون طاهرا لتبدل الحقيقة. اهـ.ثم اعلم أن العلة عند محمد هي التغير وانقلاب الحقيقة وأنه يفتى به للبلوى كما علم مما مر، ومقتضاه عدم اختصاص ذلك الحكم بالصابون، فيدخل فيه كل ما كان فيه تغير وانقلاب حقيقة وكان فيه بلوى عامة،»

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

11/ محرم الحرام 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب