| 88080 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں میک اپ آرٹسٹ ہوں اوراپنے گھر پر پارٹی میک اپ کرتی ہوں لیکن مجھے کلائنٹ حاصل کرنے میں مشکل پیش آرہی ہےکیونکہ لوگ مجھے جانتے نہیں ہیں اور کسی کو بتاتی بھی ہوں تو وہ میرے کام کی تصاویر طلب کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پیج (Page)کا پوچھتے ہیں۔تصاویر کے مسائل کی وجہ سے میں نے ابھی تک کوئی پیج (Page)وغیرہ نہیں بنایا ،لیکن ایسے کرنے سے مجھے کام نہیں مل رہا۔کیا میں کوئی کلوزڈ پیج(Closed Page) بنا سکتی ہوں جس میں صرف خواتین کو شریک کروں اور اس میں اپنے کام کی تصاویر آویزاں کردوں جسے دیکھ کر لوگ مجھ سے رابطہ کریں۔ کیا یہ صورت اختیار کرنے کی گنجائش ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جائز کاموں کی تشہیر ایک جائز امر ہے،لیکن اس کے لئے خواتین کو ذریعہ بنانا یہ شریعت مطہرہ کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہے۔مذکورہ کام میں خواتین کے مختلف اعضاء (ہونٹ، رخسار،ہاتھ،پیر) کی تصاویر نشر کرنا لازم آ ئے گا،جواگرچہ شرعی تصویر کے حکم میں داخل نہیں؛ لیکن شریعت کی تعلیمات (ستر، حیاء اور عورت کی کرامت) کے خلاف ہیں، اس لیے خواتین کے صرف ان اعضاء کو بھی تشہیر اور مارکیٹنگ کے لیے استعمال کرنا اور نشر کرناجائز نہیں۔(مستفاد از تبویب جامعۃ الرشید:79644)
جہاں تک مذکورہ تجویز (Closed Page/Group)کی بات ہے تو اس میں بھی اس بات کی یقین دہانی مشکل ہے کہ مذکورہ تصاویر صرف خواتین تک ہی محدود رہیں، کیونکہ گروپ میں موجود دیگر خواتین شریکات کے یہاں سے آگے نشر ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔
اس کی ایک جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ آپ اپنے کام کی تشہیر ابتدائی طور سے تحریری شکل میں کریں ،اور کام سے متعلق اپنی کلائنٹس(عمیلات) کے اطمینان بخش تاثرات آویزاں کریں ،اور اگر کوئی خاتون تصاویر کےلئے اصرار کریں تو ان کو ایسے طریقے سے بھیجیں کہ انکے دیکھتے ہی وہ تصاویر ان کے پاس سے محو(Delete) ہوجائیں۔
حوالہ جات
القرآن الکریم(المائدة:2):
وتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ .
شرح معاني الآثار - الطحاوي (4/ 287):
عن أبي هريرة رضي الله تعالیٰ عنه قال : الصورة الرأس، فكل شيء ليس له رأس، فليس بصورة.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 55):
(لا تصح الإجارة لعسب التيس) وهو نزوه على الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح
والملاهي)…وفي المنتقى: امرأة نائحة أو صاحبة طبل أو زمر اكتسبت مالا ردته على أربابه إن علموا وإلا تتصدق به، وإن من غير شرط فهو لها: قال الإمام الأستاذ لا يطيب، والمعروف كالمشروط اهـ. قلت: وهذا مما يتعين الأخذ به في زماننا لعلمهم أنهم لا يذهبون إلا بأجر ألبتة .
حماد الدین قریشی
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
14 /محرم/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


