03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جعلی سندات کی بنیاد پر حاصل کی گئی ملازمت کا حکم
88013جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

ایک  لڑکے نے میرے ساتھ زنا کیا ،میں نے اس سے کہا کہ مجھے کہیں سے مہر (Stamp) لا کر دو اور وہی مہر (Stamp) میں نے کچھ جعلی (Fake) سرٹیفیکیٹس پر لگائی اور دستخط (Sign) بھی اسی شخص نے خود کیے ،وہ سندیں (certificates)   کچھ شارٹ کورسز (Short Courses) کی تھیں،جن کے نام درج ذیل ہیں:

(1)Coral Draw

(2)Photoshop 7.0 & Photoshop Cs 7

(3)Adobe Illustrator CC

میں  ان میں سے صرف (Photoshop 7.0 & Photoshop Cs 7) تھوڑا بہت استعمال کر سکتا ہوں ،جبکہ (Coral Draw) اور (Adobe Illustrator CC) مجھے استعمال کرنا بالکل نہیں آتا۔

میں ایک بار بیرون ملک جا چکا ہوں، لیکن میں نے ان  اسناد(certificates)  سے متعلق (Related) کوئی ملازمت نہیں کی،بلکہ میں نے ائیرپورٹ میں ملازمت  کی تھی،اس کے علاوہ (Marhaba Runner) میں کچھ وقت کے لیے کام کیا تھا اور (Office Assistant/Administration Assistant) میں کچھ وقت کے لیے کام کیا تھا۔

اگر یہ اسناد (certificates) میں نے (CV) میں لکھے (Add) کیے ہو یا ان میں سے ایک سرٹیفکیٹ (Photoshop 7.0 یا  Photoshop Cs 7) (CV) کاحوالہ دیا ہو تو کیا جو تنخواہیں (Salaries) میں نے بیرون ملک  کام کرکے لی تھیں کیا وہ حرام ہوں گی یا حلال؟

اور اب پھر میں اسی ملک جہاں میں پہلے گیا تھا جانے کی کوشش کررہا ہوں لیکن کسی اور کام کے سلسلے میں،اب جس جگہ میں ملازمت  حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہوں ،میں نےان کو سابقہ تجربے کے بارے میں بتایا ہے کہ میں نے پہلے (Airport)،(Marhaba Runner) اور (Office Assistant Administration Assistant) میں کام کیا ہے۔

میں ان کو اپنا پچھلا ریکارڈ ای میل  کر چکا ہوں،جس میں درج ذیل دستاویزات شامل ہے:

Cancellation Paper -1

Emirates I'D -2

اور پرانا ویزہ (Previous Visa) جو کہ میں نے بیرون ملک (Out of Country) وقت گزرا تھا،اس بار میں نے (CV) میں ان  جعلی سندات (certificates) کا ذکر نہیں کیا۔

اب اگر میں بیرون ملک جاتا ہوں، چونکہ میں ان کو اپنا پچھلا سارا ریکارڈ ای میل کرچکا ہوں،تو کیا اس بار بیرون ملک (Out of Country) جانا میرے لیے ٹھیک ہے اور کیا اس بار میں جو وہاں کام کروں گا اور تنخواہیں (Salaries) لوں گا تو کیا وہ حرام ہوں گی یا حلال؟

  مجھے نہیں معلوم کہ وہ مہر (Stamp) اس شخص نے کسی دوست سے مفت بنوائی تھی،یا پیسے دے کر بنوائی تھی، کیونکہ وہ مہر (Stamp) استعمال کے بعد میں نے واپس کر دی تھی۔

اور مجھے نہیں معلوم کہ وہ مہر (Stamp) اس شخص نے مجھے غلط کام زنا بدکاری کے بدلے بناکر دی تھی،یا ویسے ہی دے دی تھی،اگر اس شخص نے مجھے وہ مہرزنا بدکاری کے بدلے میں دی تھی تو کیا  میری سابقہ کمائی حرام ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی ملازمت کے حصول کے لئے جعلی سندات پیش کرنا دھوکہ دہی ہےجو گناہ کبیرہ ہے ،البتہ اس طریقے سے حاصل کی گئی ملازمت کی تنخواہ کا حکم یہ ہے کہ اگر ملازمت کرنے والا ملازمت کا اہل ہو اور وہ دیانتداری کے ساتھ مفوضہ امور کو سرانجام دیتا ہو تو تنخواہ حلال ہوتی ہے۔

لہذا مذکورہ صورت میں بدفعلی کرنا اور جعلی سندات کی بنیاد پر ملازمت حاصل کرنا دونوں کبیرہ گناہ ہیں،جن پر آپ کےذمے سچے دل اور ندامت کے ساتھ کثرت سے توبہ واستغفارلازم ہے اور آئندہ کے لئے اس جیسے شنیع کاموں سے احتراز لازم ہے،البتہ جن جگہوں پر آپ نے ملازمت کی تھی،اگر آپ اس ملازمت کے اہل تھے اور دیانتداری کے ساتھ متعلقہ امور سرانجام دیا کرتے تھے تو ان کاموں کے عوض ملنے والی تنخواہ آپ کے لئے حلال تھی اور مستقبل میں کسی ملازمت کے حصول کے لئے ان سابقہ ملازمتوں کے تجربے کو اپنی سی وی کا حصہ بنانے میں کوئی حرج نہیں۔

حوالہ جات

"مسند أحمد " (28/ 502):

17265 –" حدثنا يزيد، حدثنا المسعودي، عن وائل أبي بكر، عن عباية بن رفاعة بن رافع بن خديج، عن جده رافع بن خديج، قال: قيل: يا رسول الله، أي الكسب أطيب؟ قال: «عمل الرجل بيده وكل بيع مبرور»".

قال الملا علی القاری رحمہ اللہ فی شرحہ:" (وعن رافع بن خديج قال: قيل: يا رسول ﷲ!أي الكسب) : أي أنواعه (أطيب) ؟ أي أحل وأفضل (قال: " عمل الرجل بيده) ، أي من زراعة أو تجارة أو كتابة أو صناعة (وكل بيع مبرور) : بالجر صفة بيع و (كل) عطف على (عمل) ، والمراد بالمبرور أن يكون سالما من غش وخيانة، أو مقبولا في الشرع بأن لا يكون فاسدا ولا خبيثا أي رديا، أو مقبولا عند الله بأن يكون مثابا به (رواه أحمد) وكذا البزار، ذكره ميرك".

"الفتاوى الهندية" (4/ 413):

"ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

14/محرم 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب