03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کے لئے خلع لینے کا حکم(شوہر طلاق دینے کے بجائے خلع پر راضی ہے)
88017طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

اگر شوہر خلع لینا چاہے تو کیا حکم ہے؟ میرے پاس موجود شواہد (یعنی غیر محرم سے رابطے، فرینڈ ریکویسٹ، پرانے چیٹ اسکرین شاٹس) شرعاً اس کے خلاف دلیل بن سکتے ہیں کہ نافرمانی اور زیادتی بیوی کی طرف سے پائی جارہی ہے ؟

تنقیح:سائل نے زبانی طور پر بتایا کہ: میں  اپنی بیوی کو  طلاق دینے پر راضی نہیں اور نہ ہی اب تک کوئی طلاق دی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ   اگر  میری بیوی  میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو مجھے خلع كے بدلے حق مہر واپس کردے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح کے بعد اگر میاں بیوی میں باہمی مفاہمت نہ ہو اور نکاح برقرار  رکھنا ممکن نہ ہو تو میاں بیوی دونوں باہمی رضا مندی سے  خلع  کر سکتے ہیں ۔ اگر نافرمانی بیوی کی طرف سے ہو تو شوہر خلع کے بدلے بیوی سے مہر یا مال لے سکتا ہے،لیکن اگر  نافرمانی بیوی کی طرف سے نہ ہو تب شوہر کے لئے خلع کے بدلے بیوی سے مہر واپس لینا یا مال لینا جائز نہیں ہے۔   

درج بالا تفصیلات اگر حقیقت پر مبنی ہیں تو اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بیوی شوہر کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی،لہذا  صورت مسئولہ میں  میاں بیوی دونوں باہمی رضا مندی سے  خلع  کرسکتے ہیں   ۔ شوہر کو  بیوی سے حق مہر واپس لینا یا مہر کے بقدر مال لینا  جائز ہے، کیونکہ   نافرمانی بیوی کی طرف سے پائی جارہی ہے۔لیکن مقرر کردہ مہر سے زیادہ مال لینا پسندیدہ نہیں ہے۔

حوالہ جات

القرآن الکریم[البقرة: 229] :

ﵟٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِيحُۢ بِإِحۡسَٰنٖۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَأۡخُذُواْ مِمَّآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ شَيۡـًٔا إِلَّآ أَن يَخَافَآ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِۦۗﵞ 

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 439):

‌‌باب الخلع (هو) لغة الإزالة، واستعمل في إزالة الزوجية بالضم وفي غيره بالفتح. وشرعا كما في البحر (إزالة ملك النكاح) خرج به الخلع في النكاح الفاسد وبعد البينونة والردة فإنه لغو كما في الفصول المتوقفة على قبولها) خرج ما لو قال: خلعتك - ناويا الطلاق - فإنه يقع بائنا غير مسقط للحقوق لعدم توقفه عليه، بخلاف خالعتك بلفظ المفاعلة، أو " اختلعي " بالأمر ولم يسم شيئا فقبلت فإنه خلع مسقط، حتى لو كانت قبضت البدل ردته خانية(بلفظ الخلع) خرج الطلاق على مال فإنه غير مسقط فتح، وزاد قوله (أو ما في معناه) ليدخل لفظ المبارأة فإنه مسقط كما سيجيء، ولفظ البيع والشراء فإنه كذلك كما صححه في الصغرى خلافا للخانية، وأفاد التعريف صحة خلع المطلقة رجعيا. (ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق(بما يصلح للمهر).

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 445):

(وكره) تحريما (أخذ شيء) ويلحق به الإبراء عما لها عليه (إن نشز وإن نشزت لا) ولو منه نشوز أيضا ولو بأكثر مما أعطاها على الأوجه فتح، وصحح الشمني كراهة الزيادة، وتعبير الملتقى لا بأس به يفيد أنها تنزيهية وبه يحصل التوفيق.

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

13/محرم الحرام /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب