03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کے مطالبہ طلاق پر “میں نے دے دی”کہنے سے طلاق واقع ہونے  کا حکم
88009طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

زوجہ نے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: ’’آپ مجھے دو طلاقیں دے چکے ہیں، اب آپ دوسری شادی کرلیں گے"،شوہر نے اُسے ٹالنے کے لیے کہا: ’’ہاں!  کرلوں گا"۔اس پر زوجہ نے کہا: ’’تو مجھے تیسری بھی دے دیں‘‘۔شوہر نے نیت کے بغیر محض ٹالنے کے لیے کہا: ’’میں نے دے دی"۔

تو کیا شوہر کے ان الفاظ سے تیسری طلاق بھی واقع ہو گئی؟جبکہ یہاں نہ لفظ ِطلاق موجود ہے  اور نہ شوہر کی نیتِ طلاق۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں شوہر کا بیوی کے صریح طلاق (تو مجھے تیسری بھی دے دیں)کے مطالبہ پر  "میں نے دےدی"    کہنےسے ایک  اور طلاق واقع ہوگئی ہے ۔بیوی پر مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں اور وہ اپنے شوہر پر حرمتِ  مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے،  رجوع جائز نہیں اور تجدیدِ نکاح کی بھی اجازت نہیں ہے۔ عدت کے گزرنے کے بعد بیوی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔ اگر وہ دوسری جگہ نکاح کرتی ہے اور شوہر ازدواجی تعلق قائم کرنے کے بعد از خود طلاق دے دیتاہے یا اس کا انتقال ہوجاتاہے اور اس کی عدت بھی گزر جاتی ہے تو پھر پہلے شوہر سے نئے مہر کے ساتھ نکاح  جائز ہوگا۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 356):

وفي المنتقى امرأة قالت لزوجها طلقني ‌فقال ‌الزوج ‌قد ‌فعلت ‌طلقت.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 187):

وأما ‌الطلقات ‌الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛

    حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   14  /محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب