| 88084 | خرید و فروخت کے احکام | خریدی ہوئی چیز میں خرابی )عیب( نکلنے کے متعلق احکام |
سوال
ایک شخص کوئی ڈیجیٹل چیز جیسے موبائل، لیپ ٹاپ یا کوئی اور مشین فروخت کرتا ہے۔ اس کے علم میں ہے کہ اس میں عیب ہے اور وہ عیب ایسا ہے کہ ماہر فن ہی اس کو معلوم کر سکتا ہے، عام آدمی کے لیے اس کو تلاش کرنا ممکن نہیں ہے۔ اب بائع خریدار سے یہ کہتا ہے کہ میں ہر عیب سے بری ہوں، خریدار اس کے باوجود اس کو خرید لیتا ہے تو اگرچہ حنفیہ کے نزدیک بائع کا اس طرح بیچنا جائز ہے،مگر کیا علم ہونے کے باوجود اس طرح بیچنا دھوکہ دہی کے زمرے میں نہیں آتا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں فروخت کنندہ کےاپنے لیے ہرعیب سے بری ہونے کی شرط پر عیب دارچیز فروخت کرنے میں اگر خریدار کی اس پررضامندی ہوتو فقہی اعتبار سے یہ معاملہ لازم ہوجائے گا،مگرفروخت کنندہ کو یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ ایک عام خریدار اس عیب کو معلوم نہیں کرسکتا اوراس عیب کی وجہ سے خریدار کا واضح نقصان بھی ہے، تو ایسی صورت میں اس کا عیب سے آگاہ نہ کرتے ہوئے اپنے لیے عیب سے بری ہونے کی شرط لگاکر معاملہ کرنا دھوکہ دہی سے خالی نہیں ہے۔
فروخت کی گئی چیز یا قیمت میں عیب چھپانے اور معاملے میں دھوکہ دہی سے کام لینے کو فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے حرام اور گناہِ کبیرہ لکھا ہے۔نیز احادیثِ مبارکہ میں دھوکہ دینے والے کی مسلمانوں کے طرزِ عمل پر ہونے سے نفی کی گئی ہےاور اس کےدھوکہ دہی کے عمل کو تجارت میں بےبرکتی کا سبب قراردیا گیا ہے،لہذا ایسےتاجر کو اپنے اس فعل سے توبہ کرکے آئندہ سچائی کا اہتمام کرنا چاہیے۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (3/ 58)
باب إذا بين البيعان ولم يكتما ونصحا ،ويذكر عن العداء بن خالد، قال: كتب لي النبي صلى الله عليه وسلم: هذا ما اشترى محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم، من العداء بن خالد، بيع المسلم من المسلم، لا داء ولا خبثة، ولا غائلة. . .وقال عقبة بن عامر: لا يحل لامرئ يبيع سلعة يعلم أن بها داء إلا أخبره.حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن صالح أبي الخليل، عن عبد الله بن الحارث، رفعه إلى حكيم بن حزام رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " البيعان بالخيار ما لم يتفرقا، - أو قال: حتى يتفرقا - فإن صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما، وإن كتما وكذبا محقت بركة بيعهما ".
صحيح مسلم (1/ 99)
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب وهو ابن عبد الرحمن القاري ح، وحدثنا أبو الأحوص محمد بن حيان، حدثنا ابن أبي حازم، كلاهما عن سهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا.
الفتاوى الهندية (3/ 94)
البيع بالبراءة من العيوب جائز في الحيوان وغيره، ويدخل في البراءة ما علمه البائع وما لم يعلمه وما وقف عليه المشتري وما لم يقف عليه، وهو قول أصحابنا رحمهم الله تعالى، سواء سمي جنس العيوب أو لم يسم أشار إليه أو لم يشر، ويبرأ عن كل عيب موجود به وقت البيع وما يحدث بعده إلى وقت التسليم في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى ، وقال محمد رحمه الله تعالى: لا يبرأ عن العيب الحادث ،كذا في شرح الطحاوي.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:5/ 47)
لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام...(قوله: لأن الغش حرام) ذكر في البحر أو الباب بعد ذلك عن البزازية عن الفتاوى: إذا باع سلعة معيبة، عليه البيان، وإن لم يبين قال بعض مشايخنا: يفسق وترد شهادته، قال الصدر: لا نأخذ به. اهـ. قال في النهر: أي لا نأخذ بكونه يفسق بمجرد هذا؛ لأنه صغيرة. اهـ قلت: وفيه نظر؛ لأن الغش من أكل أموال الناس بالباطل، فكيف يكون صغيرة؟ بل الظاهر في تعليل كلام الصدر أن فعل ذلك مرة بلا إعلان لا يصير به مردود الشهادة، وإن كان كبيرة كما في شرب المسكر.
الموسوعة الفقهية الكويتية (5/ 292-31/ 218،219)
الكتمان. الإخفاء: يقال: كتمت زيدا الحديث: أي أخفيته عنه، فهو ضد الإفشاء ...الغش بالكسر في اللغة نقيض النصح، يقال: غش صاحبه: إذا زين له غير المصلحة،وأظهر له غير ما أضمر، ولبن مغشوش:أي مخلوط بالماء(لسان العرب والمصباح المنير).ولا يخرج استعمال الفقهاء عن المعنى اللغوي ... اتفق الفقهاء على أن الغش حرام سواء أكان بالقول أم بالفعل، وسواء أكان بكتمان العيب في المعقود عليه أو الثمن أم بالكذب والخديعة،وسواء أكان في المعاملات أم في غيرها من المشورة و النصيحة .
تسہیل بہشتی زیور( 2/172مکتبہ الحجاز کراچی )
بیچتے وقت کسی نے کہہ دیا کہ خوب دیکھ بھال کر لے لو،اگر بعد میں کوئی عیب نکلے یا خراب ہوتو میں ذمہ دار نہیں ہوں گا،اس طرح کہنے کے بعد بھی اس نے لے لیا تو اب چاہے جتنے عیب اس میں نکلیں اس کو واپس کرنے کا اختیار نہیں اور اس طرح بیچنا بھی درست ہے۔اتنی وضاحت کر دینے کے بعد عیب بتانا بھی واجب نہیں۔
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
14/محرم 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


