| 88038 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
ایک کمپنی ایسی ڈیجیٹل اسکرینز فروخت کرتی ہے جو عموماً سڑکوں کے درمیان کھمبوں پر نصب کی جاتی ہیں اور ان پر اشتہارات نشر کیے جاتے ہیں، تاہم یہ اشتہارات فحش یا غیر شرعی نہیں ہوتے۔ کمپنی اسکرین فروخت کرنے کے بعد خریدار کو اس پر مکمل قبضہ بھی دیتی ہے اور باقاعدہ تحریری دستاویز پر دستخط کے ساتھ اس کی ملکیت منتقل کر دیتی ہے۔
اس کے بعد خریدار کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اسکرین خود گھر لے جا کر استعمال کرے، یا وہی اسکرین دوبارہ اسی کمپنی کو کرائے پر دے دے۔ جس پرکمپنی ایسے اشتہارات چلاتی ہےکہ ان میں فحش یا غیر شرعی مواد شامل نہیں ہوتا۔
کرائےپردینےکی صورت میں کمپنی خریدار سےباقاعدہ ایک الگ "اجارہ معاہدہ" کرتی ہے ۔ اگراجارہ چھ ماہ کے لیے ہو تو کمپنی اسکرین کےمالک کو ماہانہ 20,000 روپے کرایہ دیتی ہےاوراگر اجارہ دو سال کے لیے ہو تو ماہانہ 30,000روپے کرایہ دیتی ہے۔ اجارہ کی مدت مکمل ہونے پر مالک کو تین اختیارات دیے جاتے ہیں:اسکرین دوبارہ اجارہ پر دے دے،اسکرین واپس لے لےیا کمپنی وہ اسکرین اسی قیمت پر واپس خرید لے جس قیمت پر مالک نے وہ خریدی تھی۔
کیا اس طریقۂ کار کے مطابق کمپنی سے اسکرین خرید کر اسے کرایہ پر دینا شرعاً درست ہے؟ اگر نہیں، تو ایسی کون سی صورت ہو سکتی ہے جس کے ذریعے یہ معاملہ شرعاً جائز ہو جائے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اس طرح کی اسکیموں کے متعلق عمومی مشاہدہ اور تجربہ یہی بتاتا ہے کہ ان میں اکثر اوقات حقیقی طور پر کوئی مبیع (بیچنے کے لیے موجود مال) نہیں ہوتی۔ اکثر معاملات میں بیچنے والے کے پاس مال سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا، یا اگر ہوتا ہے تو بہت قلیل مقدار میں، جو صرف ظاہری اطمینان کے لیے دکھایا جاتا ہے۔لہذا بیع اور کرایہ کے نام سے صرف کاغذی کارروائی کی بنیاد پر خریدار سے رقم وصول کی جاتی ہے اور کرایہ کے نام پر رقم پر رقم دی جاتی ہے جو شرعاً سود اور ناجائز ہے ۔ بعض اوقات ایک ہی چیز (مبیع) بیک وقت کئی افراد کو فروخت کر کےان سے رقم لیتے ہیں اور پھر یہ رقم مختلف ناجائز آن لائن کاروباروں، مثلاً: فاریکس ٹریڈنگ، کرپٹو کرنسی، اور ملٹی لیول مارکیٹنگ جیسی اسکیموں میں لگا دی جاتی ہے، جن میں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کچھ حصہ "کرایہ" کے نام پر گاہک کو واپس دیا جاتا ہے، تاکہ اس طرح نظام چلتا رہے ۔ حقیقت میں یہ صرف دکھاوے کے چند اسکرینز یا آلات ہوتے ہیں، جو گاہک کو مطمئن کرنے کے لیے رکھے گئے ہوتے ہیں، جبکہ پس پردہ مکمل طورپرغیرشرعی اور ناجائز کاروبار چل رہاہوتاہے۔اکثر اوقات جب حقیقت سامنے آنے لگتی ہے یا قانون کی گرفت کا اندیشہ ہوتا ہے تو یہ لوگ تمام اسکیم سمیٹ کر فرار ہو جاتے ہیں۔
لہٰذا ان حالات کو دیکھتے ہوئے ایسے مشکوک اسکیموں کے متعلق بغیر مشاہدہ اور اطمینان کے جواز کا فتویٰ نہیں دیا جاسکتا۔لہذا عوام الناس کو چاہیے کہ دھوکہ دہی اور مالی خسارے سے بچنے کے لیے اس طرح کی اسکیموں سے مکمل اجتناب کریں،جب تک مستند مفتیانِ کرام کی نگرانی یقینی نہ ہو کسی اس طرح کی اسکیم میں شریک نہ ہوں ۔
البتہ اگر واقعۃً کسی اسکیم کا طریقۂ کار یہ ہو کہ کمپنی کے پاس واقعی اسکرین موجود ہوں،کمپنی اُن اسکرینز خریدار کو مکمل قبضہ، ملکیت، اور اختیار کے ساتھ فروخت کرے،پھر کمپنی اس مبیع (اسکرین) کو خریدار سے ایک الگ، آزاد، اور غیر مشروط اجارہ کے معاہدہ کے تحت کرایہ پر واپس لےاور آغاز ہی میں کمپنی خریدار سے یہ وعدہ کرے کہ اجارہ مکمل ہونے کے بعد وہ اسکرین دوبارہ خریدے گی اور یہ واپسی خریداری اجارے کے اختتام کے بعد نیا معاہدہ تصور کیا جائےتو یہ پوری ترتیب شرعاً جائز ہے۔البتہ دو اہم شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:
اگر کمپنی خریدار سے یہ وعدہ کرے کہ وہ اجارے کے اختتام پر اسی قیمت پر اسکرین دوبارہ خریدے گی جس پر وہ پہلے فروخت کی گئی تھی، تو یہ صورت شرعاً ناجائز ہوگی؛ کیونکہ اگر کسٹمر دوبارہ کمپنی کو اسی قیمت پرفروخت کرے گا تو اس میں قیمت کی حفاظت کی شرط شامل ہو جاتی ہے ،اس کے بجائے جائز صورت یہ ہے کہ کمپنی یہ طے کرے کہ وہ اجارے کے بعد مارکیٹ ریٹ یا باہمی رضامندی سے متعین شدہ قیمت پر دوبارہ خریداری کرے گی۔یاد رہے کہ مذکورہ طریقہ کار میں لازم ہے کہکمپنی صرف اتنی ہی اسکرینز فروخت کرے جتنی کی وہ واقعی مالک ہو،اجارے پر لی ہوئی اسکرین کو کسی اور کو فروخت کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ ایسی چیز کی بیع ہوگی جو کمپنی کی ملکیت میں نہیں، جو کہشرعاً ناجائز اور حرام ہے۔
خریدار کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنی خریدی ہوئی اسکرین کو کرایہ پر دے، بشرطیکہ اسے اطمینان ہو کہ یہ اسکرین فحش، ناجائز یا غیر شرعی مواد کی تشہیر کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی، بلکہ صرف جائز اور مباح نوعیت کے اشتہارات نشر کیے جائیں گے۔لیکن اگرخریدار کو پہلے سے علم ہو یا غالب گمان ہو کہ اسکرین فحش یا حرام مواد کی تشہیر کے لیے استعمال کی جائے گی تو ایسی صورت میں اس اسکرین کو کرایہ پر دینا شرعاً ناجائز ہوگا، کیونکہ یہ "تعاون علی الإثم" یعنی گناہ پر مدد کرنے کے زمرے میں آتا ہے، جس سے قرآن کریم میں صراحتاً منع فرمایا گیا ہے۔
یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اگرچہ مذکورہ بالا طریقہ کار اصولی طور پرجائز ہے، تاہم تجربہ اور مشاہدہ یہی بتاتا ہے کہ اس طرح کی اسکیموں کو چلانے والی کمپنیاں عملاً اس ترتیب پر عمل نہیں کرتیں۔ بلکہ مذکورہ بالا دھوکہ دہی کا طریقہ اختیار کرتی ہیں کہ جس میں وہ مبیع کی ملکیت کے بغیر اسے متعدد افراد کو بیچ کر رقم بٹور لیتی ہیں اورپھر ان رقوم کو غیر شرعی کاروباروں جیسے آن لائن فاریکس، کرپٹو یا ملٹی لیول مارکیٹنگ وغیرہ میں لگا دیا جاتا ہے۔
شرعی بے ضابطگیوں اور ناجائز سرمایہ کاری سے بچنے کے لیے لازم ہے کہ ان اسکیمز پر شرعی نگرانی ہو،اس لیے ضروری ہے کہ ہر ایسی کمپنی پر ایک باقاعدہ "شریعہ بورڈ"قائم کیا جائےجوحقیقی معنی میں مستند، تجربہ کار، اور دیانت دار مفتیان کرام پر مشتمل ہو، جو نہ صرف معاہدات، بیع و اجارہ کے ڈھانچے کا جائزہ لے، بلکہ عملی طریقہ کار اور مالیاتی لین دین کی بھی مستقل نگرانی کرےتاکہ کوئی بھی اسکیم صرف کاغذوں میں شرعی نظر نہ آئے، بلکہ اس پر عملی تطبیق بھی شریعت کے مطابق ہو۔
حوالہ جات
«سنن الترمذي» (3/ 598):
«عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: «يا صاحب الطعام، ما هذا؟»، قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس»، ثم قال: «من غش فليس منا» وفي الباب عن ابن عمر، وأبي الحمراء، وابن عباس، وبريدة، وأبي بردة بن نيار، وحذيفة بن اليمان: حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح والعمل على هذا عند أهل العلم كرهوا الغش، وقالوا: الغش حرام. »
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع.» (5/ 146):
« (ومنها) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عندالبيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده «، ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم.»
«مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح» (5/ 1937):
«والثاني: أن يبيع منه متاعا لا يملكه ثم يشتريه من مالكه ويدفعه إليه وهذا باطل لأنه باع ما ليس في ملكه وقت البيع، وهذا معنى قوله: قال (لا تبع ما ليس عندك) أي شيئا ليس في ملكك حال العقد.»
«صحيح البخاري» (5/ 2271):
«عن أبي هريرة رضي الله عنه،عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: (لا يلدغ المؤمن من جحر واحد مرتين).»
القرآن الکریم (5/ 2):
«وَتَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقابِ.» «مصنف ابن أبي شيبة» (13/ 51 ت الشثري):
«24784 - قال: وحدثني مسروق عن عبد اللَّه قال: لا (تصلح) صفقتان في صفقة.»
«مجلة مجمع الفقه الإسلامي) أحكام الودائع المصرفيةتأليف القاضي محمد تقي العثماني) (9/ 595 ):
«وإن لم يكن محركا وداعيا، بل موصلا محضا، وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في إقامة المعصية به إلى إحداث صنعة من الفاعل، كبيع السلاح من أهل الفتنة، وبيع العصير ممن يتخذه خمرا، وبيع الأمرد ممن يعصي به، وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر، أو يتخذها كنيسة أو بيت نار وأمثالها، فكله مكروه تحريما، بشرط أن يعلم به البائع والآجر من دون تصريح به باللسان، فإنه إن لم يعلم كان معذورا، وإن علم وصرح كان داخلا في الإعانة المحرمة.»
المعیار الشرعی رقم ۹:
۲/٣ يجوز تملك العين من شخص أو جهة ثم إجارتها نفسها إلى من تملكتها المؤسسة منه، ولا يجوز اشتراط الإجارة في البيع الذي حصل به تملك المؤسسة للعين۔
المعیار الشرعی رقم ۹:
۸/٥ إذا كانت العين المؤجرة مشتراة من المستأجر قبل إجارتها إليه إجارة منتهية بالتمليك فلا بد لتجنب عقد العينة من مضي مدة تتغير فيها العين المؤجرة أو قيمتها ما بين عقد الإجارة وموعد بيعها إلى المستأجر. ويسري ذلك على حالة التملك المبكر للعين بإبرام عقد بيع خلال مدةالإجارة وينظر البند (۱۷).
مہیم وقاص
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
14/ محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


