03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ویب سائٹس وزٹ کرنے پر ملنے والے ڈالرز کا حکم
88048اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

Jezidex، Rollobix، Casrix، Floxspin، TellToken، Bitrase، Conastar اور Finebitex ،جیسی ویب سائٹس کو کھولنے اور ان میں مخصوص پرومو کوڈ لگانے پر ڈالر یا بٹ کوائن دیے جاتے ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا ایسے ذرائع سے حاصل کیے گئے ڈالرز یا  بٹ کوائن شرعاً جائز ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

انٹرنیٹ پر تحقیق کے بعد یہ بات واضح ہوئی کہ مذکورہ تمام ویب سائٹس درحقیقت آن لائن جوئے (قمار) کی ویب سائٹس ہیں۔ ان ویب سائٹس کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ انہیں وزٹ کریں تاکہ ان کی ٹریفک (Traffic) بڑھے۔ اس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ویب سائٹ کو بہت سے لوگ دیکھ رہے ہیں، جس کا مقصد مزید افراد کو متوجہ کرنا اور کمپنیوں کو دکھانا ہوتا ہے کہ ان کی ویب سائٹ پر وزیٹرز کی تعداد زیادہ ہے، تاکہ لوگ (کسٹمر)زیادہ سے زیادہ ان ویب سائٹس پر رجسٹرڈ ہوں اورکمپنیاں اپنی مصنوعات کے اشتہارات ان سے کروائیں۔حالانکہ یہ تمام امور حقیقت کے خلاف اور صریح دھوکہ دہی پر مبنی ہوتے ہیں۔

نیز اجارہ (کرایہ داری یا معاہدۂ خدمات) میں "منفعتِ مقصودہ" کا پایا جانا ضروری ہے اور ان ویب سائٹس کو صرف وزٹ کرنا یا پرومو کوڈ ڈالنا ایسی کوئی معقول منفعت نہیں ہے جسے اجارہ میں معتبر قرار دیا جائے، اس لئے یہ اجارہ شرعاً فاسد اور باطل ہے۔لہذا اس طرح کی ویب سائٹس پر رجسٹرڈ ہونا، انہیں وزٹ کر کے پیسے کمانا یا اس قسم کی آمدنی حاصل کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے، کیونکہ یہ سب کام دھوکہ دہی، قمار اور باطل طریقے سے  کمائی پر مبنی ہیں۔

حوالہ جات

«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص569):

«(هي) لغة: اسم للاجرة، وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال: أعظم الله أجرك، وشرعا: (تمليك نفع).مقصود من العين (بعوض) ‌حتى ‌لو ‌استأجر ‌ثياباأو ‌أواني ‌ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالاجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لانها منفعة غير مقصودة من العين.بزازية.»

«سنن الترمذي» (3/ 598):

«عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: «يا صاحب الطعام، ما هذا؟»، قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس»، ثم قال: «من غش فليس منا» وفي الباب عن ابن عمر، وأبي الحمراء، وابن عباس، وبريدة، وأبي بردة بن نيار، وحذيفة بن اليمان: حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح والعمل على هذا عند أهل العلم كرهوا الغش، وقالوا: الغش حرام. »

«السنن الكبرى - البيهقي» (5/ 432 ط العلمية):

«عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم أِيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ، أَوْ أَفْضَلُ؟، قَالَ: " ‌عَمَلُ ‌الرَّجُلِ ‌بِيَدِهِ ‌وَكُلُّ ‌بَيْعٍ ‌مَبْرُورٍ "» ".

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

14/ محرم الحرام /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب