03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
داڑھی کی حد ود
88010جائز و ناجائزامور کا بیانلباس اور زیب و زینت کے مسائل

سوال

میری داڑھی کے بال ٹھوڑی  پر کم ہیں اور گردن پر زیادہ ہیں، لیکن وہ بال نرخرہ  سے اوپر ہیں،  کیا میرے لیے نرخرہ پر موجود بال کٹوانا  جائز ہے ؟ مجھے ذرا تفصیل سے بتادیں کہ داڑھی کی شرعی حد کہاں سے کہاں تک ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کانوں کے پاس جہاں سے جبڑے کی ہڈی شروع ہوتی ہے یہاں سے داڑھی کی ابتدا ہےاورپورا جبڑا  داڑھی کی حد ہے، اور بالوں کی لمبائی کے لحاظ سے داڑھی کی مقدار ایک مشت ہے، اس سے زائد بال ہوں تو ایک مشت کی حد تک اس کو کاٹ سکتے ہیں، اسی طرح ٹھوڑی اور جبڑے کے علاوہ رخسار اور گردن کے بالوں کو صاف کرنا اور خط بنوانا جائز ہے ۔

نیز نچلے ہونٹ کے نیچے جو بال ہوتے ہیں ،جنہیں عرف میں ’’داڑھی  بچہ‘‘ کہا جاتا ہے، ، وہ ڈاڑھی کا حصہ ہیں۔ لہذا اُنہیں کاٹنا درست نہیں۔ البتہ اگر بہت زیادہ بڑھ جانے کی وجہ سے کھانے پینے میں حرج ہورہا ہو تو سنوارنا درست ہے۔

حوالہ جات

(بخاري، الصحيح، 5: 2209، رقم: 5553)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلیٰ الله عليه وآله وسلم قَالَ: خَالِفُوا الْمُشْرِکِينَ وَفِّرُوا اللِّحَی وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ. وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَی لِحْيَتِهِ فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ

(فیض الباري: 6/99)

قال العلامۃ الکشمیري رحمہ اللہ تعالی: فإن قطع الأشعار التي على وسط الشفة السفلى، أي العنفقة، بدعة، ويقال لها: «ريش بجه».

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

14/محرم الحرام/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب