| 87976 | طلاق کے احکام | طلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان |
سوال
ایک لڑکا اور لڑکی کا نکاح ہو ا،رخصتی نہیں ہوئی ،موبائل پر رابطہ تھا۔کچھ دنوں بعد لڑکی والوں کو معلوم ہوا کہ لڑکا برے کاموں میں مبتلا ہے۔شراب وغیرہ بھی پیتا ہے،غنڈہ گردی بھی کرتا ہےاور چھپ کر دوسری شادی بھی کی ہوئی ہے۔تو لڑکی والوں نے لڑکے کو بلایا اور لڑکی کو طلاق دینے کا کہااور کہا کہ لڑکی کاآپ کے ساتھ گزارہ نہیں ہوسکتا۔ لڑکا نہ طلاق دینے کو تیار تھا اور نہ خلع کے پیپر پر دستخط کرنےکو۔لیکن جب لڑکی والوں نے زبردستی کی تو لڑکے کو غصہ آیا اور اس نے تین مرتبہ لڑکی کا نام لے کر یوں طلاق دی:میں ۔۔۔۔کو طلاق دیتا ہوں ۔طلاق کے الفاظ وہاں موجود لڑکی کے ماموں اور والد نے بھی سنے اور لڑکی نے دوسرے کمرے میں ہوتے ہوئے سنے ۔جب لڑکے کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو وہ اپنی بات سے انکار کرنے لگا اور کہنے لگا کہ آپ لوگوں کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے کہ میں نے طلاق دی ہےاور نہ اس کی کہیں اور شادی ہونے دوں گا،اس کے علاوہ بھی دھمکیاں دیں۔لڑکی کے گھر والوں نے قانونی کاروائی کرتے ہوئے خلع کے پیپرز لیےاور وکیل کے ذریعہ لڑکے کو دستخط کرنے کے لیے بھیجے تاکہ لڑکی والوں کے پاس ثبوت ہو۔لیکن لڑکے نے دستخط نہیں کیے۔خلع کے پیپرز پر صرف لڑکی کے دستخط ہیں۔کیا ان دونوں کے درمیان طلاق ہوگئی ہےیا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب لڑکے نے زبان سے تین طلاقیں دی ہیں تو یہ تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں ۔اب لڑکے کے انکار کرنے سے طلاق کے وقوع پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔لڑکے کا مذکورہ رویہ شریعت کے خلاف اور ظالمانہ ہے۔ بہرحال جب شرعاً طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور اس پر گواہ موجود ہیں تو اب لڑکی کے اولیاء کے لیے شرعاً یہ جائز نہیں کہ لڑکی اس کے حوالہ کریں۔ان پر لازم ہے کہ فوراً تفریق کرائیں اور دوسری جگہ جہاں چاہیں لڑکی کا نکاح کرادیں۔سائل کا بیان اگر واقع کے مطابق ہے تو یہاں چونکہ طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ،اس لیے قانونی تحفظ کے لیے یکطرفہ عدالتی خلع لینا بھی کافی ہے۔
حوالہ جات
والمرأة كالقاضي، لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاھد عادل.
( الفتاوی الھندیۃ:1/354)
قال العلامۃ الحصکفی رحمۃ اللہ علیہ: (و) نصابها (لغيرها من الحقوق سواء كان) الحق (مالا أو غيره كنكاح وطلاق ...رجلان ...أو رجل وامرأتان) (رد المحتار:5/465)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية. (الفتاوی الھندیة 1/ 473(
فإن امتنع عن الحضور، سمعت البينة وحكم بها. (المبدع في شرح المقنع:8/ 208)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
13/محرم الحرام1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


